Chitral Times

Sep 20, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • کلر چترال کے زیر اہتمام ضلع کونسل چترال کے ہال میں یوم دفاع کے سلسلے میں تقریب

    September 7, 2018 at 7:13 pm

    چترال ( محکم الدین ) کلر چترال کے زیر اہتمام ضلع کونسل چترال کے ہال میں یوم دفاع کے سلسلے میں شاندار تقریب منعقد ہوئی ۔ جس میں ضلع نائب ناظم چترال مولانا عبد الشکور مہمان خصوصی تھے ۔ یہ تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی ۔ جس میں پہلی نشست کی صدارت ڈپٹی کمشنر چترال خورشید عالم محسود اور دوسری نشست کی صدارت جنرل منیجر آغا خان ایجو کیشن سروس پاکستان بریگیڈئیر ریٹائرڈ خوش محمد نے کی ۔ تقریب کی نظامت کے فرائض معروف سوشل ایکٹیوسٹ عنایت اللہ اسیر نے انجام دی ۔ پہلی نشست کے صدارتی خطاب میں ڈپٹی کمشنر چترال نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاَ ۔ کہ اللہ رب العزت نے انسانوں میں شہدا کو سب سے اہم منصب عطا فرمایا ہے ۔ اور شہادت ہی کے بدلے لازوال زندگی عطا کی ہے ۔ اور یہ شہدا ہی کی قربانیوں کا ثمر ہے ۔ کہ ہم سکون اور اطمینان کی زندگی جی رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جن کے جوان بیٹے پاکستان کی سالمیت اور بقا کیلئے قربان ہوئے ۔ وہ لوگ نہایت عزت و احترام کے لائق ہیں ۔ اس موقع پر انہوں نے ضلعی انتظامیہ چترال کی طرف سے دارالاطفال چترال کے یتیم بچوں کی ہر ممکن مدد کرنے کا یقین دلایا ۔ اور اسسٹنٹ کمشنر چترال ساجد نواز کی کوششوں کو سراہا ۔ ڈپٹی کمشنر چترال لیویز کے شہید جوانوں کے ورثا اور دارالاطفال کے بچوں میں انعامات اور تحائف تقسیم کئے ۔ بعد آزان دوسری نشست میں صدر محفل کے فرائض جی ایم اے کے ای ایس پی بریگیڈئر خوش محمد نے انجام دی ۔ اس موقع پر مہمان خصوصی ضلع نائب ناظم چترال مولانا عبد الشکور نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ پاکستان کی بہادر فوج نے صرف بھارت کے ساتھ جنگوں کا مقابلہ نہیں کیا ۔ بلکہ افغان جنگ میں روس کو شکست سے دوچار کرنا ، نائن ایلوین کے بعد اُبھرنے والے دہشت گردی کی جنگ میں دہشت گردوں کو شکست دینا بھی ان ہی کا سہرا ہے ۔ اور یہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور بے مثال قربانیوں کی بدولت ممکن ہو ا ۔ ورنہ دشمن نے ہر وہ حربہ استعمال کیا ۔ جس کے ذریعے سے مملکت پاکستان کو نقصان پہنچایا جاسکتا تھا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ملک دشمنوں نے اور تو اور داڑھی رکھنے والوں اور پگڑی ولمبے قمیص پہنے والوں کو بھی نہیں بخشا ۔ اور اُنہیں دہشت گردوں کی شکل میں دُنیا کے سامنے پیش کردیا ۔ اُنہوں نے کہا ۔ آج ہماری سکون و اطمینان کی زندگی اُن بہادر جوانوں کی قربانیوں کا ثمر ہے ۔ جنہوں نے اپنا خون ملک کی سالمیت اور بقا کیلئے قربان کر دی ۔ انہوں نے بہتریں پروگرام کے انعقاد پر کلر چترال کے آرگنائزر مہتاب ضیاب اور اُن کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا ۔ اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ۔ صدر محفل بریگیڈئر ریٹائرڈ خوش محمد نے اپنے خطاب میں کہا ۔ کہ 6ستمبر جیسے دفاع وطن کے تاریخی واقعات کے بارے میں نوجوان نسل کو معلومات و آگہی کا ہونا انتہائی ضروری ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ 1965کی جنگ فوج نے نہیں قوم نے لڑی ہے ۔ اس کے پانچ سال بعد کی جنگ ہم اس لئے نہیں جیت سکے ۔ کہ قوم اور فوج ایک پیج پر نہیں تھے ۔ اس لئے کسی جنگ کے جیتنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ عوام فوج کی پُشت پر کھڑی ہو ۔ خوش محمد نے کہا ۔ کہ جنگ میں تعلیمی اداروں کا بہت بڑا کردار ہے ۔ کیونکہ تعلیم کے میدان سے ہی نوجوانوں کو تراش خراش کر کندن بنایا جاتا ہے ۔ اور پھر وہ دفاع وطن کیلئے ہر شعبے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ پاکستان کی تمام جنگوں میں عوام کی قربانی انتہائی اہمیت کی حامل رہی ہے ۔ لیکن جنگوں کی بنیاد مسئلہ ہی کشمیر ہے ۔ جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ایمان ، تقوی اور جہاد فی سبیل اللہ کے موٹو پر سختی سے کاربند رہنے کی ضرورت ہے ۔ اور یہی کامیابی کی بنیاد ہیں ۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے دُشمن کی طرف سے پھیلائی جانے والی مختلف افواہوں اور سازشوں سے نوجوانوں کو آگاہ رہنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ اور کہا ۔ کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہمارے نوجوانوں کو اعلی معیاری تعلیم حاصل کرکے چترال سے باہر روزگار تلاش کرنے چاہئیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہمارے جذبات اپنی جگہ مگر آج حکمرانی عقل اور علم کی بنیاد پر کی جاتی ہے ۔ بریگیڈئر خوش محمد نے دارالاطفال کے طلباء کیلئے پچاس ہزار روپے کا بھی اعلان کیا ۔ قبل ازین معروف سکالر سابق ڈائریکٹر پی ٹی وی حبیب الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی دفاع دونوں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں ۔ اور جو ریاست نظریے کی بنیاد پر کھڑی ہو وہ سب سے مستحکم ریاست کہلاتی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ پاکستان اور افغانستان کا دفاع مشترک ہے ۔ اور ہمارے اسلاف نے نظریاتی سرحدوں کی ہمیشہ حفاظت کی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ دفاع وطن میں چترال کا بہت بڑا کردار ہے ۔ اور کرنل مطاع الملک ایک چترالی آفیسر ہی تھا ۔ جنہوں نے کشمیر کی جنگ کو اسکردو کے مقام پر منطقی انجام تک پہنچایا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جو قوم اپنے نظریے کا دفاع نہ کر سکے وہ اپنے ملک کا بھی دفاع نہیں کر سکتا ۔ ہمیں اپنے نظریے کو مضبوطی سے پکڑنے کی ضرورت ہے ۔ تقریب سے معروف عالم مولانا اسرا الدین الہلال ،پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حاجی سلطان ، آل تیچر ایسوسی ایشن چترال کے صدر مظفر الدین ، مولانا عمادالدین نے خطاب کیا ۔ جبکہ کلر چترال کی طرف سے نعت اور ملی نغمے پیش کرنے والوں کو ایوارڈ دیے گئے ۔ جبکہ شہدا میں تحائف تقسیم کئے گئے ۔


  • error: Content is protected !!