Chitral Times

Feb 7, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

غزل …………شفیق ا لر حمان شاہدؔ

Posted on
شیئر کریں:

رُ خِ انور ہے پردے میں حیا رہنے دے

مہرِمُبیں ہو مجھے لہروں میں فنا رہنے دے

 

 

تم سترنگی بن کے آ سماں میں ہی رہنا

میں خاکِ سحرا ہوں دُھولوں میں پڑا رہنے دے

 

 

محل میں تم اپنی شہنائی بجا لینا
جھونپڑی پہ میرے تم ماتم کی سَما رہنے دے

 

 

میں گُزر بسر کرلوں جُگنُو پکڑکر بھی
تم اپنی روشنی کو دنیا میں بِکھرا رہنے دے

 

 

میری زندگی تو بس کُو زے میں ہی گزرے گی
تم اپنی زندگی میں جنّت کی فِذا رہنے دے

 

 

میری جُنو نیت گر تاریخ بھی رَقم کرلے
تم میری بے بسی کو ما ضی میں چھپا رہنے دے

 

 

شاہدؔ کی یہ آ رزُو ہے جب لہدپہ تم آو
بس مُسکرا کے جانا یہ رشکِ رواں رہنے دے


شیئر کریں: