Chitral Times

Jan 25, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کے روڈزپراجیکٹس کو التوا میں ڈالنے سے علاقہ چالیس سال پیچھے چلا جائیگا۔۔شہزادہ افتخار

شیئر کریں:

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال سے قومی اسمبلی کے سابق رکن شہزادہ افتخار الدین نے کہا ہے کہ ہرلحاظ سے انتہائی اہمیت کے حامل چکدرہ چترال روڈکے ساتھ ساتھ چترال شندور روڈ کے منصوبہ جات کو التواء میں ڈالنے سے چترال ترقی کی راہ میں تیس سے چالیس سال پیچھے چلاجائے گا اور بہتر ذرائع روزگار کے سلسلے میں یہاں سے نقل مکانی کاسلسلہ جاری رہے گا جس کا نتیجہ پہلے ہی کم آبادی کی وجہ سے صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کی کمی کی صور ت میں ہم دیکھ چکے ہیں۔ چترال ٹائمز ڈاٹ کام سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سی پیک کا متبادل روٹ چترال سے گزار نے اور ان دو بڑے روڈ پراجیکٹوں کی وجہ سے چترال کے عوام میں امید کی کرن پیدا ہوگئی تھی جسے موجودہ حکومت نے مایوسی میں بدل دیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ سابق حکومت نے چترال میں ریکارڈ تعدادمیں ترقیاتی منصوبوں کا نہ صرف اعلان کیا تھا بلکہ ان پر عملی کام کا آعاز بھی ہوا تھا جن میں چترال گرم چشمہ دوراہ پاس روڈ، کالاش ویلی روڈ ، اویر ٹو تریچ روڈ اور چار مختلف مقامات پر معلق آر سی سی پلوں کی تعمیر ، گیس پلانٹ کی تنصیب کے ذریعے گھروں میں قدرتی گیس کی فراہمی ، چترال یونیورسٹی کو پی ایس ڈی پی کے تحت 2.9ارب روپے کی گرانٹ، بونی بزند روڈ کو پی ایس ڈی پی کے تحت ایک ارب 12کروڑ روپے کی منظوری شامل تھے جن سے اس محروم اور پسماندہ علاقے میں ترقی ممکن تھی۔ شہزادہ افتخار الدین نے وزیر اعظم عمران خان سے پرزورمطالبہ کیا ہے کہ چترال کی پسماندگی کو دور کرنے اور اس کے ساتھ ساتھ یہاں ہائیڈر وپاؤر کے 12ہزار میگاواٹ سے ذیادہ کا پوٹنشل سے فائدہ اٹھانے کے لئے ان روڈ منصوبہ جات کو اس سال کی ترقیاتی پروگرام میں نہ صرف شامل کئے جائیں بلکہ اس کے لئے خاطر خواہ رقم بھی ایلوکیٹ کئے جائیں۔
psdp projects chitral


شیئر کریں: