Chitral Times

Mar 21, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ظُلم رہے اور امن بھی ہو…….. میر سیما آمان

    September 16, 2018 at 10:27 pm

    گزشتہ ماہ 7 روز کے اندر چترال میں ہونے والے خود کُشی کے مسلسل 7 واقعات نے پورے علاقے کو جہاں جھنجوڑکر رکھ دیا ۔ وہیں چترال کے امن رپورٹ کو بھی سبوتاژ کیا۔یوں تو چترالی خواتین میں خود کُشی کا رُجحان کوئی نئی بات نہیں۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بجائے اس غلط فعل میں کمی آنے کے اور بھی اضافہ ہونا یقیناً انتہائی تشو یش ناک امر ہے۔اس پہ متضاد یہ کہ اب خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں میں بھی یہ رُجحان تیزی سے جڑ پکڑ رہا ہے ۔گزشتہ ماہ کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں۔یہ چترالی عوام کے لئے نہایت لمحہِ فکریہ ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں سچ بولنے سے پہلے ہزار بار سوچنا پڑتا ہے۔ اور اگر بولنے والی عورت ہو تو اُسے تو بات کرنے سے پہلے باقاعدہ ’’ استخارہ ‘‘ کرنا چاہیے کہ ایا وہ اپنے درپیش مسائل پر ’’ بات کرے یا نہ کرے۔۔کیو نکہ ہمارے اس سو کالڈ معا شرے میں سچ بولنے والے ہمیشہ’ بد اخلاق اور باغی ‘‘ کہلا تے ہیں ا۔ بحثیت مسلمان ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ظلم پر خاموش رہنا بھی ظلم ہے اور بحثیت ایک قلم کار ہمیں حبیب جالب کے عقیدے کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے جسکے مُطابق ’’ چُپ رہنا بد دیانتی اور بے غیرتی ہے ‘‘ آج اگر ہم خود کشی کے وجو ہات جانتے ہوئے بھی صرف اسلیے حقائق پر پردہ ڈالیں کہ اس سے ہمارے چترال کا ’’ ا میج ‘‘ خراب ہوتا ہے تو یہ اس د ھر تی کے ساتھ ظلم ہے یہ اس ’’ قلم ‘‘کے ساتھ نہ انصافی ہے جسے ہم نے خود کو ’’قلمکار ‘‘ کہلوانے کے لیے ہرگز نہیں اُٹھا یا ہے۔۔۔ہم بحثیت چترالی اس بات پر ہمیشہ فخر کرتے ہیں ۔کہ چترال بہت سے جاہلانہ رسومات سے پاک ہے ۔خاص طور پر خواتین کے حوالے سے بات کریں ۔تو یہ پا کستان کا واحد علاقہ ہے جہاں والدین ’’ بیٹی ‘‘ کی پیدائش پر سوگ نہیں مناتے۔جہاں خواتین کو تعلیم اور مُلازمت کی مکمل آزادی حاصل ہے۔جہاں جائداد بچانے کے لئے بچیوں کی شادی قُرآن سے کرنے کے غلط رسومات نہیں ہیں۔جہاں خواتین کو ونی ، سوارہ اور کاری جیسے رسومات کے بھینٹ نہیں چڑ ھایا جاتا۔۔یہاں حا دثہ کے نام پر بہووں پر پٹرول نہیں پھینکا جاتا۔یہاں تیزاب گردی نہیں ،یہاں ’’عورت ‘‘ نام کے مخلوق پر ایسا کوئی ظلم حقیقتا نہیں ہے جسکا رونا ا خباروں میں رویا جائے۔۔۔ہم تمام چترالیوں کو واقعی ’’ چترالی ‘‘ ہونے پر فخر ہے۔۔لیکن کیا وجہ ہے کہ اس سب کے با وجود ہر سال ہماری درجنوں بیٹیاں دریا ئی موجوں کو گلے لگانے پر مجبور ہوتی ہیں؟؟؟؟؟ کیا واقعی ہر خود کشی کے پیچھے و جہ مُحض ’’ عدم برداشت ہی ہے ؟؟؟؟؟ کیا آپکا ضمیر ہر بار ہر خود کُشی پر یہی ر پورٹ دینے کی اپکو اجازت دیتا ہے ؟؟؟؟اگر ا یسا ہی ہے تو میں ایسے ضمیر والوں کو مُحض ’’ سلام ‘‘ ہی پیش کر سکتی ہوں۔۔ماہرین نفسیات اور علاقے کی عزت رکھنے والے رپورٹرز بے شک ہر واقعہ کو ’’ عدم برداشت ۔ نفسیاتی مرض ۔اور مرگی کا نام دے دیں۔لیکن میں اپنے مشاہدے میں آنیوالے اُن واقعات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی جن کے و جو ہات محض ’’ جا ہلانہ رویے ‘‘ تھے۔۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایسے واقعات میں ۹۵ فیصد لوگ صرف رشتہ داروں ۔ محلہ داروں اور اساتذہ کے غلط رویوں سے تنگ آکر خود کُشیاں کرتے ہیں۔۔ماضی میں سینکڑوں لڑ کیوں نے اُساتذہ کے غلط رویوں سے تنگ آکر ۔کہیں لڑکیوں نے غلط الزامات کے بناء پر تو کہیں خواتین نے محض ’’ طعنہ بازیوں ‘‘ سے تنگ اکر خود کُشیاں کیں۔خود کُشی کرنے والے چاہے عورتیں ہوں مر د ہوں یا نوجوان بچے۔سب کے لئے دل دُکھتا ہے۔موت خود ایک صدمہ ہوتی ہے اور اگر یہ حرام کی صورت میں ہو تو یہ دُکھ اور صد مہ دُگنا ہو جاتا ہے۔میں اپنے معزز عوام کو صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ ضروری نہیں کہ ہر خُود کُشی کی وجہ ’’ عدم برداشت ‘‘ ہی ہو۔بہت مرتبہ ان واقعات کی بنیادی وجہ ’’ برداشت کی حد ‘‘ بھی ہوتی ہے۔۔دوسری طرف وہ تمام لوگ جنھوں نے امن رپورٹ کو لیکر خود کو فرشتہ سمجھ بیٹھے ہیں ۔انکے لئے میرا مودبانہ پیغام ہے کہ چترال جنت کا ٹکڑا ضرور ہے مگر چترالی عوام عام انسان ہی ہیں۔یہ فر شتوں کا علاقہ ہر گز نہیں ہے۔جن سے کوئی غلطی ہی نہ ہو۔ہمیں کُھلے دل سے اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنی چاہیے۔ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے رویوں میں لچک پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔اگر ہم نا کامیوں پر ایک دوسرے کو طعنے دینا چھوڑ دیں،اگر ہم اپنی اولاد کو تعلیمی میدان میں مخصوص ٹارگٹ دینا اور اس پر انہیں ٹارچر کرنا چھوڑ دیں۔اگر ہم دوسروں کے لئے بھی بالکل و ہی سوچنا شروع کردیں جو ’’اپنے ‘‘ لئے سوچتے اور پسند کرتے ہیں۔اور بالخصوص اگر ہم دوسروں کی بیٹیوں کے لئے اپنے رویے اپنے الفاز اور اپنے لہجے دُرست کر لیں۔تو ایسے واقعات میں بہت حد تک کمی آ سکتی ہے۔اور وہ نوجوان جنھوں نے مُحض ’’ڈگری ‘‘ یا گر یڈز کو اپنا مقصد ِ حیات بنا لیا ہے ۔ان سے میں صرف اتنا کہونگی یاد کریں کہ تاریخ میں ایک ’’ عمر و بن ہشام ‘‘ بھی تھا جو اپنے دور کا نہایت ذہین و فطین ادمی تھا مگر پھر بھی ’’ ابو جہل ‘‘ ہی کہلایا۔۔لہذا جس تعلیم کی خاطر آپ خود کُشی جیسے حرام فعل کے مر تکب ہونے جائیں اُس تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔اس وقت علاقے کے ذمہ داران ،ہمارے علما ء کرام ہمارے اُساتذہ ہمارے والدین بلکہ ہر شخص پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔کہ ہر کوئی اپنے سطح پر خود کُشی جیسے حرام فعل کے خلاف مہم چلائے۔اسلام کی روشنی میں زندگی کے اصل مقصد کو اُجاگر کریں اور اس شعور کو دوسروں تک پہنچائیں۔اور بلخصوص ہر کوئی اپنے گھروں میں اس بات کا خصوصی نو ٹس لیں کہ گھر کا کوئی فرد دوسروں کے معاملات میں دخل اند اذی تو نہیں کرتا۔دوسروں کے بارے میں آ پکے ’’ الفاذ ‘‘‘ کیسے ہیں۔ اپکا لہجہ کیسا ہے۔میں اس بات پر ذور دیتی ہوں کیو نکہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ اچھا ہونا تو کوئی نئی بات نہیں اپکا اصل امتحان دوسروں کے لیے اچھا ہونے میں ہیں۔۔یہاں میں اپنے پڑھنے والوں سے ایک گذارش ضرور کرنا چاہونگی کہ براہ ِ کرام ’’ حقوق نسواں اور آزادی ِ نسواں میں فرق کو پہچانیں۔بلکہ روشن خیالی کا ثبوت دیتے ہوئے اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ حقوق نسواں ، آزادی ِ نسواں اور ’’’خواتین کے ساتھ رویے ٹھیک کرنے کی بات ‘‘‘ تینوں بلکل الگ الگ چیزیں ہیں۔جب کوئی ان ’’ رویوں ‘‘‘ پر بات کرتا ہے تو بعض لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ یہ علاقے کی امیج کو خراب کرنے کے مترادف ہے ۔میرا ان لوگوں سے یہ سوال ہے کہ کیا یہ بڑھتی ہوئی خود کُشیاں چترال کے امیج کو خراب نہیں کرتیں ؟؟؟ کیا امیج مُحض سچائیوں سے پردہ اُٹھانے سے ہی خراب ہوتیں ہیں۔میں صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ کسی بھی واقعے کے پیچھے ہزاروں و جو ہات ہو سکتے ہیں لیکن ’’ خراب ر ویے ‘‘ ایک بہت بڑی وجہ بہت بڑی حقیقت ہیں۔ا سے تسلیم کریں ۔مت بھولیں کہ انسانی جسم میں ’’ زبان ‘‘ ہی وہ عضو ہے جو بیک وقت بہترین بھی کہلاتا ہے اور بد ترین بھی۔یہ انسانی زبان کا غلط ا ستعمال ہی ہے جس سے کہیں گھر اُ جڑ تے ہیں تو کہیں ’ ’ ز ند گیو ں کا خا تمہ ‘‘ ہو جاتا ہے۔۔۔۔

  • error: Content is protected !!