Chitral Times

Apr 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اقوام متحدہ بھارت کو شٹ اپ کال دے ۔۔۔!!…….قادر خان یوسف زئی

Posted on
شیئر کریں:

مذاکرات سے بھارت کا فرار بزدلی کی تاریخ رقم کرگیا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گیترس نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پرتشویش ہے، اختلافات دور کرنے کے لئے مذاکرات کئے جائیں۔ انٹونیو گیترس نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ، اختلافات پر امن طور پر دور کرنے کیلئے مذاکرات کئے جائیں، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے 2 اکتوبر عدم تشدد کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقد گاندھی عالمی کانفرنس میں کہا کہ عدم تشدد سے ہی ہم امن کی سمیت گامزن ہوسکتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی حریت پسند تنظیموں نے بھی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو لکھے خط میں اپیل کی کہ دورے کے دوران انتونیو گیترس بھارت کے وزیر اعظم نریند ر مودی،وزیر خارجہ سشما سوراج اوربھارتی صدر سے ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت پاکستان سے با مقصد مذاکرات کرے۔واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے پرامن مذاکرات کی خواہش کے باوجود بھارت کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کے حوالے سے مسلسل انکار کیا جارہاہے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاک بھارت وزرائے خارجہ کی طے کردہ ملاقات سے بھی بھارت مکر گیا جبکہ جنرل اسمبلی کے سائیڈ لائنز پر سارک وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر بھی بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے محض بیان جاری کرنے کے بعد راہ فرار اختیار کرلی اور اپنے ملک کے میڈیا سے بھی بات کرنا درخور اعتنائنہ سمجھا۔ دوسری جانب کانگریس لیڈر ششی تھرور نے بھارت کی مرکزی وزیر برائے خارجی امور سشما سوراج کی اقوام متحدہ کی 73 ویں اجلاس کے موقع پر ہوئی تقریر پر کڑی تنقید کی اور ان پر دنیا کے سامنے ملک کی منفی تصویر پیش کرنے کا بھی الزام لگایا۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے تھرور نے کہا کہ‘‘ ہمیں یہ احساس ہوگیا ہے کہ ملک میں ہر چیز سیاسی ماحول کے پیش نظر ہورہی ہے۔ ملک کی مثبت تصویر پیش کرنے کے بجائے پاکستان پر بیان بازی ہورہی ہے۔‘‘ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پہلی بار’’ بھارت ‘‘کا نام لیکر پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی ، کلبھوشن یادو سمیت مقبوضہ کشمیر پر ہونے والے ظلم و ستم پر بھارت کی لفظی گولہ باری کا بھرپور جواب دیا ۔ ماضی میں پاکستان نے کئی ایسے معاملا ت اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں نہیں اٹھائے جس سے مذاکرات کی راہ میں کوئی رکاؤٹ پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ۔ لیکن بھارتی ہرزہ سرائی اور گیڈر بھبکیاں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ زبان درازی کو کوئی لگام نہیں۔ ہندو انتہا پسند جماعتیں و شدت پسند تنظیمیں ہوں یا بھارت کی مودی سرکار ۔ پاکستان مخالف نعرے فروخت کرکے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ بھارتی میڈیا بھی وہی کہتا ہے جو ہندو انتہا پسند چاہتے ہیں۔ بھارتی میڈیا کی حالت زار افسوس ناک ہے۔ صحافتی اقدار کو پیروں تلے روندنے والے نام نہاد بھارتی انتہا پسند میڈیا دراصل ہندو شدت پسندوں کا ایک ونگ بن کررہ گیا ہے۔ جس کا کام صرف پاکستان کے خلاف من گھڑت کہانیاں بنانا ، ٹاک شوز میں اچھل کود کرنا اور ملکی سیاسی فضا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کو فروغ دینا ہے ۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر کے سویلین ہیلی کاپٹر پر بھارتی فوجیوں کی بزدلانہ فائرنگ دراصل بھارتی چیف کے سرپرائز اٹیک کی گیدڑ بیانی کا حصہ تھا جو ناکام و بدنام ہوا۔
اقوام متحدہ ایک ایسا عالمی فورم ہے جہاں دنیا کے کسی بھی ملک کے مسئلے کو مذاکرات کی میز پر حل کیا جاتا ہے۔ لیکن بھارت نے یہاں بھی دشنام طرازی اور بہتان طرازیوں کی روایات کو فروغ دینا شروع کردیا ہے۔بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے جس طرح مودی حکومت کے کہنے پر پہلے مذاکرات سے پھر ملاقات سے انکار کیا اور سارک کانفرنس سے سفارتی آداب کے خلاف اٹھ کر چلی گئی وہ ایک انتہائی شرمناک عمل تھا ۔ انڈیا کا یہ رویہ جہاں بھارتی معاشرے کے لئے زہر قاتل ثابت ہورہا ہے تو دوسری جانب بھارتی معاشرے میں تشدد و عدم برداشت کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ 20کروڑ سے زائد بھارتی عوام جو روزانہ فٹ پاتھوں پر بھوکے سوتے ہیں ان کی حالت تبدیل کرنے کے بجائے بھارتی حکمران کرپشن اور کک بیکس کے لئے ’’ رافیل اسکینڈل‘‘ جیسے ملوث ہیں ۔ انہیں پاکستان کے خلاف زہر اگل کر بھارتی عوام کو خوفزدہ کرنا اور بھوک و افلاس میں ڈوبی عوام کے حلق میں دو نوالے ڈالنے کے بجائے کک بیک کے لئے بس ہتھیاروں کی ضرورت ہے ۔ ورنہ پوری دنیا جانتی ہے کہ بھارت ، پاکستان کے خلاف جنگ کا تصور ہی نہیں کرسکتا ۔ صرف سازشوں اور جھوٹ کے سہارے دہشت گردی کو فروغ دینا ، بد امنی کی فضا میں جنگ کے بہانے تراشنا مودی حکومت کا پسندیدہ مشغلہ بن گیا ہے۔
PENانٹر نیشنل نے بھی پونا میں اپنی 84ویں عالمی کانگریس میں بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا ۔ واضح رہے کہ اس عالمی کانگریس میں 80ممالک کے نمائندے موجود تھے۔ عالمی تنظیم کا کہنا تھا کہ بھارت میں سابقہ چار برسوں میں تشدد، غیر قانونی حراست، لوگوں پر نظر رکھنا اور جرائم سے خود برائیت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ عالمی تنظیم نے بھارت میں آزادی اظہار رائے کی خلاف ورزیوں پر بھارتی ہندو انتہا پسند حکومت کے کرتوتوں پر مبنی ایک رپورٹIndia: Pursuing truth in the face of intolerance’’ہےIndia: جاری کی ۔میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح مودی سرکار میں سماجی کارکنان، صحافیوں، مصنفوں اور دانشوران کی آواز کو دبایا جارہا ہے جس میں انہیں نہ صرف ڈرایا دھمکایا جارہا ہے بلکہ انہیں قتل بھی کیا جارہا ہے۔اس رپورٹ میں آن لائن و آف لائن ٹرولنگ کی بھی بات کی گئی ہے۔رپورٹ میں خاص طور سے صحافیوں کو نشانہ بنانے کا ذکر کیا گیا ہے۔PEN انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق ملک میں بے چینی کی بڑی وجہ بی جے پی ہے ۔
