Chitral Times

Oct 17, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • لواری ٹنل کو بند رکھنے کا مقصد دیر ہوٹل مالکان کو فائدہ پہنچانے کے علاوہ کچھ نہیں..عمائدین چترال

    September 7, 2018 at 8:24 pm

    چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال کی سول سوسائٹی نے لواری ٹنل کو چوبیس گھنٹے پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے کھلا نہ رکھ کر چترال آنے اور جانے والے مسافروں کوذہنی وجسمانی اذیت میں مبتلا کرنے کے عمل کو دیراپر انتظامیہ اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے درمیاں گٹھ جوڑ اور چترالی عوام کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ گھناؤنا کھیل اصل میں دیر اپر کے سائیڈ پر واقع ہوٹلوں اور دکانوں کو فائدہ پہنچانے کے واسطے کھیلا جارہا ہے کیونکہ کئی کئی گھنٹے مسافروں کی گاڑیوں کو روکے رکھنے سے لاکھوں روپے ان کے جیبوں سے نکل جاتے ہیں۔ جمعہ کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین اور سوشل ورکر قاری جمال عبدالناصر، سماجی کارکن قاضی شاکر اللہ، ڈرائیور یونین کے صدر صابر احمد، صدر تجار یونین شبیر احمد، سماجی کارکن صفدرعلی اکاش اور دوسروں نے کہاکہ ٹنل کے اندرکوئی قابل ذکر کام نہیں ہونے کے باوجود ٹنل کو ٹرانسپورٹ کے لئے بند رکھنا نا انصافی ہے جسے چترال کے عوام مزید برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ سفارش اور اثرورسوخ کی بنیاد پر سرکاری افسران کی گاڑیوں سمیت دوسرے گاڑیوں کو بھی چھوڑ دئیے جاتے ہیں اور چکن لانے والی گاڑی بھی چھوڑ دی جاتی ہے لیکن غریب مسافروں کی گاڑیوں کو گھنٹوں انتظار کرایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر اس ٹنل کو چوبیس گھنٹے کھلا چھوڑ دیا جائے تو نہ گاڑیوں کا رش بن جائے گا اور نہ ٹنل کے اندر کوئی دھواں جمع ہوگا ۔ ان کا کہنا تھاکہ ٹنل کو بند رکھنے کی وجہ سے گزشتہ عید الاضحی کے موقع پر کئی ہزار سیاح واپس چلے گئے جس سے چترال کوکروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ انھوں نے زور دیکر کہا کہ چترالی عوام کو مذید اذیت سے دوچار نہ کیا جائے بصورت دیگر بھر پور احتجاج کرینگے ۔جس میں روڈ بلاک، دھرنا لانگ مارچ کے علاوہ خواتین کو بھی سڑکوں پرلایا جائیگا۔جس کیلئے تمام مکاتب فکر سے صلح مشورے کے بعد لائحہ عمل طے کرینگے۔
    انہوں نے لواری ٹنل کے دیر اپر والے سائیڈ پر بھی چترال سکاوٹس کی نفریوں کی تعیناتی کا مطالبہ کیا جوکہ چترال کی تہذیب وثقافت سے آشنا ہیں اور مسافروں سے ان کے شایان شان سلوک کریں گے اور ان کوچترا ل کے تمام گاؤں کے بارے میں معلومات بھی حاصل ہوتے ہیں۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے لواری ٹاپ روڈ کو بھی ٹریفک کے لئے کھولنے کا مطالبہ کیا تاکہ اسے بھی استعمال کیا جاسکے۔

  • error: Content is protected !!