Chitral Times

Sep 20, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • غیر معیاری تعمیرات اور کمیشن سمیت کسی بھی بدعنوانی میں ملوث اہلکاروں‌کوگھر جانا ہوگا ۔۔ وزیر مواصلات

    September 13, 2018 at 10:51 pm

    پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبر پختو نخو اکے وزیرمواصلات و تعمیرا ت اکبر ا یو ب خان نے محکمہ کے انجنئیروں ا و ردیگرعملہ کو خبر د ار کیاہے کہ محکمہ میں کمیشن، غیر معیا ری تعمیرات اور ای۔ٹینڈر کے عمل میں ٹمپر نگ سمیت کسی قسم کی بد عنوانی کی بالکل کو ئی گنجا ئش نہیں ہے ۔انہو ں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چےئر مین اور وزیر اعظم عمرا ن خا ن کرپشن کے حوا لے سے زیرو بر داشت رکھتے ہیں اور اگر کسی بھی انجئیر کے کمیشن یا دیگر بد عنوا نی میں ملو ث ہو نے کی شکا یت ملی تو ذمہ دار عملہ کے سا تھ مجھے بھی گھر جا نا ہو گا۔انہو ں نے سی اینڈ ڈبلیو کے تر قیا تی کا مو ں کا معیا ر بہتر بنا نے کے لئے صو بے بھر میں محکمہ کی خا لی آسا میو ں پر فو ری بھر تیاں کر نے کا حکم دیتے ہو ئے خبر دار کیا کہ ٹینڈرو ں کی ای -بڈنگ میں ٹمپرنگ کے مر تکب اہلکا رو ں کو نو کر ی سے بر خا ست کر نے سے کم سزا نہیں دی جا ئے گی اور اس طر یقہ کا ر کو مزید شفا ف بنا نے کے لئے سسٹم کو بہتر بنا یا جا ئے گا۔صو با ئی وزیر نے یہ ا حکا ما ت منگل کے روز چیف انجئیر سی اینڈ ڈبلیو ایسٹ اعجاز حسین انصا ری کے دفتر میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدا رت کر تے ہو ئے جا ری کئے ۔صو با ئی وزیر خورا ک الحا ج قلندر خا ن لو دھی ،ایم این اے علی خا ن جدو ن اور ایم پی اے محمد نزیر عبا سی نے بھی اجلاس میں شر کت کی ۔اجلاس میں اکبر ایو ب خان نے ہر ی پور ،ایبٹ آباد اور ما نسہرہ سمیت ہزارہ ڈویژن کے تما م اضلا ع میں سی اینڈ ڈبلیو کے تعمیرا تی منصو بو ں پر پیش رفت اور ان اضلا ع میں محکمہ کو در پیش مشکلا ت دور کر نے کے لئے اہم فیصلے کئے گئے ۔اجلا س میں ہزارہ کے آٹھ اضلا ع کے ایگزیکٹو انجنئیرز نے صو با ئی وزیر کو اپنے اپنے ضلع میں جا ری اور نئے تعمیرا تی منصو بو ں کے با رے میں تفصیلی بر یفنگ دی ۔اکبر ایو ب خا ن نے بعض نا قص تعمیرا تی منصو بو ں پر اظہا ر خیا ل کر تے ہو ئے کہا کہ پی ٹی آئی کی صو با ئی حکو مت نے صو بے کے ہر محکمہ سے کر پشن کے خا تمے کے لئے بے شما ر اقدا مات کئے ہیں اور ہم ان اقدا ما ت کی کا میا بی کو فخر کے سا تھ بیا ن بھی کر تے ہیں لیکن ہم اس وقت تک کمیشن اور دیگر کر پشن کو ختم تصور نہیں کر یں گے جب تک عوا م کے منہ سے نہ سن لیں کہ کر پشن ختم ہو گئی ہے ۔انہو ں نے کہا کہ ایسا اس وقت ہو گا جب سی اینڈ ڈبلیو کی تعمیر کردہ سڑکو ں اور عما رتوں کا اعلیٰ ترین معیا ر عوا م کے سا منے آئے گا ۔اکبر ایو ب خا ن نے یقین دلا یا کہ محکمہ سے بدعنوا نی کے خا تمے کے لئے انجئیروں اور دیگر عملہ کو خصو صی مراعا ت بھی دی جا ئیں گی لیکن تعمیرا تی کا مو ں کے معیا ر پر کو ئی سمجھو تہ یا کو تا ئی ہر گز بر دا شت نہیں کی جا ئے گی۔انہو ں نے انجئیرو ں کی جا نب سے تعمیرا تی کا مو ں کے ٹھیکے لینے اور ٹھیکدا رو ں کے شرا کت دا ر بننے کی اطلا عا ت پر تشویش کا اظہار کر تے ہو ئے ایک سٹیشن پر دس سا ل سے زیا دہ تعینا ت رہنے وا لے اہلکا رو ں کے تبا دلو ں پر زور دیتے ہو ئے کہا کہ تعمیرا تی منصو بو ں کا مقررہ معیا ر یقینی بنا نے کے لئے متعدد سخت اقدا ما ت کئے جا رہے ہیں جن میں شیڈو ل آف رےئٹس کا ازسر نو تعین ،تعمیرا تی میٹریل کی مختلف مرا حل پر لیبا رٹری ٹیسٹنگ،ٹھیکدا رو ں کو کی جانے والی ادا ئیگیوں کو لیبا رٹی تجزیے کی ا طمینان بخش رپو رٹ سے مشرو ط کر نا اور نجی کنسلٹنٹس کی خدمات صر ف35کروڑ روپے سے زائد لاگت کے منصو بو ں کے لئے حا صل کرنا بھی شا مل ہیں ۔اکبر ایو ب خا ن نے بتا یا کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی جا مع تنظیم نو بھی ری سٹر کچر نگ کمیٹی کے ذریعے زیر غور ہے جس سے نہ صر ف محکمہ مضبو ط ہو گا بلکہ محکمہ میں نئی آسا میا ں تخلیق کر کے روز گا ر کے نئے مواقع پیدا کر نے میں بھی مدد ملے گی۔انہو ں نے مکمل شدہ سڑکو ں کی دیکھ بھا ل اور مر مت کے لئے روڈ انسپکٹر بھر تی کر نے اور ٹھییکدا ر متعین کر نے کی تجویز سے بھی اتفا ق کیاجو صو با ئی وزیر حا جی قلندر خا ن لو دھی نے پیش کیں۔اکبر ایو ب خا ن نے محکمہ تعلیم کی جا نب سے فنڈز کی عدم فرا ہمی کے با عث سکو لو ں کے تعمیرا تی منصو بو ں میں تا خیر پر تشویش ظا ہر کر تے ہو ئے اس با رے میں مکمل رپورٹ طلب کر لی اور محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کو ہدا یت کی کہ وہ سکو لو ں کے ان منصو بو ں پر اس وقت تک کا م شروع نہ کر یں جب تک محکمہ تعلیم ان کے لئے معقو ل فنڈز جا ری نہ کر دے۔انہو ں نے بعض نا قص تعمیرا ت پر عدم اطمینان کا اظہا ر کر تے ہو ئے کہا کہ ایسے منصو بو ں کا معیا ر چیک کر نے کے لئے پشا ور سے ایک ما ہر ما نیٹرنگ ٹیم تشکیل دی جا ئے گی جو متعلقہ ایم پی اے کے سا تھ ان منصو بو ں کا دورہ کر کے حقا ئق معلو م کر ے گی ۔انہوں نے محکمہ صحت کے منصوبوں کے لئے الگ ڈائریکٹوریٹ قائم کرنے کی تجویز سے بھی اتفاق کیا۔

  • error: Content is protected !!