Chitral Times

Dec 11, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ملاکنڈ ڈویژن کی پہلی خاتون پولیس افیسر۔۔۔۔دلشاد پری

    September 4, 2018 at 8:40 am

    صنف نازک کی کمزور ی کا احاطہ کرتے ہوئے ویلئیم شیکسپئر نے اپنے مشہور ڈرامہ ہیملٹ میں کہا تھا frailty, thy name is womanلیکن چترال پولیس کی خاتون پولیس افیسر دلشاد پری کو ان کی پیشہ ورانہ ڈیوٹی میں کوئی منہمک دیکھے تو اسے معلوم ہوگا کہ اکیسویں صدی عیسوی کی اس صنف نازک نے کس طرح اس تاریخی جملے کو غلط ثابت کردیا اور ساتھ ہی یہ ثابت کردیا کہ خود اعتمادی کی دولت اور اپنے پیشے سے عشق ہو تو کس طرح بڑے بڑے پہاڑ رائی کے دانوں کی طرح راستے سے ہٹ جاتے ہیں۔ پولیس کی وردی میں اس چٹان کو دیکھ کر شاعرمشرق ؒ کا مردکوہستانی یاد آجاتے ہیں جس کی نسوانیت میں عزم ، دیانت ، ولولہ اور خود اعتمادی نمایان ہے جوکہ انسان کو کامیابی کی اوج ثریا تک پہنچانے والے اوصاف ہیں۔ ملاکنڈ ڈویژ ن میں سب سے پہلی خاتون پولیس افسیر کا اعزاز حاصل کرنے والی دلشاد پری یقیناًایک قابل تقلید کردار ہیں جس کے جہد مسلسل سے چترال کی بیٹیاں بہت کچھ سیکھ سکتی ہیں۔ چترال ٹائمز ڈاٹ کام نے اس حقیقت کے پیش نظر دلشاد پری کا ایک مفصل انٹرویو کیا جوکہ اپنی قارئیں کے لئے حاضر ہے:

    چترال ٹائمز: آ پ کا تعارف
    دلشاد پری ، دختر سید عزیز ولی شاہ ، ساکنہ بونی چیرانٹک

    چترال ٹائمز: آپ کی تاریخ پیدائش اور تعلیمی قابلیت؟
    دلشاد پری : میں 5نومبر1989ء میں بونی کے چیرانٹک گاؤں میں سیدعزیز ولی شاہ کے گھر پیدا ہوئی۔ میں نے کیمسٹری میں ایم ۔ایس سی کے علاوہ ایل ایل۔ بی،اور بی ۔ایڈ کی ڈگریاں بھی حاصل کی ہے۔ جبکہ فزیکل ایجوکیشن میں بھی ڈپلومہ کیا ہوا ہے ۔


    چترال ٹائمز: اپنی تعلیمی کیریر کے بارے میں بتائیے اور دوسرے خواتین کے برعکس اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود پولیس سروس جوائن کی وجہ کیا تھی؟
    دلشاد پری: مجھے ڈاکٹر بنانے کا والدین اور بہن کو بہت ہی شوق تھا جس طرح ہر ایک قابل بیٹی کے ساتھ یہ توقع وابستہ کیا جاتا ہے کہ وہ ڈاکٹر ہی بنے گی کیونکہ چترال میں لیڈی ڈاکٹر کو بہت ہی عزت واحترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ خود مجھے بچپن سے ہی پولیس اور وکیل بننے کا بہت شوق تھا کیونکہ میرے ابو بھی پولیس میں تھا جوپچیس سال سروس کرنے کے بعد سبکدوش ہوئے تھے۔ اپنے شوق کو پس پشت ڈال کر گھر والوں کی مرضی کے مطابق میڈیکل کالج میں داخلے کے لئے انٹری ٹیسٹ کی تیاری کررہی تھی اور ایف ایس سی امتیازی نمبروں سے پاس کرنے کے بعد یہ تیاری عروج پر تھا کہ اچانک والد صاحب کی وفات کی وجہ سے ذہنی صدمے کے باعث میڈیکل کیلئے صحیح تیاری نہ کرپائی۔جب اس غم کی شدت سے سنبھل پائی ، تو سوات ڈگری کالج میں فرسٹ میرٹ لسٹ پر داخلہ ہوگئی ۔میں اپنے گاوں چیرانٹک کی سب سے پہلی لڑکی تھی جس نے لواری ٹاپ سے باہر پڑھائی کیلئے قدم رکھ لی تھی۔ میرے بعد تو تمام لڑکیاں چترال سے باہر پڑھنے کیلئے جانے لگے ۔ بی ایس سی میں داخلے کے بعد جب کلاس شروع ہونے لگے توجو حالات دیکھنے کو ملے جس کا میں تصور بھی نہیں کرسکتی تھی۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب سوات میں طالبان اور آرمی کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔ وہاں دھماکوں کی آواز میں ہم لوگ کلاسیں لینے جاتے تھے۔ وہ جو میں چترال میں کبھی نہیں دیکھی تھی اور دھماکوں کی آواز میں گھر سے دور سٹڈی میں مگن ہوگئی ۔ بی ایس سی کا امتحان بھی میں فسٹ ڈویژن سے پاس کرلی ۔ بی ایس سی کا امتحان دے کر فارع ہوئی تھی تو اچانک سہیلی کے مشورے پر ان کے ساتھ ملکر پولیس میں بھرتی کے لئے درخواست دے دی ۔ یہ جذباتی فیصلہ تھا یا میراجنون یا دونوں کہ میں نے پولیس جوائن کرلی۔ اس بعد میں نے اپنی لگن اور محنت سے آگے جانے کے لئے راستہ بناتی گئی کیونکہ محنت کے آگے کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی۔

    چترال ٹائمز: کیا آپ کے پولیس سروس جوائن پر گھر والوں یا رشتہ داروں نے آپ کے فیصلے سے ناخوش ہوکر آپ سے پولیس سروس چھوڑ نے کا مطالبہ نہیں کیا؟
    دلشاد پری: میرا تعلق چونکہ سید خاندان سے ہے ۔ اسلئے گھر والے اور کچھ رشتہ دار میرے پولیس جوائن کرنے سے ناخوش تھے لیکن انہوں نے میری شوق اور جذبے کے سامنے سر تسلیم خم کرلیا۔ ا ن کو معلوم تھا کہ میں جب کسی بات اور کام کا پکا ارادہ کرتی ہوں تو کسی کی بھی نہیں سنتی ۔ مجھے کسی کے باتوں کی پرواہ نہیں ہوتی ۔ ہمت کرکے آگے بڑھتی رہی اور ساتھ ہی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا ۔

    چترال ٹائمز: آپ کالج اور یونیورسٹی میں پڑھتی رہی ہیں ۔ پولیس سروس میں آنے کے بعد ان دونوں ماحولوں میں کیا فرق محسوس کرتی ہیں؟
    دلشاد پری: اس ماحول میں آنے کے بعد مجھے کالج اور اس ماحول میں آسمان اور زمین کا فرق محسوس ہوا ، سوچ ، زھن اور ماحول بالکل الگ پایا ۔

    چترال ٹائمز: کیا آپ کو سروس کے شروع میں مختلف النوع مسائل کو سامنا رہا؟
    دلشاد پری: میرے سامنے بہت سے چیلنجز تھے۔ بہت سے کٹھن مراحل مگریہ اس جاب کا تقاضا تھا کہ میں برداشت کرتی رہی ۔

    چترال ٹائمز: آپ کو اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں کن کن سے سپورٹ ملی اور آ پ کن کے احسانات کو فراموش نہیں کرسکیں گی؟
    آج میں فخر سے کہ سکتی ہوں کہ زندگی میں اپنے والد کی وفات کے بعد کسی کا بھی مجھ پر احسان نہیں ۔ ایک میر ی عظیم ماں اور میر اعظیم نانا سیدکبیر سلطان شاہ کے ہاں مجھے ذہنی سپورٹ کرنے میں میری ماں کے بعد میرے اساتذہ کرام کا بہت اہم کردار رہا ہے جن میں سر فہرست شیر محسن الملک انسپکٹر لیگل پولیس کے محکمے میں ، یونیورسٹی میں سر شہزادہ الرحمن چکدرہ ، سر احمد شاہ پی ٹی سی ہنگو میں میرے انسٹرکٹر ضمیر عباس اور وکالت کی دنیا میں ایک عظیم خاندانی رہنما مسٹر صاحب نادر خان ۔جبکہ رشتہ داروں میں چچا سید یوسف علی شاہ بھی شامل ہیں ۔


    چترال ٹائمز: سروس کے دوران عام لوگوں کے روئیے کے بارے میں کچھ بتائیے۔
    دلشاد پری: میں جب بھی لوگوں کی کڑوی باتین سن کے پریشان ہوتی یا ہمت ہارتی تو ان اساتذہ کرام کی راہنمائی حاصل کرتی ۔ لوگوں کی منطق کی سمجھ مجھے آج بھی بالکل نہیں آئی ۔ جب کسی کے ساتھ سلام دُعا کرو فری مائنڈ کا خطاب دیا جاتا ہے اور جب ریزرو رہو تو مغرور ۔ یہ القابات اکثر مجھے سننے میں آتے ہیں ۔ خیر ان چیزوں پر دھیان دینے والے کبھی آگے نہیں جاتے اسیلئے ہم اپنے منزل کی فکر اور جستجو ہے اور ان باتوں کی بالکل پرواہ نہیں ۔

    چترال ٹائمز: آپ نے جس رفتار سے پولیس سروس میں ترقی کے مراحل طے کی ہیں، وہ آپ کی اعلیٰ کاکردگی کا مظہر ہے ۔ پولیس میں اپنی کیریر کے بارے میں تفصیل سے بتائیے۔
    دلشاد پری: 2012ء میں ریکروٹ کورس کیلئے بھیج دی گئی ، پولیس ٹریننگ کالج ہنگو تو 9ماہ کی کورس کے اختتام پر ایگزام دینے کے بعد کے پی کے کے تمام اضلاع کے لیڈیز پولیس کے مقابلے میں بطور چترالی کیڈٹ ڈیکلیئر ہوئی ۔ یہ میرے لئے اعزاز کی بات تھی کہ وہاں All round Bestکیڈٹ 2012کے بورڈ پر میرا نام اور میرے ابو کا نام بھی بلکہ ضلع چترال کا نام بھی لکھا ہو ا تھا۔ فخر سے آنکھوں میں آنسو آگئی کہ پی ٹی سی (پولیس ٹریننگ کالج ) ٹریننگ کالج ہنگو میں واحد چترالی جس کا نام ٹاپر بورڈ پر لکھا ہوا ہے ۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ پولیس جاب آسان ہے ۔ وہ یہ سوچنا چھوڑ دے کیونکہ ٹریننگ کے دوران نہ ایم ایس سی کام آتی ہے نہ ایل ایل بی صرف وہاں پولیس لاء کی 12کتابیں ، پریڈ ، پی ٹی اور فائرنگ ۔ سکول ، کالج میں ہر سبجیکٹ میں مقابلہ ہوتا تھا اور وہ گنے چنے کلاس فیلوز کے ساتھ مگر پولیس ٹریننگ کالج میں اول پوزیشن لینے کیلئے تمام ٹریننگ فرسٹ آنا ہوتا ہے ۔ اور یہ مقابلہ کے پی کے کے تمام اضلاع کے ٹرینیز جس میں پریڈ، پی ٹی ، ویپن ہنڈلنگ ، فائرنگ اور پولیس کی تربیتی کتابیں شامل ہوتی ہیں۔ جو بندہ ان تمام پر عبور حاصل کرتا ہے اسکو کیڈٹ ڈیکلےئر کیا جاتا ہے ۔ اور الحمد اللہ میں 2012ء کی ٹریننگ کی کیڈٹ لڑکی سلیکٹ ہوگئی ۔ اور بہت ہی کم عرصے میں ضلع چترال کی طرف سے واحد لڑکی تھی جو ایک سال پریڈ کیڈٹ کے گزارنے کے فوراََ بعد بنا A-1اور B-1کے ڈائریکٹ حوالدار کورس کیلئے سیلکٹ ہوگئی ۔ اور لوئر کورس میں بھی کے پی کے کے 800لڑکوں اور لڑکیوں میں ٹاپ 5میں سیلکٹ ہوگئی اور یوں ایک بار پھر ڈبل کیٹ بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ اور ڈائریکٹ حوالدار کے عہدے میں ترقی پائی ۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اسی سال اے ایس آئی کے کمیشن کا ایگزام دیا اور اوپن میرٹ میں سلیکٹ ہوگئی ۔ 29ویکنسی میں سے 27خالی رہ گئے اور ایک ویکنسی میں نے اور ایک پشاور کی ایک لڑکی نے لے لی۔ باقی کوئی پاس نہ کرسکے ۔ اور یوں ملاکنڈ رینج کی پہلی خاتون ASIہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا ۔ یہ میرے لئے فخر کی بات تھی کہ اپنے ابوجان جو ہمیشہ سے میرا آئیڈیل رہا ہے، اسکی ڈیپارٹمنٹ میں ڈبل کیڈٹ اور ASI بن گئی۔میں نے این او سی لیکر تعلیمی سفر بھی جاری رکھا۔ اور آئندہ بھی جاری رکھنے کا شوق ہے ۔ انشاء اللہ ایل ایل ایم بھی کرلونگی اور ریٹائرمنٹ کے بعد وکالت کرونگی ۔

    چترال ٹائمز: فارغ اوقات میں کیا کرتی ہیں؟
    دلشاد پری: فارع اوقات میں کتابوں کا سہارا لیتی ہوں تو کبھی اخبار کیلئے کوئی کالم لکھتی ہوں ۔کیونکہ مجھے صحافی بننے کا بھی بہت شوق تھا ۔ ایک وکیل اور صحافی کے قلم میں بڑی طاقت ہوتی ہے ۔


    چترال ٹائمز: آپ کو کس قسم کے لوگوں سے نفرت ہے؟
    دلشاد پری: مجھے اس وقت بہت تکلیف ہوتی ہے جب لوگوں کو منافقت کرتے دیکھتی ہوں ۔ مجھے ان لوگوں سے شدید نفرت ہے جس کا ظاہر اور باطن ایک نہیں جو اوپر سے کچھ اور اندر سے کچھ اور ہیں۔ مجھے ان لوگوں سے سخت نفرت ہے ،۔ جو جھوٹ بولتے ہیں ۔ اور مجھے اس وقت بہت غصہ آتا ہے جب لوگ کہتے ہیں کہ اتنی قابل اور تعلیم یافتہ ہونے کیوں پولیس جوائن کیا ۔ حالانکہ پولیس میں بھرتیاں خالص میرٹ کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔

    چترال ٹائمز: کیا آپ اپنی سروس سے مطمئن ہیں؟
    دلشاد پری: میں اپنے محکمے سے بہت مطمعین ہوں ۔اچھے اور برے لوگ تو ہر جگہ ہوتے ہیں ۔اور جو عزت ، تحفظ ہمیں پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ملتی ہے کسی ڈیپارٹمنٹ میں بھی ایسی سکیورٹی نہیں۔ جو لوگ پولیس ڈیپارٹمنٹ اور پولیس لیڈیز کی برائیاں کرتے ہیں تووہ ضرور یاد رکھیں کہ ہم لوگوں کو جو ٹریننگ دی جاتی ہے ۔ اس سے ہم نہ صرف دوسرے لوگوں کی حفاظت کرتے ہیں بلکہ دشمنوں سے نمٹنے کیلئے بھی ہمیشہ تیار رہتے ہیں ۔

    چترال ٹائمز: مستقبل کے حوالے سے آپ کے ارادے کیا ہیں؟
    دلشاد پری: مستقل میں مذیدمحنت سے آگے جانے اور مذید کامیابیوں کیلئے کوشش کرونگی ۔انشاء اللہ تعالیٰ

  • error: Content is protected !!