Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بیٹیوں کے ساتھ امتیازی سلوک…….. محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

سوشل میڈیا اوراخبارات میں روز ایسی خبریں دیکھنے کو ملتی ہیں کہ دوشیزہ آشنا کے ساتھ فرار ہوگئی۔ پسند کی شادی کرنے پر لڑکی کے باپ اور بھائیوں نے اسے شوہر سمیت موت کے گھات اتار دیا۔ گھریلو تنازعات سے دلبرداشتہ ہوکر خاتون نے پنکھے سے لٹک کر اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا۔جہیز کم لانے پر ساس اور نندوں نے نئی نویلی دلہن کو تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔ رشتے سے انکار پر لڑکی کے چہرے پر تیزاب پھنک کر اسے بھسم کردیاگیا۔ اس قسم کے واقعات ہمارے ہاں روز کا معمول ہیں۔حکومت ایسے واقعات کے پس پردہ محرکات جاننے کی کبھی کوشش نہیں کرتی ۔اخبارات اور ٹی وی چینلز پر یہ خبر یں آتی ہیں کبھی ان کا فالو اپ نہیں دیا جاتا۔ ملک کا دانشورطبقہ اور مذہبی رہنما ان باتوں کو قابل غور گردانتے ہیں اور نہ ہی خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والے سرکاری اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کو خواتین کے ساتھ ہونے والی ان زیادتیوں کے اسباب جاننے اور ان کا تدارک کرنے کی فرصت ہے۔ عورت ذات ہر جگہ استحصال کا شکار ہے۔ مغرب کے نام نہاد مہذب معاشرے میں اسے شو پیس کے طور پرپیش کیا جاتا ہے ۔ مشرق کے رجعت پسند معاشرے میں اسے دوسرے تیسرے درجے کے شہری کی حیثیت دی جاتی ہے۔پچھلے دنوں پشاور کے علاقہ فقیر آباد میں غریب والدین نے اپنی سترہ سالہ بیٹی کی شادی ستر سالہ ٹھیکیدار سے کرادی۔لڑکی اس ٹھیکیدار کے گھر پر کام کرتی تھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سترہ سالہ بیٹی کو والدین نے ستر سالہ شخص کے پلے باندھتے وقت ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوچا کہ اس بچی کا مستقبل کیا ہوگا۔بیٹیوں کے حوالے سے ہمارا رویہ زمانہ قبل از اسلام سے زیادہ مختلف نہیں۔ اس زمانے میں بیٹی کو پیدا ہوتے ہی زندہ در گور کیاجاتا تھا۔ تو آج اسے پال پوس کر جوان کرنے کے بعد اسے قتل کروایا جاتا ہے یا اپنی زندگی ختم کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق رواں سال کے نو مہینوں کے اندر ملک کے سب سے زیادہ پرامن ضلع چترال میں 35افراد نے خود کشی کی جن میں دوتہائی تعداد نوعمر لڑکیوں کی تھی۔ معمولی غلطی ، امتحان میں فیل ہونے یا کم نمبر آنے پر انہیں لعن طعن کرنے کے بجائے انہیں حوصلہ دیا جاتا تو اتنی بڑی تعداد میں قیمتی انسانی جانیں ضائع نہ ہوتیں۔بیٹیاں تو ماں باپ کے لئے باعث رحمت ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ جس خاندان پر مہربان ہوتا ہے اس گھر میں بیٹی پیدا ہوتی ہے۔ بی بی فاطمۃ الزہرہ جب سرکار دوعالم کے گھر جاتیں تو رسول خدا خود ان کے استقبال کے لئے دروازے پر تشریف لاتے ۔جو فرزندان توحید سرکار دوعالم کی زندگی اور سیرت مبارکہ کو اپنے لئے ضابطہ حیات اور مشغل راہ سمجھتے ہیں انہیں بیٹی کے ساتھ حسن سلوک والی سنت پر بھی عمل کرنا چاہئے۔ بیٹیوں کے حوالے سے ہمارا اجتماعی رویہ اسلامی تعلیمات کے سراسرمنافی ہے۔ جس عورت کے ہاں تین چار بیٹیاں پیدا ہوں۔توشوہر، اس کے والدین ، بہن بھائی اور رشتہ دار اپنے طعنوں سے اس کی زندگی اجیرن کردیتے ہیں۔ میرے اپنے ایک عزیز کے ہاں اوپر تلے تین بیٹیاں پیدا ہوئیں تو بھائیوں نے اسے لاولد قرار دے کر جائیداد اپنے بچوں کے نام منتقل کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔ میرے اپنے بھائی کے ہاں تین بچیاں پیدا ہوئیں۔ چوتھی بچی کی پیدائش پر گھر میں سوگ کا عالم تھا۔ دو دن تک گھر کا چولہا بھی ٹھنڈا رہا۔عورت ہونے کے باوجود بیٹیوں کے ساتھ ماں کا رویہ بھی اکثر امتیازی ہوتا ہے۔ وہ بیٹوں کو حتی المقدور اچھا کھلانے، پلانے کے ساتھ اس کے ناز نخرے اٹھاتے نہیں تھکتی ۔ لیکن بیٹی کوروکھی سوکھی کھلاتی اورایپرن پہنانے میں عار محسوس نہیں کرتیں۔ بیٹے کو خاندان کا مستقبل اور بیٹی کو غیر کی امانت قرار دیا جاتا ہے۔ بیٹوں کو گھر کا وارث اور بڑھاپے کا سہاراقرار دے کر ان کی ہر فرمائش پوری کی جاتی ہے۔ حالانکہ میں نے ایسی درجنوں نہیں، بلکہ سینکڑوں بیٹیاں دیکھی ہیں جو اپنے خاندان کا سہارااور کفالت کا ذریعہ ہیں جبکہ بڑھاپے کا سہارا قرار دیئے جانے والے بیٹوں کو والدین کے لئے باعث رسوائی اور پورے معاشرے پر بوجھ بنتے دیکھا گیا ہے ۔ظلم و بربریت اور جہالت کا ایک تاریک دور وہ تھا جب بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی رسوائی کے خوف سے مار دیا جاتا تھا۔ایک دور یہ ہے کہ ماں کے پیٹ میں بیٹی ہونے کی تصدیق کرکے اسے وہیں مار دیا جاتا ہے۔ ایک دل ہلادینے والی نظم کے کچھ اشعارملاحظہ فرمائیں’’ میں ماں کی کوکھ کے اندر بھی ڈرتی رہتی ہوں۔۔ سہم سہم کے میں بے موت مرتی رہتی ہوں۔۔سنا ہے مائیں بھی اب بیٹیوں کی دشمن ہیں۔۔ جب اپنے پیٹ میں بیٹی کا جان لیتی ہیں۔۔ تو اس کے قتل کی پھر دل میں ٹھان لیتی ہیں۔۔بہت سی ہیں میری بہنیں جو ماوں کے ہاتھوں۔۔ انہیں کی کوکھ کے اندر مٹائی جاتی ہیں۔ ۔ خوشی کے ساتھ گٹر میں بہائی جاتی ہیں۔۔ ابھی جنم نہیں میں نے لیا ہے دنیا میں۔۔ مگر میں خوف سے ہر پل لرزتی رہتی ہوں‘‘۔


شیئر کریں: