Chitral Times

Jan 21, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • WFPپروگرام میں یوسی لاسپور، یارخون اور مستوج کو بھی شامل کیا جائے..جمال الدین/محمد وزیر

    September 29, 2018 at 9:51 pm

    ایڈیٹرچترال ٹائمز
    گزشتہ کئی سالوں سے چترال قدرتی آفات کے لپیٹ میں رہا ہے جس کی وجہ سے اس وادی جنت نظیر کو ناقا بل تلافی نقصان پہنچا ہے ۔سال 2015 میں اس قدر شدت کے سیلا ب آگئے کہ جس سے کئی دیہات نیست ونابوت ہو گئے .چترال کے باسی ابھی ان آفات کے شدت کو ہی نہیں بھول پائے تھے کہ اچانک زلزلہ کے زور دار یکے بعد دیگر جھٹکوں نے پریشان حال عوام کے مشکلات میں اوربھی اضافہ کردیا۔ چترال کی تاریخ کے اس زوردار اور ناقابل فراموش زلزلے نے سینکڑوں مکانات زمین بوس کردیے .
    مشکل کی اس گھڑی میں کئی سرکاری اورغیر سرکاری اداروں نے عوام کی خدمت ،خوراک کی فراہمی اور املاک کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا. جس میں AKRSP کے شراکت میں آنے والے عالمی ادارہ خوراک(WFP) کا کردار قابل زکر ہے WFP نے اس مشکل وقت میں متا ثرین میں نہ صرف میعاری خوراک کے پیکچ تقسیم کئے بلکہ بحالی کے کاموں میں بھی ایسے کردار ادا کیا کہ جس کی نظیر نہیں ملتی ۔بحالی کے اس عمل میں چترال کے ۷ انتہائی متاثر شدہ یونین کونسلز کو شامل کیا گیا ۔اس عمل سے کئی سڑکیں ،پل ،پینے کے صاف پانی ،نہر آبپاشی اور کہی دوسرے منصوبے بحال ہوگئے جس سے علاقے کے متاثرہ مکین مستفید ہوئے ۔

    اس ابتدائی فیز کی کامیابی سے تکمیل کے بعد ایک مر تبہ پھر متاثرہ عوام کی مدد کی غرض سے WFP اپنی بحالی کے کاموں کے ساتھ چترال میں آگئ اور اپنی امدادی سرگرمیوں کو صرف ۲ یونین کونسلز تک محدود رکھا کیونکہ ان ۲ یونین کونسلز یعنی چرون اور موڑکہو نے قدرتی آفات کے تباہ کاریون کی شدت دوسرے یونین کونسلز کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی ۔۸مہینے کی امدادی سرگرمیوں کے بعد پراجیکٹ کا دورانیہ مکمل ہوا مگر اب بھی بحالی کے کئی منصوبے ناقابل تکمیل اور امداد کے منتظر ہے۔

    AKRSP نے ہمیشہ کی طرح علاقے کی ترقی کے بارے میں سوچتے ہوے اپنی کوششوں کو جاری رکھا اور WFP کو اس بات پر باور کرنے میں کامیاب ہو گیا کہ علاقے میں بحالی کے کاموں کو تکمیل تک پہنچانے کی خاطر ایک مرتبہ پھر ان یونین کونسلز نے بحالی کے سر گرمیوں کا آغاز نا گزیر ہے ۔ہم اس آن لائن جریدے کی وساطت سے WFP کا بھی تہہ دل سے مشکور ہیں کہ وہ علاقے کی پسمندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مرتبہ ۹ مہینے کے امدادی سرگر میوں کے ساتھ ضلع چترا ل میں کام کا آغاز کیا ۔

    ابھی بازوق زرائع سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ WFP کے امدادی سرگرمیوں کو وسعت دے کر کوشٹ یو سی کو بھی اس پروگرام کا حصہ بنا دیا گیا ہے ۔اس سے ہمیں قوی امید ہے کہ کوشٹ یو سی میں بھی بحالی کے کام خوش اسلوبی سے تکمیل کو پہنچ جائیں گے ۔

    ان تمام امدادی سرگرمیوں پر غور کرنے کے بعد یہ بات زہین میں آجاتی ہیں کہ چترال کے سب سے دور آفتادہ اور پسمندہ یونین کونسلز یعنی لاسپور ، یارخون اور مستوچ اس طرح کے امدادی سرگرمیوں میں شامل کیوں نہیں کئے جاتے۔کیا ہم یہ سمجھیں گے کہ قدرتی آفات کی تباہ کاریوں سے ہمارے علاقے محفوظ رہے ۔یا ہمارے علاقے کی دور آفتادگی کی وجہ سے ادارے ہماری طرف توجہ نہیں دے رہے ہیں یا ہمارے علاقے کے باسیوں سے ایسے کوئی غلطی سرزد ہو گئی ہے جس کی وجہ سے ہمیں نظر انداز کیا جارہا ہے اگر ایسی کوئی بات ہے تو ہم اپنے پورے علاقے کی طرف سے معافی کے طلب گار ہے ۔اگر ایسی کوئی بات نہیں ہے تو ہم AKRSP اور WFP کے حکام بالا سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے علاقے کے پسمندگی اور قدرتی آفات کے تباہ کاریوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بحالی کے اس پروگرام میں یو نین کونسلز لاسپور ،یارخون اور مستوچ کو شامل کرکے علاقے کی بحالی اور ترقی میں اپنا کردار ادا کرے ۔ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ علاقے کے مکین اپ کے اس احسان کو زندگی بھر نہیں بھول پائیں گے ۔اس سلسلےسابقہ ناظم یارخون میں کسی بھی طرورت ہو تو ہماری خدمات ہمیشہ آپ کے ساتھ رہیں گے ۔

    جمال الدین ممبر تحصیل کونسل لاسپور مستوچ
    محمد وزیر خان سابقہ ناظم یارخون

  • error: Content is protected !!