Chitral Times

Oct 15, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • استاد کی خود کشی……….. محمد شریف شکیب

    September 5, 2018 at 9:42 pm

    نظیر اکبر آبادی کا مشہور شعر ہے کہ ’’ تھا ارادہ تیری فریاد کریں حاکم سے۔۔ وہ بھی اے شوخ تیرا چاہنے والا نکلا‘‘ریاست میں کوئی ظلم یا ناانصافی ہو تو حاکم وقت، گھر میں بہن بھائیوں میں تکرار ہو تو ماں باپ اور سکول کے حوالے سے کوئی شکایت ہو۔ تو استاد سے رجوع کیا جاتا ہے۔ہم سوچ رہے تھے کہ امتحان میں کم نمبر آنے یا فیل ہونے کی وجہ سے چترال میں نوجوان طلبا اور طالبات کی خود کشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بارے میں اساتذہ سے معلوم کیا جائے کہ ان واقعات کے پس پردہ کیا وجوہات اور محرکات ہوسکتی ہیں۔ اور اس خوفناک رجحان کو کیسے روکا جاسکتا ہے۔ کیونکہ اساتذہ ماں باپ اور بہن بھائیوں کے مقابلے میں بچوں سے زیادہ قریب ہوتے ہیں اور ان کی نفسیات کو بہتر سمجھتے ہیں۔ ابھی ہم یہ سوچ ہی رہے تھے کہ چترال کی سب تحصیل گرم چشمہ کے علاقہ بش قیر میں ایک استاد کی خود کشی کی خبر آگئی۔ محمد قاسم گورنمنٹ پرائمری سکول بش قیر کا ہیڈ ٹیچر تھا۔ تین بچوں کے باپ چھپن سالہ قاسم نے گلے میں پھندا ڈال کر اپنی زندگی کا اپنے ہی ہاتھوں خاتمہ کردیا۔استاد پورے معاشرے کے لئے رول ماڈل ہوتا ہے۔ وہ معماران قوم کا معمار ہوتا ہے۔ استاد کے نام کے ساتھ ایسا خاکہ ذہن میں ابھرتا ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ، نہایت تجربہ کار، دور اندیشن، معاملہ فہم ، زیرک اور تعمیری سوچ کا حامل ہوگا۔ جب وہ اپنے شاگردوں کو زندگی کی اہمیت کے بارے میں بتانے اور انہیں احترام انسانیت کا درس دینے کے بجائے خود اپنی جان کا دشمن بن جائے تویہ صورتحال انتہائی سنگین اور ہنگامی بنیادوں پر توجہ کی متقاضی ہے۔ اس سے ایک دن پہلے یارخون لشٹ میں چالیس سالہ صدرالدین کی خود کشی کی خبر آئی تھی۔ لواحقین کے مطابق دو بچوں کا باپ صدرالدین دو دنوں سے لاپتہ تھا۔وہ کافی عرصے سے بیروزگار تھا۔ تلاش کے بعد میراگرام کے مقام پر دریا سے اس کی لاش برآمد ہوئی۔ یہ ستمبر کے پہلے ہفتے کے اندر چترال میں خود کشی کا تیسرا واقعہ تھا۔ اگست کے مہینے میں ضلع کے مختلف علاقوں میں آٹھ افراد نے خود کشی کی تھی۔ جن میں تین طالبات اور دو طلبا بھی شامل تھے۔جنہوں نے ایف ایس سی کے امتحان میں توقع سے کم نمبر آنے یا فیل ہونے کی وجہ سے دلبرداشتہ ہوکر اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا۔گذشتہ ڈیڑھ سالوں کے اندر چترال میں خود کشی کرنے والوں کی تعداد 35سے بھی تجاوز کرگئی ہے۔ ملک کے سب سے پرامن علاقے میں خود کشی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر صوبائی حکومت بھی متحرک ہوگئی ہے۔ محکمہ صحت کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن کی سربراہی میں چار رکنی تحقیقاتی کمیشن قائم کیا گیا ہے جس میں ڈی ایچ او چترال اور دو نفسیاتی ماہرین بھی شامل ہیں۔ تحقیقاتی کمیشن کے ممبران اگرچہ اب تک چترال نہیں گئے تاہم معروضی حقائق کی بنیاد پر اپنی ابتدائی رپورٹ میں قرار دیا ہے کہ چترال میں خود کشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پس پردہ بہت سی محرکات ہیں جن میں معاشرتی دباو، غربت، تنگ دستی، بے روزگاری، مایوسی اور ڈپریشن شامل ہیں۔یہ بات بھی باعث حیرت ہے کہ گلگت بلتستان کے صحت افزاء اور خوبصورت علاقے ہنزہ اور غذر میں خود کشی کے سب سے زیادہ واقعات رونما ہوتے ہیں۔چترال خود کشی کے کیسز کے حوالے سے دوسرے نمبر پر ہے۔ انسانی صحت، نفسیاتی امراض اورڈپریشن پر تحقیق کرنے والوں کو اس مسئلے پر فوری توجہ دینی چاہئے کہ پرامن اور صحت افزاء مقامات کے لوگوں میں اپنی زندگی ختم کرنے کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے۔ انسان کی زندگی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت اور انسان کے پاس اللہ کی امانت ہوتی ہے۔ جس کی حفاظت ہر فرد، معاشرے اور حکومت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ذہنی صحت اور نفسیاتی مسائل کو ہمارے ہاں بیماری میں شمار نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ یہ جسمانی بیماری سے زیادہ خطرناک اور مہلک ہوتی ہیں۔ حکومتی سطح پر بھی ذہنی صحت اور نفسیاتی مسائل کے حل کے لئے اب تک کوئی ٹھوس کام نہیں ہوا۔ جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ صوبے میں سرکاری سطح پر نفسیاتی امراض کے علاج کا کوئی اسپتال موجود نہیں۔ نہ ہی ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتالوں میں ماہر نفسیات کی تقرری کو ضروری سمجھا گیا۔ صوبے کے مختلف علاقوں سے ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار لوگ علاج کے لئے جب پشاور آتے ہیں تو ایک فلاحی ادارے ہورائزن کے عبادت اسپتال کے سوا انہیں امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔ انسانی ہمدردی کے جذبات سے سرشارپروفیسر ڈاکٹر خالد مفتی اپنی ٹیم کے ساتھ جہاں ضرورت پڑتی ہے وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن یہ مسئلہ انفرادی کوششوں سے حل ہونے والا نہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کو اس سنگین مسئلے کی بنیادی وجوہات کا پتہ چلاکر ان کے تدارک کے لئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکے۔

  • error: Content is protected !!