Chitral Times

Sep 26, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ذرا سوچئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر : ہما حیات سید چترال

    September 13, 2018 at 9:52 pm

    آبادی میں اضافے کے ساتھ مسائل بھی بڑھ جاتے ہیں ۔ اور ان مسائل میں سے ایک مسلہ بے روزگاری کا بھی ہے ۔ اب اس مسلے سے پھر کئی مسائل پیدا ہوجاتے ہیں جن کا حل نکالنا کافی مشکل ہوتا ہے۔ اس کی مثال کے لئے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔
    اگر ہم چترال ہی میں دیکھ لیں تو بہت چھوٹا علاقہ ہے ۔اس علاقے میں سے صرف 1.8 فی صد ہی ہمارے کام کی ہے جسے ہم آباد کرسکتے ہیں۔ جہان ہم اپنے لئے گھر ، ہسپتال ،سکول وغیرہ بنا سکتے ہیں ۔ 58.2 فی صد تو پہاڑوں، چٹانوں، دریاؤں، گلیشرز وغیرہ پر مشتمل ہے۔اگر اس 98.2 فی صد میں سے کہیں آپ کو ایسی زمین مل جائے جس پر کام کیا جا سکتا ہے۔ تو اس پر زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ پھر حکومت کی ملکیت ہے اور یہاں لاش تک دفن کرنا غیر قانونی فعل ہے ۔ اب ان حالات میں بندہ کیا کرے؟
    پہلے زمانے میں وسائل کم تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسائل میں اضافہ ہوتا گیا۔ اور ان تک رسائی کی جدوجہد میں بھی ان کے بے غیر زندگی ممکن نہیں ہے۔ اور ان تک پہنچنے کے لئے روزگار بنیادی ضرورت ہے۔ آج سے 50,40 سال پہلے چترال کے خواتین بھی بے روزگاری کا ڈٹ کر سامنا کرتی تھیں۔ وہ گھروں میں رہ کر ہی کام کرتے تھیں۔ چترالی پٹی جس کے حوالے سے ہمارا علاقہ کافی مشہور تھا۔ یہی خواتین تیار کرتی تھیں ۔یہ بڑی محنت کا کام ہوتا تھا۔ لیکن آج یہ بھی چائنہ جدید مشینوں پر تیار کررہا ہے۔اور یہ بازاروں میں کافی سستے داموں میں دستیاب ہے۔ جس سے اب اسکی اہمیت نہیں رہی اور یہ کاروبار مکمل طور پر بند ہو چکاہے۔ جس سے یہ خواتین بھی بے روزگاری کا شکار ہو گئے ہیں۔
    دوسرے کاروبار کے لئے اب یہاں زمینین تو اتنی نہیں ہے۔ تو باغات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن لوگوں نے اپنے چاردیواریوں کے اندرہی سیب کا درخت لگاتے تھے۔ جو کہ مارکیٹ میں بیجے جاتے لیکن اب ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے وہ بھی پکنے سے پہلے ہی سڑ گئے۔
    چترال کے لوگوں کا تیسرا بڑا کاروبار بھی تھا چونکہ سردیوں میں خشک میوہ جات کا استعمال عا م ہوتا ہے اس لئے یہاں کے لوگ چلعوزے بچتے تھے ۔ جو بڑے پیمانے پر خریدی جاتی تھی لیکن ٹمبر مافیانے جنگلات کی کٹائی کرکے ان لوگوں کو اس سے بھی محروم کردیا۔ اب اگر ان حالات میں انسان خاموش احتجاج نہ کریں تو کیا کرے؟
    ان صورت حال سے نمٹنے کے لئے مختلف NGO,s بھی کام کررہے ہیں جن میں ہاشو جیسے NGO بھی شامل ہے۔ لیکن آبادی کے لحاظ سے یہ بھی ناکافی ہیں اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسلے کے لئے اقدامات کرے اور پھر ذرا سوچئے۔۔۔۔۔۔ اب تو حکومت بھی نوجوانوں کا ہے اور مسلہ بھی نوجوانوں کا ہی ہے۔

  • error: Content is protected !!