Chitral Times

Apr 21, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کلین پاکستان مہم…………محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے رہائشی علاقوں میں صفائی ستھرائی کا معیار بہتر بنانے کے لئے ’’ کلین پاکستان موومنٹ‘‘ کے نام سے مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ مہم 7اکتوبر سے شروع کی جائے گی۔ صوبائی حکومت نے وزیربلدیات کی سربراہی میں تیرہ رکنی ٹاسک فورس بھی قائم کیا ہے۔ جس میں صوبائی وزراء، مشیر اور مختلف محکموں کے انتظامی سیکرٹری شامل ہیں۔ ٹاسک فورس کا بنیادی کام صفائی کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا، رہائشی علاقوں کا کوڑا کرکٹ، اسپتالوں کا فضلہ، زرعی مواد، کارخانوں سے نکلنے والے کوڑا کرکٹ کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانا، آبی آلودگی کا خاتمہ، ہفتہ صفائی منانا، صفائی کے بین الاقوامی دن کی مناسبت سے تقاریب کا اہتمام، تعلیمی اداروں میں صفائی کا معیار بہتر بنانا اور ابلاغ عامہ کے ذریعے صفائی کے موضوع پر مضامین کی اشاعت شامل ہے۔صوبائی دارالحکومت پشاور کو پھولوں اور پارکوں کا شہر کہا جاتا ہے۔کسی زمانے میں یہاں پھول کھلتے ہوں گے اب تو گردوغبار ہی اڑتا دکھائی دیتا ہے۔ باغوں اور پارکوں کو چھوڑیئے۔ قبرستانوں کی جگہ بھی سیمنٹ اور سریئے کے جنگل اگے ہوئے نظر آتے ہیں۔ پشاور آج دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں شامل ہے۔ صوبے کے پچیس اضلاع، سات قبائلی علاقوں سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ تعلیم، علاج اور روزگار کی تلاش میں پشاور کا رخ کرتے ہیں اور پھر یہیں کے ہوکر رہ جاتے ہیں۔ پڑوسی ملک سے پناہ کی تلاش میں آکر اکتالیس سالوں سے مہمان بن کر رہنے والے لاکھوں مہاجرین اس کے علاوہ ہیں۔آبادی بڑھنے کے ساتھ باغ، کھیت کھلیاں اور سبزہ ختم ہوتا جارہا ہے۔ مناسب منصوبہ بندی کے بغیر تعمیر کی گئی کچی پکی بستیاں حکومت اور بلدیاتی اداروں کے لئے درد سر بن گئی ہیں۔یہاں ہفتہ صفائی کے نام پر فوٹو سیشن ہوتے رہے ہیں۔ کوئی وزیر، مشیر یا سرکاری افسر کیمرے کے سامنے جھاڑو اٹھا کر کھڑا ہوتا ہے۔ اس کی رخصتی کے ساتھ صفائی مہم کا بھی خاتمہ ہوتا ہے۔ مگروطن کی محبت سے سرشار کچھ لوگ صفائی کا کام گذشتہ کئی عشروں سے تنہا انجام دے رہے ہیں ایسے سوشل ایکٹوسٹوں کی فہرست میں رحمت علی جعفر دوست کا نام نمایاں ہے۔بونی چترال سے تعلق رکھنے والے اس سرپھیرے نوجوان پر پاکستان کو صاف ستھرا رکھنے کا بھوت برسوں سے سوار ہے۔ ان کے رضاکاروں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ جن میں سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبا و طالبات، سماجی کارکن اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ رضاکاروں کا یہ گروپ کبھی کلفٹن کے ساحل پر آنے والوں کا پھیلایا ہوا گند صاف کرتا دکھائی دیتا ہے۔ کبھی سفاری پارک اور ہل پارک سے کوڑا کرکٹ چنتا نظر آتا ہے۔ کبھی شالامار باغ لاہور، شاہی قلعہ اور مینار پاکستان کے اردگرد ماحول کو گندگی سے پاک کرتے یہ رضاکار نظر آتے ہیں تو کبھی اسلام آباد کے چائنا پارک، ایوب پارک، روال ڈیم اور لیک ویو میں تھیلیاں اٹھائے کوڑا کرکٹ جمع کرتے دکھائے دیتے ہیں۔ کبھی پشاور کے شاہی باغ، تاتارا پارک اور باغ ناراں میں صفائی کرتے دکھائی دیتے ہیں تو کبھی چترال بازار، پولو گراونڈ، قاق لشٹ اور شندور میں جشن کے خاتمے پر لوگوں کو پھیلایاہوا گند صاف کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ سارا کام وہ اپنی تسکین کے لئے کرتا ہے۔ کسی سرکاری ادارے یا این جی او کی طرف سے اس کی مالی امداد یا سرپرستی نہیں ہوتی۔کلین پاکستان موومنٹ میں ایسے وطن پرستوں کو رول ماڈل کے طور پر ساتھ رکھنا چاہئے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ لیکن اسے ہم نے اپنے گھر کی چاردیواری تک محدود رکھا ہوا ہے۔ سڑکوں، پارکوں، سڑک کنارے فلاور بیڈز، سرکاری عمارتوں اور پبلک مقامات کو ہم قومی ملکیت نہیں سمجھتے اور دل کھول کر اس کی شکل بگاڑنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ کہیں سرکاری کوڑا دان خالی اور کوڑا کرکٹ سڑکوں، گلیوں میں بکھرا نظرآتا ہے تو کہیں آوارہ کتے اور بلیاں کوڑا دان سے گندگی سڑک پر پھیلاتی نظر آتی ہیں اور ہم منہ دوسری طرف کرکے خاموشی سے گذر جاتے ہیں۔ہمارا یہ قومی مزاج بن گیا ہے کہ جس کام کو کرنے کی سزا مقرر نہیں۔ اسے ہم کوئی جرم، کوتاہی ، گناہ یا غلطی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ کلین پاکستان مہم مخصوص علاقے اور وقت کے دائرے میں محدود نہیں ہونا چاہئے۔ صفائی تو روز روز اور عمر بھر کی ذمہ داری ہے۔ صوبائی حکومت اگر اس حوالے سے قانون سازی کرے اور گندگی پھیلانے پر سزائیں مقرر کرے تویہ آگاہی مہم چلانے ، مساجد میں وعظ اور تعلیمی اداروں میں لیکچر دینے سے بہتر اور زیادہ موثر ہوگا۔


شیئر کریں: