Chitral Times

Sep 19, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • چی غیچی che-ghaiche……………میر سیما آمان

    September 8, 2018 at 10:40 pm

    کھوار ثقافت میں بیٹے کی شادی پر دئے جانیوالے تحفے کو ’’ پندار‘‘ کہا جاتا ہے جبکہ بیٹی کی شادی پر دی جانیوالے تحفے کو ’’چی غیچی ‘‘‘ بولا جاتا ہے..یہ تحفہ رشتہ دار ، اہل ِ محلہ اور دوست احباب ہر کوئی اپنے حثیت کے مطابق دیتے ہیں جو یا تو پیسوں کی صورت میں ہوتا ہے یا کپڑے ، زیور ،برتن ،فر نیچر یا الیکٹر ونکس کے سامان کی صورت میں ہوتا ہے۔۔ہم تمام لوگ جہیز پر تو اکثر لعنت بھیجتے رہتے ہیں لیکن چی غیچی اور پندار جیسی چیزوں پر کبھی اعتراض کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی ۔۔کیوں؟؟حا لا نکہ جہیز کی طرح یہ رسومات بھی دھرتی پر بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔ٹھیک ہے کہ اسلام تحفہ قبول کرنے کا درس دیتا ہے لیکن جس تحفہ کا پس منظر ہی خراب ہو اُس تحفے پر اعتراض کرنا بنتا ہے۔۔آج کے مضمون میں میں چی غیچی نامی اسی تحفے کے پس منظر کو واضح کرنا چاہتی ہوں۔جسے میں ذاتی طور پر برسوں سے دیکھتی آرہی ہوں۔۔غالب کے شعر کی طرح ہم سب کی زندگیاں روزایک نئے تماشے دیکھتی ہوئی گزر ر ہی ہیں۔لیکن تمام تماشوں سے بڑھ کر میرے لئے ذاتی طور پر ا س سے بڑھ کر اور کو ئی تماشہ نہیں ہوتا جب میں کسی ’’ بیٹی ‘‘ کو پورے خاندان کے ہاتھوں بات بے بات ذلیل ہوتے دیکھتی ہوں،،الزامات سہتے اور نفرت برداشت کرتے دیکھتی ہوں۔۔کہیں بھائیوں کے ہاتھوں پٹتے ہوئے تو کہیں بھا بییوں کے ہا تھوں خوار ہوتے ہوئے دیکھتی ہوں ۔۔نند کا نام دے کر جہاں اس ’’بیٹی ‘‘ کو گالی بنایا جاتا ہے وہیں ماں باپ کے گھر سے اسے بے دخل کرنے کے کہیں پر و پینگنڈے کئے جاتے ہیں۔وہی گھر جسے ایک باپ بیٹے سے ذیادہ بیٹی کو تحفظ دینے کے لئے بناتا ہے ہاں وہی گھر ان نام نہاد رشتوں کے ہاتھوں بیٹی کے لئے جہنم بن جاتا ہے۔۔پھر جب اسی بیٹی کی شادی کا وقت آجاتا ہے تو لعنت ملامت کرنے والے وہی تمام لوگ وہی منحوس چہرے جنھوں نے ساری ذندگی اس بیٹی کو دُکھ دینے کے علاوہ کچھ نہ کیا تھا ،وہی لوگ شائد دِکھاوے کے لئے نمود و نمائش کے لئے یا پھر ا پنے ہی مُردہ ضمیر کی ’’شانتی ‘‘ ‘ کے لئے ہاتھوں میں ’’ چی غیچی ‘‘ کے سامان اُٹھائے لاتے ہیں۔۔میرے لئے یہe scen بڑا ہی مضحکہ خیز ہے۔۔کیا ایک بیٹی کی بس یہی اوقات ہے ؟؟کیا انسانی عزت کی بس یہی قدر ہے؟؟؟کہ جب تک بیٹی ماں باپ کے گھر میں ہو ہم اُسے ہر طرح سے ذلیل کرنے کا ٹھیکہ لیں۔۔اُسے ہر قسم کی ا ذیت پہنچا ئیں۔اُٹھتے بیٹھتے اس کی صورت سیرت اور اخلاق و کردار پر فتوے دیتے رہیں۔پھر شادی کا موقع آئے تو ۲ ہزار کا ایک سوٹ چند ہزار کے برتن الیکٹر ونکس اور فرنیچر دلا کر ہم اپنے ’’ا عمال نامے ‘‘ صاف کروائیں ۔۔اور اگر بیچ میں شادی کا باب نہ آئے تو یقین کریں بیٹی کے ساتھ یہ گھٹیا سلوک مرتے دم تک جاری رہتا ہے۔۔میں ان تمام بیٹیوں سے اتنا کہو نگی کہ جن رشتوں نے اپ کی گزشتہ ذندگی میں سوائے اپکو اذیت دینے کے اور کچھ نہ کیاْ ۔جنھوں نے اپ کے کردار کو علاقے میں ایک سوالیہ نشان بنا یا۔۔وہی رشتے جن کی وجہ سے اپ ایک بار نہیں کہیں با ر گھر کے کونوں کھدروں میں چُھپ کر روئے ہوں۔اِ ن تمام رشتہ داروں ،بہن بھائیوں،محلہ داروں اور احباب کے ہاتھوں ملنے والی ’’ چی غیچی ‘‘ سے صاف انکار کریں۔واﷲ ہم بیٹیوں کی اوقات یہ دو کوڑی کے سامان ہرگز ہر گز نہیں ہیں۔ اور نہ بیٹیوں کی ’عزت ‘ اِ ن دو کوڑی کے سامانوں سے ہونے والی ہے۔ ۔بیٹیاں تو رحمت ہوتی ہیں ،بیٹیاں تو پھول ہوتی ہیں ،بیٹیاں تو جنت کی کُنجی ہوتی ہیں ,, بیٹیاں تو وہ ہیں جن کے ساتھ شفقت کرنے والے پر جنت واجب ہو جاتا ہے۔اور یہ سب میں نہیں کہتی ۔یہ میرا ا ﷲ کہتا ہے اور یہ سب اﷲ کا ر سولﷺ کہتا ہے ۔وہ تمام لوگ جو اج بھی ذمانہ ِ جا ہلیت کی طرح بیٹی کی پید ائش پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں ۔بیٹی کو بوجھ سمجھتے ہیں۔جو کسی شخص کو محض بیٹیاں ذیادہ ہونے پر ’’طعنے ‘‘ دیتے ہیں اور کمزور سمجھتے ہیں وہ اسلام کی تاریخ میں ’’بیٹی کی حثیت و مر تبے کو ‘‘ ایک بار ضرور پڑھیں ۔ یاد کریں رسول پاکﷺ کی بیٹیاں جب کمرے میں داخل ہوتی تھیں تو رسول اکرم ﷺ اُن کے استقبال میں اُٹھ کھڑے ہوتے تھے۔یہ رسول پاک ﷺ جیسی عظیم شخصیت کی نظر میں بیٹی کی عزت و تکریم تھی۔آج یہ کیسا دور ہے جسکی تر قی کی حد ایک طرف یہ ہے کہ بنی ادم چا ند پر پہنچ چکا ہے۔دُنیا گلو بل ویلج بن چکی ہے لیکن دوسری طرف جہالت کے اند ھیروں سے نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔میں اکسویں صدی کے اس روشن خیال معا شرے اعلی تعلیم یافتہ عوام کو صرف اتنا پیغام دینا چاہو نگی کہ کسی بھی بیٹی کے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی ’’چی غیچی ‘‘ یا انعام نہیں ہوتا کہ جب تک وہ ماں باپ کے گھر میں ہوں انکے ساتھ شفقت اور رحم دلی کا سلوک رکھا جائے۔اُ نھیں عزت و احترام دی جائے ۔یہی وہ اصل سامان ہوتا ہے جن کی روشنی میں بیٹیوں کی آئندہ زندگیاں سنور تی ہیں۔۔نہ کہ چند سِکوں سے خریدے گئے برتن ، کپڑے یا ذیور جنکا حقیقی ٹھکانہ کوڑا دان ہے۔۔۔۔۔۔!!!!!

  • error: Content is protected !!