Chitral Times

Sep 22, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • 17اور71سال کا فرق……….. محمد شریف شکیب

    September 12, 2018 at 10:27 pm

    پشاور کے علاقہ فقیر آباد میں شوہر کا گھر لوٹنے والی خاتون کی گرفتاری کی خبر پولیس نے اپنی بڑی کامیابی کے طور پر میڈیا کو دی ہے۔شوہر نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی تھی کہ اس کی بیوی گھر سے بھاگتے ہوئے ستائیس لاکھ روپے نقد، بیس تولے سونا، موبائل فون اور نائن ایم ایم پستول بھی لے گئی۔ گرفتاری کے بعد ملزمہ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی عمر سترہ سال ہے والدین نے اکہتر سالہ بوڑھے شخص سے ان کی زبردستی شادی کرادی تھی۔ اس کے ٹھیکیدار شوہر کے گھر والوں نے ان کا جینا دوبھر کردیا تو انہوں نے گھر سے بھاگ کر جان چھڑانے کی ٹھان لی۔ اخبارات میں روز ایسی خبریں دیکھنے کو ملتی ہیں کہ دوشیزہ آشنا کے ساتھ فرار ہوگئی۔ پسند کی شادی کرنے پر لڑکی اور اس کے شوہر کو غیرت کے نام پر قتل کردیا گیا۔اور گھریلو تنازعات سے دلبرداشتہ ہوکر خاتون نے پنکھے سے لٹک کر اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا۔ اس قسم کے واقعات ہمارے ہاں روز کا معمول سمجھے جاتے ہیں۔حکومت ایسے واقعات کے پس پردہ محرکات جاننے کی کبھی کوشش نہیں کرتی ۔ ملک کے دانشور اور مذہبی رہنما ان باتوں کو قابل غور گردانتے ہیں اور نہ ہی خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والے سرکاری اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کو خواتین کے ساتھ ہونے والی ان زیادتیوں کے اسباب جاننے اور ان کا تدارک کرنے کی فرصت ہے۔ عورت ذات ہر جگہ استحصال کا شکار ہے۔ مغرب کے نام نہاد مہذب معاشرے میں اسے شو پیس کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ مشرق کے رجعت پسند معاشرے میں اسے دوسرے تیسرے درجے کے شہری کی حیثیت دی جاتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سترہ سالہ بیٹی کو والدین نے ستر سالہ شخص کے پلے باندھتے وقت ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوچا کہ اس بچی کا مستقبل کیا ہوگا۔بیٹیوں کے حوالے سے ہمارا رویہ زمانہ قبل از اسلام سے زیادہ مختلف نہیں۔ اس وقت اگر بیٹی کو پیدا ہوتے ہی ماردیا جاتا تھا۔ تو آج اسے پال پوس کر جوان کرنے کے بعد اسے قتل کروایا جاتا ہے یا اپنی زندگی ختم کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق رواں سال کے نو مہینوں کے اندر ملک کے سب سے زیادہ پرامن ضلع چترال میں 26افراد نے خود کشی کی جن میں دوتہائی تعداد نوعمر لڑکیوں کی تھی۔ اگر ان کی بہتر تربیت کی جاتی۔ انہیں بہتر گھریلو ماحول فراہم کیا جاتا۔معمولی غلطی ، امتحان میں فیل ہونے یا کم نمبر آنے پر انہیں لعن طعن کرنے کے بجائے انہیں حوصلہ دیا جاتا تو اتنی بڑی تعداد میں قیمتی انسانی جانیں ضائع نہ ہوتیں۔بیٹیاں تو ماں باپ کے لئے باعث رحمت ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ جس خاندان پر مہربان ہوتا ہے اس گھر میں بیٹی پیدا ہوتی ہے۔ بی بی فاطمۃ الزہرہ جب سرکار دوعالم کے گھر جاتیں تو رسول خدا خود ان کے استقبال کے لئے دروازے پر تشریف لاتے ۔جو فرزندان توحید سرکار دوعالم کی زندگی اور سیرت مبارکہ کو اپنے ضابطہ حیات اور مشعل راہ سمجھتے ہیں انہیں بیٹی کے ساتھ حسن سلوک والی سنت پر بھی عمل کرنا چاہئے۔ خود کو مسلمان کہلانے کے باوجود بیٹیوں کے حوالے سے ہمارا رویہ اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ جس عورت کے ہاں تین چار بیٹیاں پیدا ہوں۔ اس پر عرصہ حیات تنگ کیا جاتا ہے۔ ماں باپ بیٹی کو غیروں کی امانت اور بیٹوں کو گھر کا وارث اور بڑھاپے کا سہارا سمجھتے ہیں۔ حالانکہ میں نے ایسی درجنوں نہیں، بلکہ سینکڑوں ایسی بیٹیاں دیکھی ہیں جو اپنے خاندان کی کفالت کرتی ہیں اور اس گھر کے بیٹے نہ صرف ماں باپ بلکہ پورے معاشرے کے لئے بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ماں باپ کے گھر میں اچھی تربیت کے نتیجے میں ہی بیٹی ایک وفاشعار بیوی اور ماں کی صورت میں شفقت و محبت کی علامت بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بیٹے کو تعلیم دینا ایک فرد کو تعلیم یافتہ بنانا ہے جبکہ بیٹی کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا پورے خاندان کو تعلیم یافتہ بنانا ہے۔ صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ بیٹیوں کو اپنے دین، اقدار اور تہذیب کا درس دینا بھی ضروری ہے ۔تاکہ اسے دین کے ساتھ دنیاوی معاملات سے بھی آگاہی ہو۔ اولاد کے ساتھ مساوی سلوک کا عملی مظاہرہ گھر سے ہونا چاہئے پھر سکول، کالج، یونیورسٹی اور محراب و منبر سے بھی اس کی تبلیغ ضروری ہے۔ اگر بیٹیوں کے ساتھ معاندانہ رویہ ترک نہ کیا گیا۔ تو ایسے سانحات رونما ہوتے رہیں گے۔

  • error: Content is protected !!