Chitral Times

Aug 13, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جو چپ رہے گی زبانِ خنجر……….. پیامبر…….قادر خان یوسف زئی

Posted on
شیئر کریں:

وزیراعظم نے انتخابی منشور میں اپنی ممکنہ حکومت کے 100روزہ پلان کا اعلان کیا تھا۔ چونکہ وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان کہہ چکے ہیں کہ انہیں تین مہینے تک تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے، اس لیے ذاتی طور پر یہی سمجھتا ہوں کہ وزیراعظم کو کئی مسائل ایسے درپیش ہیں، جنہیں کئی دہائیوں کے بگاڑ کا نتیجہ قرار دے سکتے ہیں، اس لیے عادتاً یا بلاجواز کسی بھی قسم کی تنقید سے گریز کرنا چاہیے۔ (تنقید کرلیں تو بھی کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا)، راقم اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ نقارخانے میں طوطی کی آواز ہی سہی پر اپنے ضمیر کے سامنے کم ازکم شرمندگی نہیں ہونی چاہیے بلکہ کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ راقم کے نزدیک قیام پاکستان سے لے کر آج تک کسی حکومت کو رول ماڈل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس لیے اس بحث کو فی الوقت طاق میں رکھ کر وزیراعظم عمران خان کی بڑی بڑی خواہشات کو کسی طنز و تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے برا ہ راست چند گزارشات کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اس کا خیال بھی اس لیے آیا کہ حکومت نے اب ٹائم فریم دینا شروع کردیے ہیں۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے ایک سال کے اندر ریلوے کا 42 ملین روپے کا خسارہ ختم کرنے کا دعویٰ کردیا تو وزیراعظم نے گڈ گورننس کے لیے دو برس کا وقت مانگ لیا۔
راقم نے اپنی تحریر میں وزیراعظم کو ایک چھوٹا سا مشورہ دیا تھا کہ پاکستان کی بیورو کریسی کو کنٹرول کریں، کیونکہ میرے نزدیک پاکستانی نظام میں بیشتر خرابیاں متعدد بیوروکریٹس کی مرہون منت ہیں۔ مجھ سے زیادہ وزیراعظم کو بھی بیورو کریسی کے کردار کا ادارک تھا، اس لیے انہوں نے سول سرونٹ کو اعتماد میں لیتے ہوئے ایک اجلاس میں ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا عزم ظاہر کیا۔ دو سال کی مہلت مانگتے ہوئے بڑا اعلان بھی کردیا کہ دو سال میں قرضے بھی اتر جائیں گے، بہت سارا پیسہ بھی آئے گا اور گورننس بھی مثالی ہوجائے گی۔ جہاں بہت سی امیدیں وابستہ کرادی گئی ہیں، وہیں ٹائم فریم بھی حکومتی سطح پر کچھ معاملات میں دیا جارہا ہے تو راقم نے(خوامخواہ) سوچا کہ وزیراعظم اور ان کی کابینہ کو کم ازکم دو اہم معاملات باور کرانے کی کوشش کروں، ہوسکتا ہے کہ کوئی ٹائم فریم دے دیں۔ 2018کے عام انتخابات سے قبل جنوبی صوبہ محاذ کے رہنما تحریک انصاف میں شامل ہوگئے تھے، جس کے بعد بلخ شیر مزاری کی کنوینرشپ میں 6رکنی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی کہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے حوالے سے 100 دن کے اندر پلان پر عمل درآمد کے لیے وزیراعظم کو تجاویز پیش کی جائیں گی۔ 100 میں سے30 روز تو گزر چکے ہیں، لیکن جنوبی پنجاب کے لیے کمیٹی کیا کام کررہی ہے اور اس حوالے سے کیا پیش رفت ہے، اس پر وزیراعظم نے کوئی حوصلہ افزا بیان دیا نہ پیش رفت سے آگاہ کیا۔ (یا میری نظر سے نہیں گزرا)۔ الیکٹرونک میڈیا میں بھی کوئی ٹاک شو اس موضوع پر نہیں ہوا، علاوہ ازیں کوئی سیمینار، سیاسی اور پارلیمانی جماعتوں سے کوئی مشاورتی عمل بھی سامنے نہیں آیا، اس لیے صرف یاد دہانی کے لیے چند سطریں لکھ دیں، جنہیں کم لکھا بہت کہا سمجھیں۔ خدشہ تو یہی ہے کہ ہر انتخاب میں ایشو بن جانے والا نعرہ، اگلے الیکشن تک نان ایشو ہی رہے گا۔ بہرحال دیکھتے ہیں کہ جنوبی صوبہ بنانے کے لیے حکومت اپنی پیش رفت سے عوام کو آگاہ کرتی ہے یا نہیں۔
دوسرا اہم ترین معاملہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ہے۔ گزشتہ دنوں سانحہ 12 مئی پر سندھ ہائی کورٹ نے 17برس بعد جے آئی ٹی اور انکوائری ٹریبونل بنانے کا حکم دیا ہے۔ خدشات تو یہی ہیں کہ اتنے عرصے میں تو کئی شواہد مٹ چکے ہوں گے یا مٹادیے گئے ہوں گے۔ سانحہ 12 مئی کے شہدا کے لواحقین کو انصاف کب ملے گا، اس کی ممکنہ تاریخ کا کچھ علم نہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کو ابھی طویل عرصہ نہیں گزرا۔ اپریل2018 میں عدالت عظمیٰ نے عدالت عالیہ کو دو ہفتے کے اندر تمام مقدمات نمٹانے کا حکم دیا تھا۔ اب تو وفاق و صوبے میں حکومت بھی تحریک انصاف کی ہے۔ عدلیہ بھی مکمل آزاد و بااختیار ہے۔ عدالت عظمیٰ کہہ بھی چکی ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کو انصاف ملے گا۔ لہٰذا وزیراعظم اس سانحے کے ذمے داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے اپنے اختیارات کو استعمال کریں۔ عدلیہ خصوصی و جلد سماعتوں کے ذریعے جلد از جلد ذمے داروں کا تعین کرکے سانحہ? ماڈل ٹاؤن کو سانحہ 12 مئی اور سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی طرح دفن ہونے سے بچائے جب کہ عدالت عظمیٰ جب خود کہتی ہو کہ اگر29برس بعد کسی کو انصاف ملے تو ایسے انصاف کا کیا فائدہ۔
تو جناب وزیراعظم گیا وقت پھر واپس نہیں آتا۔ بُرے وقت کو کوئی بھلاتا نہیں۔ قوم سے کئی بڑے بڑے وعدے کیے ہیں۔ ماضی میں یہ مطالبات تھے۔ اب تو عنان حکومت آپ کے ہاتھ میں ہے۔ تمام ریاستی ادارے ایک صفحے پر، بلکہ بقول وفاقی وزیر اطلاعات ایک ’’کتاب‘‘ پر ہیں۔ تو اب کیا وجہ ہے کہ اس کتاب پر پڑی گرد ہٹائی نہیں جارہی۔ عدالت میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ملزمان کے وکیل نے گواہ کو بھری عدالت میں تھپڑ مار دیا۔ کیا بااثر ملزمان اتنے طاقت ور ہیں کہ عدالت میں جج کے سامنے بھی قانون سے نہیں ڈرتے۔ تو پھر انصاف کیسے ملے گا۔ سمجھ سے باہر ہے۔ معاشی معاملات سمیت تمام مسائل وقت کے ساتھ ایسے ہی رہیں گے یا بدل جائیں گے، یہ تو بخوبی اندازہ ہو ہی رہا ہے، لیکن لاہور سے ایک صاحب نے جب یہ یاد دلایا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ایک مبینہ نامزد ملزم آصف اقبال کو اپنے والد کا جنازہ پڑھنے کی اجازت اُس وقت کی حکومت نے نہیں دی تھی۔ بیگم کلثوم نواز کے انتقال و نماز جنازہ کو لے کر کئی احباب نے جذباتی ہوکر انتہائی سخت رویہ اختیار کیا۔ ان کی جانب سے سانحہ ماڈل ٹاؤن سمیت متعدد سانحات کی فہرست میں سابق حکمرانوں کی طرز حکمرانی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کی واحد وجہ انصاف تاخیر سے ملنا ہے۔ گو لاشوں پر سیاست کے تعفن سے کراچی میں رہنے والے بخوبی واقف ہیں کہ لاشوں کو لے کر کس کس جماعت نے مکروہ سیاست کی۔
وقت تو یہ بھی گزر جائے گا۔ پاکستان قائم و دائم رہنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک بے مثال تحفہ ہے۔ ان شاء اللہ وطن عزیز کے لیے اپنی اور اپنے بچوں کی قربانی دیتے رہیں گے، لیکن اُن ظالموں سے حساب کے لیے ایک ایسا غیر جانبدارانہ عمل جلد انصاف کے لیے فراہم کردیا جائے تاکہ برسوں سے گریبان چاک کیے، بے قرار دلوں کو سکون تو مل سکے کہ ظالم کی رسی دراز نہیں ہوتی۔ اب انصاف کی رسّی ریاست کے اداروں کے ہاتھوں میں ہے۔ بڑے بڑے دعوے، وعدے، خواب پورے ہوں گے یا نہیں۔ اس پر قلم خاموش نہیں رہے گا، لیکن جس آستین کے لہو سے قاتل کا نشا ں مل رہا ہے۔ اس پر تو کم ازکم بیدار ہوجائیں۔ جنوبی پنجاب کی محرومیوں کو دور کے لیے صوبے کے قیام کا وعدہ اور ماڈل ٹاؤن کے سانحے کے ذمے داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے کتنی مہلت درکار ہوگی، اس کا بھی تو ٹائم فریم دیں۔

وُہ بات جس سے کہ ہلکا ہو کُچھ زُبان کا بوجھ
پھر اس کے بعد اُٹھاؤں گا اپنے آپ کو مَیں


شیئر کریں: