Chitral Times

Sep 21, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ضلع کونسل چترال نے 4ارب 10کروڑ 30لاکھ روپے کابجٹ برائے مالی سال 2018-19پاس کردیا

    August 31, 2018 at 8:35 pm

    چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) ضلع کونسل چترال نے 4ارب 10کروڑ 30لاکھ روپے کا بجٹ برائے مالی سال 2018-19پاس کردیا جس میں تنخواہوں کے مد میں 3ارب 33کروڑ روپے ، نا ن سیلری اخراجات کے لئے 16کروڑروپے63لاکھ روپے،ضلع کونسل گرانٹ کے طور پر 1کروڑ 40لاکھ روپے اور ضلعی اے ڈی پی کے لئے 20کروڑ روپے شامل ہیں۔ نائب ضلع ناظم اور کنوینر مولانا عبدالشکور کے زیر صدارت اجلاس بجٹ کی منظوری دینے کے بعد غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہوگئی۔ اس سے قبل اپنے خطاب میں ضلع ناظم مغفرت شاہ نے اس امید کا اظہا رکیا کہ مرکزاور صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومتیں قائم ہونے کے بعد چترال جیسے دور افتادہ اور پسماندہ ضلعے میں احساس محرومی کا خاتمہ ہوگا جوکہ عمران خان کا وژن بھی ہے ۔ا نہوں نے وزیر اعظم عمران خان کو ضلعی حکومت کی طرف سے ہر ممکن سپورٹ کی یقین دہان ی کراتے ہوئے کہاکہ چترال کو ترقی کے میدان میں دوسرے اضلاع کے لئے ماڈل ضلع بنانے میں وہ ذاتی دلچسپی کا مظاہر ہ کریں گے کیونکہ چترال کے بار بار دورے کرنے کے بعد اس کے صورت حال سے بخوبی واقف ہے۔ انہوں نے ضلع کونسل کے ارکان کی طرف سے مختلف محکمہ جات کے بارے میں تجاویز وشکایات پر غور کرنے کے سلسلے میں مختلف محکمہ جاتی کمیٹیز کو فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ یہ ضلعے کا بااختیار اور منتخب ادارہ ہے جس کے ارکان کی رائے کو اہمیت دئیے بغیر کوئی چارہ ممکن نہیں جبکہ اے ڈی پی کو فوری اور ہنگامی بنیادوں پر تیار کئے جائیں تاکہ جلد از جلد کام شروع کیا جاسکے۔ انہوں نے بعض ارکان کے سوالات کاجواب دیتے ہوئے کہاکہ شندور جشن میں کالاش خواتین کو رقص کے لئے لانا انتہائی غلط قدم ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے فیسٹول کے انعقاد کے اختیارات ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور ضلعی انتظامیہ کے بجائے دوسرے ہاتھو ں میں ہونے کی وجہ سے جشن شندور کا بائیکاٹ کردیا تھا۔ اس سے قبل مولانا عبدالرحمن کی نشاندہی پر سوشل میڈیا میں چترال میں خواتین کے فٹ بال ٹورنامنٹ منعقدہونے کے حوالے سے ایک خبر پر خواتین سمیت تمام ارکان کونسل نے اس کی شدید مذمت کی اور کہاکہ شریعت اور چترال کی روایات دونوں اس بات کی اجازت نہیں دیتے ۔ اس موقع پر تاہم کسی رکن کونسل نے ٹورنامنٹ کے مقام کی نشاندہی نہ کرسکے جس پر ایوان نے اسپورٹس کمیٹی کی ذمہ داری لگادی کہ وہ اس بارے میں مکمل چھان بین کرکے مقام کی نشاندہی کرلے ۔ تاہم بعض ارکان نے اس محض سوشل میڈیا کے دوسرے خبروں کی طرح ایک بے بنیاد خبر قرار دیا۔مولانا جمشید احمد، محمد یعقوب، عبدالقیوم ، شیر عزیز بیگ ، محمد حسین نے محکمہ خوراک کے گوداموں میں خراب اور ناقص گندم کی موجودگی کی نشاندہی کی اور کہاکہ عوام کے پاس اس مضر صحت گندم کو استعمال کرنے یا بازار سے مہنگے داموں آٹا خریدنے کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ لویر چترال کے مختلف جنگلوں میں موجود دیار کی سوختنی لکڑی کے ملنے اٹھانے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ گزشتہ دنوں میں ایون کے جنگل میں آتشزدگی بھی اس وجہ سے پیش آیا جبکہ اس لکڑی کو بھی نقصان پہنچ رہاہے ۔ مختلف محکمہ جات کے افسران کے ضلع کونسل کے اجلاسوں میں شریک نہ ہونے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے ان افسران کے تنخواہوں سے کٹوتی کا مطالبہ کیا گیا ۔ ضلعے کے مختلف علاقوں میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی واٹر سپلائی اسکیموں کی ناکامی کی توجہ دلائی گئی جس پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اسی طرح اپر چترال میں بجلی کی 19گھنٹوں پر محیط لوڈ شیڈنگ اور دروش کے قریب لاوی پاؤر پراجیکٹ میں صرف غیر مقامی افراد کی بھرتی پر پیڈو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ خاتون رکن حصول بیگم نے نوجوان خواتین کی خود کشیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور پولیس سے مطالبہ کیاکہ ان واقعات کے اصل محرکات کو سامنے لایا جائے جبکہ کئی کیسوں میں خواتین کو قتل کرکے اسے خودکشی کا نام دیا جاتا ہے۔ یارخون کے رحمت ولی نے کہاکہ سیلاب کی وجہ سے دریا نے اپنا راستہ گاؤں کی آبادی کی طرف موڑ دی ہے جسے اصل راستہ کی طرف موڑ دینے کے لئے حکومتی مدد کی ضرورت ہے ۔ ارندو کے شیر محمد نے مقامی ہسپتال میں ڈاکٹر اور دوسرے سہولیات کی فقدان پر تشویش کا اظہار کیا جسے ایک ڈسپنسر اور ایک چوکیدار چلارہے ہیں ۔ ریاض احمد دیوان بیگی نے محکمہ خوراک کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ایک طرف چھوٹے گوشت کی قیمتوں کو بڑہادئیے گئے دوسری طرف قصابوں سے رشوت اور بھتہ لے کر انہیں عوام کا استحصال کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے جوکہ 500روپے کی بجائے 700روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کررہے ہیں۔ انہوں نے گورنر کاٹج روڈ پر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے پائپ کے پھٹ جانے کی وجہ سے روڈ کو پہنچنے والی نقصانات اور مقامی لوگوں کو درپیش مشکل سے بھی آگاہ کیا ۔مولانا جاوید حسین اور ریاض دیوان بیگی نے شندورمیلہ میں کالاش ڈانس پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ آئندہ کے لئے اس غلطی کا اعادہ نہ کیا جائے۔ مولانا جاوید حسین نے وریجون کے آر ایچ سی ہسپتال میں ایکسرے پلانٹ اور بجلی کی دستیابی کے باوجود اسے چالو نہ کرنے اور لیبارٹری کے سہولیات کی عدم دستیابی پر شیدید تشویش کا اظہار کیا۔ اسی طرح رحمت الٰہی نے پہلی مرتبہ ایک کالاش کو صوبائی اسمبلی کا ممبر نامزد کرنے کے پر عمران خا ن کا شکریہ ادا کرکے اسے تاریخی قدم قرار دیا اور ایون میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ناقص منصوبوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ شیشی کوہ کے شیر محمد نے لاوی پراجیکٹ میں غیر مقامی افراد کی بھرتی سے علاقے میں پائی جانے والی بے چینی سے ایوان کو آگاہ کیا۔ شیر عزیز بیگ کھوت نے ایوان کے گزشتہ اجلاس کے روداد پر عملدرامد پر زور دیا اور علاقے میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر روشنی ڈالی۔ اجلاس کے شروع میں کوہ سے رکن کو نسل مولانا عبدالرحمن نے ضلعے کے عوام کو درپیش کا تفصیلی طور پر احاطہ کیا جس پر دوسرے ارکان نے باری باری اپنے رائے کا اظہار کیا۔ کوشٹ سے رکن کونسل غلام مصطفی ایڈوکیٹ نے بھی موردیر گاؤ ں میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ناقص منصوبے کی وجہ سے 3ستمبر سے احتجاجی دھرنے ، حال ہی میں متاثر ہ بومباغ گاؤں کے لئے ایریگیشن چینل کی بحالی میں مدد دینے پر زور دیا۔ انہوں نے اپنے حلقے میں دریا کے اوپر چیر لفٹ کو تحصیل ناظم مولانا یوسف کی طرف سے زور زبردستی سماگول کے مقام پر منتقل کرنے پر تشویش کا اظہار کیا اور تحصیل ناظم کے اقدام کو غیر مناسب قرار دیا ۔ یوتھ کونسلر عبدالوہاب نے اس سال ایٹا کے زیر اہتمام میڈیکل کالجوں میں داخلوں کے لئے ٹیسٹ کے دوبار منسوخ ہونے پر تشویش کا اظہارکیا اور کہاکہ چترال سے اس مقابلے میں دو ہزار طلباء وطالبات شرکت کررہے تھے جن کو معاوضہ دیا جائے۔ اجلاس میں بھکاریوں کو چترال سے ضلع بدر کر نے پر بھی زور دیتے ہوئے کہاکہ ان کی وجہ سے چترال کا ماحول خرابی کی طرف مائل ہے۔ اجلاس میں متعدد قراردادیں بھی پاس کئے گئے جن میں چترال میں محکمہ صحت کے زیر اہتمام نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی تربیت کے لئے اداروں کا قیام، چترال میں روان سال کے لئے گندم کی ترسیل مکمل کرنے ، خشک سالی سے متاثر ہ علاقوں میں عوام کو ریلیف پیکج کی فراہمی اور ہالینڈ میں خلاف اسلام گستاخانہ خاکوں کے انعقاد پر ہالینڈ سے سفارتی تعلقات کو منقطع کرنے اور اسلام آباد سے ہالینڈ کے سفیر کو نکالنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

  • error: Content is protected !!