بھارتی حکومت کی پارلیمنٹ میں جب جرائم پیشہ اور گینگ وار ’’ عوامی نمائندے ‘‘ بن کر بیٹھیں گے تو ان انتہا پسند عناصر سے امن کی بات کی توقع کرنا خوش فہمی ہے۔بھارت میں اس وقت اراکین و پارلیمان و اسمبلی میں 4896ایسے ’’ عوامی نمائندے‘‘ ہیں جن میں1765اراکین کے خلاف کوئی نہ کوئی کیس چل رہا ہے ، یعنی36فیصد اراکین کا کریمنل گینگ اس وقت بھارتی پارلیمان میں موجود ہے۔ یہ اعداد و شمار خود مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں پیش کئے تھے کہ ان1765اراکین کے خلاف3045مقدمات زیر سماعت ہیں۔ واضح رہے کہ ان اعداد و شمار میں مہاراشٹر اور گوا کے قانون ساز وں کے خلاف جاری مقدمات کی تفاصیل پیش ہیں کی گئی تھی۔بھارتی سپریم کورٹ کی چیف آف جسٹس دیپک مشرا کے سربراہی بینچ نے گزشتہ ہفتے جرائم پیشہ سیاست دانوں کے خلاف ایک سال کے اندر فیصلہ کرنے والی عدالتوں کے قیام کی منظوری دی تھی۔ بھارتی سیاست میں جرائم پیشہ عناصر ، گینگ وار اور انتہا پسندی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ مودی سرکار کے ہوتے ہوئے جہاں پاکستان اور بھارت کے درمیان امن و تصفیہ طلب معاملات پر کوئی بامقصد مذاکرات ممکن نظر نہیں آتے وہاں خود بھارتی عوام ان انتہا پسندوں کے نرغے سے باہر نکلنے سے شدید خائف نظر آتی ہے۔ بھارتی عوام ان شدت پسندوں سے بخوبی واقف ہونے کے باوجود ڈر و خوف کی وجہ سے انہی کو ووٹ دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔بھارتی کلیہ بن چکا ہے کہ’’ ووٹ تو دینا ہی ہے تو کم بُرے کو سہی ‘‘۔یہ وہ رویہ ہے جو پاکستان مخالف نعرے و گیڈر بھبکیاں عوام میں فروخت کیں جاتی ہیں اور بھارتی عوام میں اس قدر اشتعال اور نفرت پیدا کردی جاتی ہے کہ وہ اپنی مملکت میں درپیش مسائل کی جانب توجہ ہی نہیں دے پاتے۔بھوک ، افلاس ، غریبی اور بے سرو سامانی کی فاقہ زدہ بھارتی عوام کے لئے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ پاکستان سے جنگ نہیں بلکہ اپنی پریشانیوں کو دور کرنا ہے۔ پاکستان ، بھارت کو اسی وجہ سے غربت کے خلاف یکجا ہونے اور افلاس کے خلاف جنگ کرنے کے لئے با مقصد مذاکرات کی دعوت دیتا ہے۔
بھارت ، مقبوضہ کشمیر میں نہتے حریت پسندوں کے خلاف فسطائیت کا مظاہرہ کررہا ہے ۔ وہ انتہائی شرمناک اور قابل مذمت رویہ ہے۔ اقوام متحدہ میں کشمیر کے مسئلے کو حل کرانے کی قرار داد بھارت لے جانا اپنے موقف سے اشتہاری ہوچکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرارداوں کے مطابق حل کرنے کے بجائے ’’ طاقت ‘‘ کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے ۔ لیکن نہتے کشمیری دنیا کی تیسری بڑی فوجی قوت کا اپنی مدد آپ کے تحت مقابلہ کررہے ہیں۔ ہاتھوں میں اٹھائے پتھر ، بھارتی سورماؤں کو ’’ نصر میزائل ‘‘ نظر آتے ہیں۔ کشمیری عوام کے نعروں اور پاکستان کی محبت میں دی جانے والی قربانیوں کو عالمی قوتیں اپنے مفادات کے لئے آنکھیں بند کرکے بیٹھی ہیں۔ پاکستان ہر مسئلے کو پُر امن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے لیکن امن مذاکرات کو بھارت ، پاکستان کی کمزوری سمجھ لینے کی بھول کرلیتا ہے اور خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں اپنی جیبیں بھرنے کے لئے ’’ بالی وڈ‘‘ کے رائٹرز سے ڈائیلاگ لکھواتے ہیں اور ان سے مقبوضہ کشمیر کے نہتے عوام کے لئے پاکستان کی اخلاقی حمایت برداشت نہیں ہوتی۔
قیام پاکستان کے بعد ’’ اکھنڈ بھارت‘‘ کے افیمی خوابوں کے سحر سے بھارت آج تک نہیں نکل سکا اور سازشوں کے ذریعے پاکستان میں فرقہ واریت ،لسانیت ، قوم پرستی اور صوبائیت کے فتنوں کی پشت پناہی کررہا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی کمر توڑ ے جانے کا غم بھارت کے لئے ناقابل برداشت ہے اس لئے کابل حکومت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف دشنام طرازی اور الزامات کے ساتھ ساتھ افغانستان کی سرزمین میں موجود ملک دشمن عناصر کی مکمل سرپرستی بھارت کا اولیّن ایجنڈا بن چکا ہے۔ امریکا ، پاکستان سے افغانستان میں اپنی منشا کے مطابق کردار ادا کرنے کے لئے دباؤ ڈالنے کے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے لیکن بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں ثالثی اور نہتے کشمیریوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی روکنے پر قائل نہیں کرتا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان با مقصد مذاکرات کے لئے عالمی قوتیں ہندو انتہا پسند حکومت پر کوئی دباؤ نہیں ڈالتی کہ کہیں بھارت اُن سے ناراض نہ ہوجائے ۔ بھارت کا مکروہ اور گھناؤنا چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہے لیکن عالمی قوتوں کے فروعی مفادات نے خطے کے امن کو خطرے میں ڈالا ہوا ہے۔
پاکستان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ بھارت سمیت اقوام متحدہ کے دیگر ممالک سے بھی سفارتی اور معاشی تعلقات میں بہتری پیدا ہو ۔ لیکن پاکستان کو جس طرح عالمی پراکسی وار میں الجھا دیا گیا ہے ۔ اس کے قلع قمع کرنے کے لئے پاکستان کو کڑی محنت کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کو جہاں مملکت کو درپیش مسائل کے حل کے حوالے سے اہم کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تو بھارت کی چالبازیاں اور سازشوں سے اقوام عالم کے تمام پلیٹ فارم کھل کر بات کرنے کے پالیسی کو اپنانا ہوگا ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا جانے والے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے برطانیہ، یوپی یونین، سعودی عرب، چین، اور جاپان سمیت دیگر ممالک کے وزرا خارجہ اور دیگر عہدے داروں سے ملاقاتیں کیں۔عالمی اجتماع کے موقع پر سفارتی تعلقات کی بہتری کے لئے مخصوص ماحول میں ملاقاتیں مستقبل کی خارجہ پالیسی کا درست تعین کرنے کے لئے بڑا ساز گار ماحول فراہم کرتی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے امریکا میں ملاقات کی۔ پاکستان کے مختصر دورے میں امریکی وزیر خارجہ ڈومور کا مطالبہ کرچکے تھے اور بھارت روانگی کے وقت نورخان ائیر بیس پر متنازع بیان دینے کے بعد بھارت میں پاکستان کے خلاف بھارتی موقف کی حمایت کے بعد یہ ملاقات بظاہر اہمیت کی حامل قرار دی جا رہی ہے ، لیکن جب تک امریکا خطے میں نئے دوستوں کی تلاش میں پاکستان کے دشمنوں کا ہم نوا بننے کی کوشش کرے گا تو خطے میں ہندو انتہا پسند حکومت امریکی مفادات کو بھی حاصل نہیں کرسکتی اور پاکستان پر دباؤبھی نہیں بڑھا سکتی ۔ کیونکہ پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کئے بغیر امریکا افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتا ۔پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پاکستانی بیانیہ دوہرا چکے ہیں کہ ، ’’پاکستان نے ہمیشہ کہا ہے کہ افغانستان کے مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں، لہذا ہم امریکا کی جانب سے اس مسئلے کے سیاسی حل کی کوششوں کی تائید کرتے ہیں۔‘‘
