Chitral Times

Apr 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ڈگریوں کا کاروبار……….. محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

فارسی زبان کی ایک مشہور ضرب المثل ہے کہ’’ من چہ میگوئم تنبورہ من چہ می سرایت‘‘۔جامعہ پشاور میں طلبا نے فیسوں میں ہوشرباء اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تو یونیورسٹی انتظامیہ نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے قانون کی مدد لے لی۔ لاٹھی چارج کے نتیجے میں نصف درجن طلبا زخمی ہوئے ۔یونیورسٹی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ ہاسٹلوں میں غیر قانونی طور پر قابض غیر متعلقہ لوگوں کو نکالنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے انتظامیہ کو دباو میں لانے کے لئے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔حکومتی ترجمان نے یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقعے کو سیاسی مخالفین کی کارستانی قرار دیا۔عوام کو دانستہ طور پر اصل حقائق سے بے خبر رکھنے کے لئے کنفیوژن پیدا کی جارہی ہے۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی طرف سے سرکاری یونیورسٹیوں کو دی جانے والی گرانٹ میں کٹوتی کے بعد جامعہ پشاور نے فیسوں میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گذشتہ دس سالوں کے دوران فیسوں میں 400فیصد اضافہ کیاگیا ہے۔ 2008میں ایم اے، ایم ایس سی کی فیس چودہ ہزار روپے فی سمسٹر تھی۔ایم فل ، پی ایچ ڈی، بی ایڈ اور بی بی اے کی فیس دس ہزار روپے تھی۔2018میں ایم اے کی فیس 45ہزار کردی گئی۔جبکہ ایم ایس سی کی فیس 53ہزار مقرر کی گئی ہے۔ایم کام کی فیس 36ہزار اور ایم بی اے کی 48ہزار رکھی گئی ہے۔سیلف فنانس کے تحت ایم اے انگلش کی فیس 80ہزار ، ایم اے عربی، اسلامیات اور اردو کی 73ہزار جبکہ ایم ایس سی باٹنی، کیمسٹری، ڈزاسٹر منیجمنٹ، جیالوجی، جیوگرافی اور زوالوجی کی فیس 93ہزار روپے رکھی گئی ہے۔ایم اے جرنلزم کی فیس 80ہزار، ایم بی اے، بی کام، اور ایم پی اے کی فی سمسٹر فیس 53ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ہاسٹل کی فی سمسٹر فیس 29ہزار روپے ہے جس میں سات ہزار داخلہ فیس، سات ہزار دو سو بجلی، چھ ہزار کمرے کا کرایہ، تین ہزار سات سو خدمات اور پانچ ہزار روپے جنریٹر فیس کی مد میں وصول کئے جاتے ہیں۔بی ایس آرٹس کی فیس 35ہزار اور بی ایس سائنس کے تمام مضامین کی 45ہزار مقرر ہے۔ ڈی ایم سی کے لئے ایک ہزار، ڈگری کے لئے ساڑھے چودہ سو اور اضافی ڈی ایم سی کے لئے سو روپے فی کاپی وصول کی جاتی ہے۔ ڈگری اور ڈی ایم سی میں کوئی غلط اندراج ہو۔ تو اپنی ہی غلطی کی درستگی کے لئے طلبا سے ہزاروں روپے وصول کئے جاتے ہیں۔جامعہ پشاور کی گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کی فیسوں کی شرح انجینئرنگ اور زرعی یونیورسٹی سمیت کسی بھی سرکاری اور نجی یونیورسٹی سے زیادہ ہوگئی ہے۔ اتنی بھاری بھر کم فیسیں طلبا اور ان کے والدین کس طرح ادا کرتے ہیں یہ وہی جانتے ہیں۔ کوئی ماں اپنا زیور بیچ کر تو باپ اپنی جائیداد یا رہائشی مکان گروی رکھ کر بچوں کو پڑھاتا ہے۔ کسی نے دوست احباب سے قرضے لئے ہیں تو کوئی بینکوں سے بھاری شرح سود پر بچے کی تعلیم کے لئے قرضہ لیتا ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومتیں اور ادارے عوام کواللہ میاں کی گائے سمجھتے ہیں۔ اپنی عیاشیوں کو بوجھ بھی عوام پر ہی ڈال دیا جاتا ہے۔ ان کی غلطیوں سے ادارے کا نقصان ہوجائے تو اس کا بوجھ بھی عوام پر ہی ڈالا جاتا ہے۔ جامعہ میں سیکورٹی کے نام پر تین ادارے کام کرتے ہیں جن کا سالانہ خرچہ کروڑوں روپے بنتا ہے۔ اس کے باوجود یونیورسٹی کے ہاسٹلوں میں غیر متعلقہ افراد بھی رہتے ہیں۔ وہاں منشیات کا کاروبار بھی ہوتا ہے۔ طالبات کو ہراساں بھی کیا جاتا ہے اور وہاں کے قتل کے واقعات بھی ہوئے ہیں۔تدریسی عملے کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں ایسے ملازمین بھی رکھے
گئے ہیں جن کا کوئی مصرف دکھائی نہیں دیتا ۔ ان کی تنخواہوں اور مراعات پر اٹھنے والے کروڑوں کے اخراجات بھی طلبا ہی فیسوں کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔صوبائی حکومت کا یونیورسٹی کے معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ تاہم عوامی مفاد کے معاملے پر حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔اور جامعہ پشاور کی انتظامیہ کے ساتھ بیٹھ کر فیسوں میں ہوشربا اضافے اور غریبوں پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کرنے کے معاملے کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ہاسٹلوں میں آپریشن کی آڑ میں چھپ کر زیادہ عرصہ اس دھکتے انگارے کو دبایا نہیں جاسکتا۔


شیئر کریں: