Chitral Times

Dec 13, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • چترال ایون کالاش ویلیز روڈ کی تعمیر کا کام بلا تاخیر شروع کیا جائے۔۔۔۔۔عوامی حلقے

    September 10, 2018 at 9:06 pm

    چترال ( محکم الدین ) یونین کونسل ایون کے عوام نے نو منتخب وفاقی اور صوبائی حکومت سے پُر زور مطالبہ کیا ہے ۔ کہ چترال ایون کالاش ویلیز روڈ کی تعمیر کا کام بلا تاخیر شروع کیا جائے ۔ جس کا انوائرنمنٹل اسسمنٹ سمیت دیگر قانونی تقاضے پورے ہو چکے ہیں ۔ اور علاقے کے لوگ مذکورہ سڑک کی تعمیر کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں ۔ کالاش ویلی رمبور ، کالاش ویلی بمبوریت ، بریر اور ایون کے تمام ناظمین ، کونسلز ، عمائدین اور سول سوسائٹی کے نمایندگان نے اپنے اخباری بیانات میں اس امر کا اظہار کیا ہے ۔ کہ کالاش ویلز سیاحتی مقامات ہیں ۔ جہاں پہنچنے کیلئے سیاحوں اور مقامی لوگوں کوخراب سڑک کے باعث شدید مشکلات درپیش ہیں ۔ اور ان ہی مشکلات کو پیش نظر رکھ کر سابقہ حکومت نے اس کی تعمیر کیلئے سروے و دیگر قانونی تقاضے سمیت اس کی اپروچ روڈ کیلئے فنڈ بھی ریلیز کئے تھے ۔ لیکن حکومت کی تبدیلی کی وجہ سے کام رکا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس خراب سڑک کی وجہ سے پوری دُنیا کے سیاحوں کے سامنے پاکستان کی بدنامی ہوتی ہے ۔ اور سیاحت جیسے فائدہ مند صنعت کو بُی طرح نقصان پہنچ رہا ہے ۔ اس لئے اس پر کام شروع کیا جائے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ نئی حکومت سے لوگ بہت توقعات رکھتے ہیں ۔ اور یہ منصوبہ حکومت اور مقامی عوام دونوں کے مفاد میں ہے ۔ علاقائی عمائدین نے کہا ۔ کہ اب یہ افواہ گشت کر رہی ہے ۔ کہ اس منصوبے کو منسوخ کیا جا رہا ہے ۔ جو کہ علاقے کے لوگوں کیلئے انتہائی مایوسی اور محرومی کی خبر ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہم نومنتخب حکومت سے مثبت تبدیلی کی توقع رکھتے ہیں ۔ اور امید ہے ۔ کہ نئی حکومت فوری طور پر اس منصوبے پر کام شروع کرے گا ۔ بصورت دیگر ایون اور کالاش ویلیز کے عوام سراپا احتجاج ہوں گے ۔ عوامی حلقوں نے ممبر قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی ، ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن اور اقلیتی رکن اسمبلی خیبر پختونخوا وزیر زادہ ، سے مطالبہ کیا ہے ۔ کہ اس حوالے سے چیرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے ملاقات کرکے صحیح صورت حال کو وا ضح کریں ۔ اور عوامی تشویش سے متعلقہ حکام اور وفاقی حکومت کو آگاہ کریں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس روڈ کے کام میں رکاوٹ کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ اور اس کیلئے احتجاج کی نوعیت بالکل مختلف ہو گی ۔

  • error: Content is protected !!