Chitral Times

Mar 3, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

موروثی سیاست کا تسلسل……….. محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

خیبر پختونخوا کے ضمنی انتخابات کے نتائج سامنے آگئے ہیں۔بنوں سے قومی اسمبلی کی اکلوتی نشست پر سابق وزیر اعلیٰ اکرم درانی کے فرزند ارجمند زاہد اکرم درانی کامیاب ہوئے۔نو صوبائی نشستوں میں سے چھ حکمران جماعت تحریک انصاف ، دو اے این پی اور ایک مسلم لیگ ن نے جیت لیں۔ضمنی انتخابات کے نتائج کافی حد تک غیر متوقع ہیں۔تحریک انصاف نے وزارت اعلیٰ کا منصب سوات کو دیا تو ضمنی انتخاب میں سوات سے دونوں نشستیں پی ٹی آئی حکومت کے ہاتھ سے نکل گئیں۔مردان سے سابق وزیراعلیٰ امیر حیدر ہوتی کی چھوڑی ہوئی نشست سے اے این پی کو محروم ہونا پڑا۔ دوسری طرف پشاور میں ہارون بلور شہید کی بیوہ نے غیر متوقع طور پر ضمنی انتخاب جیت کر اے این پی کو ایک اہم نشست دلادی۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے عوام نے شہداء کے رشتہ داروں کو جتوا کر ان کی قربانیوں کا اعتراف کرلیا ہے۔ضمنی انتخاب میں ووٹنگ کا ٹرن آوٹ بھی انتہائی کم رہا۔ عام طور پر جنرل الیکشن کے مقابلے میں ضمنی انتخاب میں لوگوں کی دلچسپی کم ہی ہوتی ہے۔ خواتین کے پولنگ اسٹیشنوں میں ٹرن آوٹ مایوس کن حد تک کم تھا۔پی کے 99ڈیرہ کے سوا تمام حلقوں میں خواتین کی ووٹنگ کی شرح دس سے پندرہ فیصد کے درمیان رہی۔لیکن صورتحال کا سب سے تاریک اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ان ضمنی انتخابات میں بھی موروثی سیاست کی روایت برقرار رہی۔ یہ صرف خیبر پختونخوا کا ہی المیہ نہیں۔ پورے ملک میں یہی حال رہا۔ این اے 60راولپنڈی سے شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد ، گجرات سے پرویز الہٰی کے بیٹے مونس الہٰی الیکشن جیت گئے تو بنوں سے اکرم درانی کے بیٹے نے باپ کی جگہ لے لی۔پی کے99 ڈیرہ سے سردار اکرام اللہ گنڈاپور شہید کے بیٹے اورپی کے 97ڈیرہ سے علی امین کے بھائی فیصل امین گنڈاپور بھی وراثت میں آئے ہیں۔پی کے 78کی نشست بھی بلور خاندان کے پاس رہی تو نوشہرہ میں پی کے 61سے سابق وزیراعلیٰ اور موجودہ وزیردفاع کے بیٹے ابراہیم خٹک اور پی کے 64سے پرویز خٹک کے بھائی لیاقت خٹک کامیاب قرار پائے۔ یوں پرویز خٹک خاندان کے چھ افراد ایم این اے اور ایم پی اے بن چکے ہیں۔پی کے 44صوابی سے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے بھائی عاقب اللہ کامیاب ہوئے ہیں۔یہ صورتحال مسلم لیگ ، پیپلز پارٹی ، جے یو آئی ، قومی وطن پارٹی یا اے این پی کے دور میں سامنے آتی۔ تو حیرت کی بات نہیں تھی۔ کیونکہ پاکستان کی یہ تمام پرانی جماعتیں سٹیٹس کو برقرار رکھنے اور موروثی سیاست کو پروان چڑھانے پر یقین رکھتی ہیں۔ وہ سیاست اور اقتدار کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھتی ہیں۔ لیکن تبدیلی کے نعرے کے ساتھ سیاست میں آنے اور سیاست سے وراثت کے خاتمے کا دعویٰ کرنے والی پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں یہ صورتحال قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔سیاست کے معنی اگر قوم کی بے لوث خدمت کے ہیں تو یہ اعزاز چند خاندانوں تک کیوں محدود رہے۔ ملک و قوم کا غم کھانے کے لئے کیا یہی گنے چنے خاندان رہ گئے ہیں۔ عام لوگوں کو بھی قوم کی خدمت کا موقع ملنا چاہئے۔ اراکین اسمبلی سے صوابدیدی اور ترقیاتی فنڈز واپس لینا اور انہیں قانون سازی تک محدود رکھنا تحریک انصاف کا انتخابی ایجنڈا تھا۔ اگر پی ٹی آئی کی حکومت نے اسے قانون کی شکل میں پارلیمنٹ میں لانے کی کوشش کی تو یہی موروثی سیاست کے علمبردار اس کی مخالفت کریں گے۔بھلا اپنے منہ کا نوالہ چھیننے کی کوئی اجازت دے سکتا ہے؟پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سمیت جنوبی ایشیاء کی سیاست دنیا میں سب سے نرالی ہے۔ یہاں سیاست کو پیشے کے طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی جمہوری ملک میں سیاست کو زریعہ روزگار نہیں سمجھا جاتا۔ مخصوص مدت کے لئے لوگ سیاسی منظر پر آتے ہیں اس کے بعد منظر سے یکسر غائب ہوجاتے ہیں۔ ہمارے ہاں پورے کا پورا خاندان سیاست میں ہوتا ہے باپ ایم این اے ہے۔ تو بیٹے ایم پی اے ہیں، چچا سینیٹر ہے تو چچا زاد دوسرے حلقے سے ایم این اے یا ایم پی اے ہوتے ہیں ۔ ایک گھر میں چار بھائی ہوں تو ایک پیپلز پارٹی کا لیڈر ہے دوسرا مسلم لیگ، تیسرا جماعت اسلامی اور چوتھا جے یو آئی کا لیڈر ہوتا ہے تاکہ جس کی بھی حکومت آجائے۔ اقتدار ان کے خاندان کی لونڈی رہے۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنماوں نے تو موروثی سیاست کی مخالفت کی آڑ میں انت مچا دی ہے۔ اگر عمران خان نے اس صورتحال کا نوٹس نہیں لیا۔ تو نظام میں تبدیلی لانے کے پی ٹی آئی کے دعووں پر ہی نہیں، سیاست اور جمہوریت پر سے ہی عوام کا اعتماد اٹھ جائے گا۔


شیئر کریں: