Chitral Times

Sep 26, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ذرا سوچئے…………خودکشی کے واقعات……..تحریر۔ ہما حیات سید چترال

    September 3, 2018 at 9:02 pm

    چترال میں بڑھتی ہوئی خود کُشی کے واقعات سے سبھی فکر مند ہیں اور یہ ضروری بھی ہے لیکن اسکو کسی دماغی بیماری کا نام دینا بالکل مناسب نہیں ہے۔ ۲۰۱۷ سے لیکر اگست ۲۰۱۸ تک ۳۳ افراد نے خود کشی کی جو کہ چترال جیسے پسماندہ علاقے کی ابادی کے لحاظ سے ایک حیران کن اور خاصا پریشان کر دینے والا واقعہ ہے۔
    نئی حکومت بننے کے فوراً بعد ہی ہمارے نئے وزیر اعلیٰ نے اس بات کا نوٹس لیا جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ ہم اس بات پر وزیر اعلیٰ کے نہایت شکر گزار ہیں ۔ انکے احکامات پر صوبائی ھیلتھ سیکریٹری محمد عابد مجید نے چترال میں ایک ہیلتھ ٹیم بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ٹیم ۴ افراد پر مشتمل ہوگی جس میں ماہر نفسیات ڈاکٹر عصمت ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے دو ڈپٹی ڈائریکٹرز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر اسرار شامل ہونگے۔
    ہم چترال میں اس ٹیم کو خوش آمدید کہتے ہیں اور انکے کام کو سراہتے ہیں ۔ لیکن ایک چترالی ہونے کی حیثیت سے اور اپنی بچپن سے لیکر اب تک چترال میں رہنے ، یہاں پلے بڑے ہونے اور یہاں ہی تعلیم حاصل کرنے کی بنیاد پر میں یہ بات پوری اعتماد کیساتھ کہہ سکتی ہوں کہ جو افراد خود کشی کرتے ہیں وہ کوئی نفسیاتی مریض نہیں ہیں ۔ اگر اسکی کوئی وجہ ہے وہ صرف اور صرف غربت اور غیر مساوی نظام تعلیم ہے۔
    یہ بات سب جانتے ہیں کہ چترال ایک پسماندہ علاقہ ہے اور اس بات کی وضاحت کے لئے مجھے کسی مثال کی ضرورت نہیں ہے ۔ یہاں غریبی عام سی بات ہے اور شاید اسی لئے یہاں تعلیم کو ذیادہ معاش سمجھا جاتا ہے۔ ہونا بھی یہی چاہئے کیونکہ زندگی گزارنے کے لئے انسان کے پاس کوئی نہ کوئی ہنر ضرور ہونا چاہئے۔ اب چترال میں نہ تو بڑی اور زرخیز زمینیں ہیں جن پر کاشت کاری کی جائے۔ نہ ہی کارخانہ یا فیکٹریز ہیں جن میں کام کرکے کچھ کمایا جاسکے۔ اگر کچھ ہے تو وہ ہے صرف تعمیم ۔جو جتنی تعلیم حاصل کریگا اسکی زندگی اتنی ہی بہتر ہوگی۔ لیکن تعلیم کی راہ میں غربت پھر پاوں کی بیڑی بنی ہوئی ہے۔ چترال کے اندر دو طرح کے نظام تعلیم ہیں۔ ایک اعلیٰ معیار تعلیم اور دوسرا کمزور نظام تعلیم۔ اب جن کے پاس اتنا سرمایہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ معیار تعلیم دے سکے وہ تو اپنا فرض بخوبی ادا کرتے ہیں لیکن جو غربت کے ہاتھوں مجبور ہیں وہ یہ نہیں کر سکتے اور اپنے بچوں کو سرکاری اداروں میں داخل کر دیتے ہیں۔ لیکن وہاں نظام تعلیم اتنی بہتر اور معیاری نہیں ہے جتنا کہ پرائیویٹ اداروں میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان اداروں کے طلباء و طالبات دوسروں کے ساتھ مد مقابل آجاتے ہیں تو انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پرتا ہے۔ اور اس بات سے دلبرداشتہ ہو کر خود کشی پر مجور ہو جاتے ہیں۔
    ان باتوں کی تصدیق اسی بات سے بھی ہو جاتی ہے کہ خود کشی کرنے والوں کی عمر ۱۲ سے ۲۳ سال ہے کہ جس میں ایک بندہ تعلیمی مرحلے میں ہوتا ہے۔ چترال میں ۹۹ فیصد خودکشی کی وجہ یہی ہے اور ایک فیصد گھریلو کشیدگیوں کی وجہ سے ہوتا ہے جو کہ البتہ دنیا کے ہر کونے میں ہوتا ہے۔
    اس لئے حکومت کو چاہئے کی وہ اس حوالے سے بھی اقدامات کرے اور نوجوانوں اور ان افراد کے لئے جو خود کو کمزور سمجھتے ہیں میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ حوصلہ رکھیں اور صبر و تحمل سے کام لیں۔ خود کشی کسی مسلے کا حل نہیں ۔ ہم مسلمان ہیں ہم پر یہ حرام ہے اور پھر ذرا سوچئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہی بہتر ہے کہ آپ اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ کریں اور ہمارے پیارے بنی ﷺ کی ذندگی کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیں۔

  • error: Content is protected !!