Chitral Times

Sep 20, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ضلع کونسل کا اجلاس، سی ڈی ایل ڈی پروگرام کے تحت ترقیاتی کاموں‌ میں تاخیر پرافسوس کا اظہار

    September 2, 2018 at 6:45 pm

    چترال(چترال ٹائمز رپورٹ) ضلع کونسل کےاجلاس کے دوسرے دن سی ڈی ایل ڈی پروگرام کے تحت منصوبوں میں تاخیر اور سوشل موبلائزیشن پارٹنر کی خدمات کے حصول کے سلسلے میں زبردست بحث ہوئی جسمیں ضلع کونسل کے بعض اراکین نے اظہار خیال کرتے ہوئے سوات میں قائم ایک غیر معروف اور مقامی سطح کے غیر سرکاری ادارے کے ذریعے چترال میں اتنے بڑے پروگرام کو چلانے کی کوششوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دیا۔ اس سلسلے میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے ضلع کونسل کے رکن مولانا محمود الحسن نے کہا کہ ایک ایسا ادارہ جس کا چترال میں کوئی وجود نہیں، کوئی دفترقائم نہیں، پہلے کبھی چترال میں کام نہیں کیا ہے، اسٹاف دستیاب نہیں وہ کیسے چترال جیسے مشکل علاقے میں کام کریگا جبکہ اسوقت سی ڈی ایل ڈی کے کام پہلے سے ہی تاخیر کا شکارہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ عجیب بات ہے کہ کم ریٹ کا شوشہ چھوڑکر اسے ٹینڈر کے حصول کے لئے جواز بناکر پیش کیا جاتا ہے مگر اس حقیقت کو پس پشت ڈالنے کی کوشش ہورہی ہے کہ کم ریٹ پر کام کا معیار بھی نا قص ہو گا۔ انہوں نے سی ڈی ایل ڈی میں سوشل موبلائزیشن پارٹنر کے حصول کے بڈنگ کے سارے عمل کو مشتبہ قرار دیتے ہوئے کہا ایک نا معلوم ادارے کو اتنے بڑے پروگرام میں شامل کرنے کے پیچھے ضرور عوامل کارفرما ہیں اور اس سلسلے میں مکمل تحقیقات کرائے جائیں . انہوں نے سی ڈی ایل ڈی نوٹیفکیشن میں سوشل موبلائزیشن پارٹنر کے سلیکشن کے طریقے کار کو ایوان میں پڑھ کر سنایا اور کہا کہ EPSنام کا ادارہ ان میں سے کسی ایک بھی شرط پر پورا نہیں اترتا ۔انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں بڑے بڑے دعوے کرکے تھرائیو نام کے ایک ادارے کو چترال لایا گیا تھا مگر اس نے چترال کے لئے ملنے والے فنڈز کا کیا حشر کیا وہ سب کے سامنے ہے اور اب ہم CDLDکو بھی اسی طرح تباہ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دینگے۔
    بحث میں حصہ لیتے ہوئے پی ٹی آئی کے رحمت غازی نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ سی ڈی ایل ڈی میں کام بہتر طریقے سے ہو رہے ہیں مگر بعض عناصر اپنے مفاد میں اس عوامی فائدے کے پروگرام کو متنازعہ بنارہے ہیں۔ انہوں نے سی ڈی ایل ڈی کے تحت ابتک ہونے والے کاموں پر اطمینان کا اظہار کیا۔
    مولانا عبدالرحمن نے کہا کہ اس سے قبل تھرائیو نام کے ایک غیر مقامی ادارے کو بھی اسی طرح بلند بانگ دعوؤں کے تحت یہاں لایاگیا تھا مگر اسی ادارے کی وجہ سے چترال کے 60کروڑ روپے یہاں سے چلے گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بڈنگ کے عمل کی انکوائری ہو جائے اور سارے عمل کو صاف شفاف بناکر میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے تاکہ چترالی عوام کو اس سارے عمل کا فائدہ پہنچ سکے۔ کوشٹ سے ضلع کونسل کے رکن غلام مصطفی ایڈوکیٹ ، شغور سے رکن کونسل عبدالقیوم و دیگر نے اس سلسلے میں اظہار خیال کرتے ہوئے غیر مقامی اور نا معلوم این جی اوکے ذریعے چترال میں سی ڈی ایل ڈی کو چلانے کے عمل کو نا قابل قبول قرار دیتے ہوئے ایسے کسی بھی اقدام کو یکسر مسترد کردیا۔ رکن ضلع کونسل محمد حسین نے بحث میں‌حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ایس آرایس پی پہلے سے اس پر کام کیاہے اور تجربے کی بنیاد پر اُسی کے زریعے ہی بلا تاخیر اس کام کو اگے بڑھا یا جائے .انھوں‌نے زوردیکر کہا کہ کم ریٹ کی بنیاد پر غیر مقامی این جی او کے زریعے ترقیاتی کاموں‌کو غیر معیاری کرکے خراب نہ کیا جائے.

    قبل ازیں ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ نے بجٹ اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چترال میں چند این جی اوز اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں ، اب سی ڈی ایل ڈی کے لئے سوات میں قائم EPSنام کے ادارے نے بڈنگ میں کامیابی حاصل کر لی ہے اور وہ یہاں آکر کم ریٹ پر کام کریگا لہذا ہمیں اس ادارے کی سپورٹ کرنی چاہئے تاہم ضلع کونسل کے ارکان نے ضلع ناظم کی تقریر کے بعد غیر اسکے اوپر کھل کر بات کی اور چترال میں EPSکی موجودگی سے انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ یہ ادارہ نہ اسوقت چترال میں مو جود ہے اور نہ اس سے قبل کبھی یہاں کام کیا ہوا ہے ، لہذا ایسے ادارے کے ذریعے کام کرنا سی ڈی ایل ڈی جیسے بڑے پروگرام کو فیل کرنے کے مترادف ہے جس کا براہ راست نقصان چترال کے غریب عوام کو ہوگا جو پہلے سے ہی سیلاب اور زلزلے کی وجہ سے تباہ حال انفراسٹرکچر کی بحالی کے منتظرہیں۔

  • error: Content is protected !!