سارک تنظیم علاقائی ممالک کے درمیان تصفیہ طلب مسائل کے حل کی پیش رفت کے لئے ایک موثر پلیٹ فارم ہے لیکن بھارتی ہٹ دھرمی کے سبب سارک تنظیم کی افادیت غیر موثر ہوچکی ہے۔ نیو یارک میں سارک ممالک کے وزرائے خارجہ کے غیر رسمی اجلاس میں بھارتی ووزیر خارجہ سشما سراج کا اپنی تقریر کے بعد بغیر کسی وجہ اٹھ کر چلے جانا غرور و رعونت کی بدترین مثال تھی ۔ جس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ کے رویے پر میڈیا کے سامنے ردعمل دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ’’ بھارت کے اسی رویے کے باعث سارک ممالک اور خطے کے 107 بلین لوگ یرغمال بنے ہوئے ہیں‘‘۔ بھارت اب سارک تنظیم کو پاک۔بھارت کرکٹ سیریز سمجھا ہوا کہ جب تک حالات موافق نہیں ہوتے ، سارک اجلاس نہیں ہوگا۔یہ احمقانہ جواز بھارتی سیکرٹری خارجہ نے دیا ۔
اقوام متحدہ میں پاکستان نے اپنا موقف ٹھوس انداز میں رکھا ۔شاہ محمود قریشی نے جنرل اسمبلی سے اردو میں کیا ۔ مسئلہ کشمیر پر آزاد کمیشن کے قیام کی تجویز کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی سے اچھے انداز میں آگاہ کیا ۔ لائن آف کنڑول پر بھارتی خلاف ورزیوں ، پاکستان میں بڑے دہشت گردی کے واقعات، آرمی پبلک سکول پر حملہ ،مستونگ میں بم دھماکے اور بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادو کے مکروہ کردار کو بھی نمایاں کیا ۔قابل ستائش ہے کہ وزیرخارجہ نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں ناموس رسالت کا مسئلہ بھی اٹھایا اور ہالینڈ میں حالیہ دنوں ہونے والے گستاخانہ خاکوں کا مقابلے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کہا کہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے منصوبے سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے پاکستان کی قربانیوں ، داعش کی بڑھتی سرگرمیوں اور افغانستان میں امن کے قیام کے لئے پاکستانی کردار کی حمایت و کوششوں کے عزم دوبارہ دوہرایا ۔پاکستان نے افغان مہاجرین کے حوالے سے بھی ذکر کیا کہ پاکستان طویل عرصے سے مہاجرین کو پناہ دیئے ہوئے جبکہ دیگر ممالک پناہ گزینوں کو قبول نہیں کرتے ۔انہو ں نے افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کے لئے اقوام متحدہ کو کردار ادا کرنے کے لئے مطالبہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ پر کسی قسم کی سودے بازی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔پاکستان نے اقوام متحدہ کے مشن کی پاسداری اور فعال رکن ہونے اور قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’ پاکستان اقوام متحدہ کے سب سے قدیم امن مشن دستے کا میزبان بھی رہا ہے اور آزادی سے کے کر اب تک اقوام متحدہ کے منشور کا پاسدار اور فعال رکن رہا ہیاور وہ ہمیشہ عالمی مفادات کے حصول کیلئے کوشاں رہے گا۔عالمی حالات کے بدلتے تناظر میں ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں برداشت کی جگہ نفرت کی بڑھتی جارہی ہے، تجارتی جنگ کے گہرے بادل افق پر نمودار ہیں اور ترقی کی راہوں میں نئی مشکلات درپیش ہیں جو قابل تشویش ہے‘‘۔
اقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پرپہلی رپورٹ جاری کی تھی ۔ جس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیون پر بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن بنانے کی تجویز دی گئی تھی ۔ پاکستان نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا لیکن بھارت نے انکار کردیا تھا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ70برسوں سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں ۔ خطرناک پیلٹ گن کا استعمال کیا تا ہے، اقوام متحدہ کی پہلی رپورٹ کے مطابق سینکڑوں نہتے کشمیریوں کو شہید کیا گیا ۔ یہ بھی بتایاگیا کہ بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ وادی میں مظاہرین پر طاقت کا شدید استعمال کیاجارہاہے۔مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 28 سالوں سے آرمڈ فورسز خصوصی ایکٹ نافذ ہے، اس قانون کے باعث اب تک کسی ایک بھی بھارتی فوجی پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کامقدمہ نہیں چل سکا۔رپورٹ میں مطالبہ کیاگیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں طاقت کے بے دریغ استعمال اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لے۔
بھارت نام نہاد سرجیکل اسٹرئیک پر ’’ جشن ‘‘ منا کر بھارتی عوام کو بے وقوف بنا رہا ہے ۔ پاکستان میں بھارت کے نام نہاد جھوٹے سرجیکل اسٹرئیک کابھانڈا بیچ چوراہے خود بھارت کی سیاسی جماعتوں نے ہی توڑ دیا تھا اور ہندو انتہا پسند حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نریندیر مودی کا تمسخر اڑایا تھا ۔لیکن اس کے باوجود بھارتی ہندو انتہاپسند حکومت کی جانب سے ڈھونگ بے شرمی سے صرف ووٹ کے حصول کے لئے رچایا جارہا ہے۔ بھارت کی مودی سرکار دراصل اپنی تاریخ کے بدترین اسکینڈل کا سامنا کررہی ہے اور عوامی دباؤ اور توجہ ہٹانے کے لئے اپنے مذموم پسندیدہ مشغلے لے کر پاکستان کے خلاف بہتان تراشی کی روایت کو قائم رکھے ہوئے ہے۔ابھی رافیل طیارہ اسیکنڈل کا طوفان تھما نہیں تھا کہ کانگریس صدر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر کام نہ کرنے کے الزام کے ساتھ جعلسازی کا بھی سنگین الزام عاید کردیا ۔ راہل گاندھی کے مطا بق لائٹس ، کیمرا اسکیم ۔1 سن2007میں مودی آئی ایل ایند ایف ایس کمپنی کو 70ہزار کروڑ کا منصوبہ میں جعلسازیوں کو آشکار کیا ہے۔پھر سین2: 2018میں ایل آئی سی ، ایس بی آئی میں جمع بھارتی عوام کے 91ہزار کروڑ کی قرض دار ایل ایند ایف ایس کو بیل آؤٹ دینے پر جعلسازی کی جا رہی ہے۔نریندر مودی حکومت کو جہاں جرائم پیشہ اراکین اسمبلی کے اسکنیڈل کا سامنا ہے وہاں دیگر مالیاتی عالمی کرپشن نے مودی سرکار کو دشواریوں میں مبتلا کیا ہوا ہے ۔ اس لئے بھارتی عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان سے مذاکرات سے فرار ، الزام تراشیاں ، لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور مارٹر گولوں سے عوام کو نقصان پہنچانے سمیت مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر بربریت کی تاریخ رقم کررہا ہے۔ پاکستان امن کے لئے بھی ہمیشہ تیار ہے اور جارحیت کا بھرپور جواب دینے میں بھی مہارت رکھتا ہے ۔ بھارتی چیف آف آرمی کی ہندو انتہا پسند جماعت کے کارکن بن کر جو ڈگڈی بجا رہے ہیں۔ وہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس قسم کے بیانات سے بھارتی عوام کو تو بے وقوف بنایا جاسکتا ہے لیکن پاکستانی قوم اچھی طرح جواب دینا جانتی ہے۔


شیئر کریں: