Chitral Times

Dec 11, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • خیبر پختونخوا کا 32واں گورنر………… محمد شریف شکیب

    August 27, 2018 at 7:32 pm

    شاہ فرمان خیبر پختونخوا کے 32ویں گورنر بن گئے۔ اس سے قبل دو انگریز سرجارج کننگھم اور سر امبروز ڈانڈاس صوبے کے گورنر رہ چکے ہیں۔ جسٹس ریٹائرڈ سید ابن علی ، جسٹس ریٹائرڈ سید عثمان علی شاہ اور محمد اسلم خٹک قائم مقام گورنرکے طور پر کام کرچکے ہیں۔ بتیس گورنروں میں سے گیارہ عسکری پس منظر کے حامل تھے۔ جن میں کے ایم اظہر، میجر جنرل سید غواث، میجر جنرل نصیر اللہ بابر، لیفٹیننٹ جنرل فضل حق، بریگیڈئر امیر گلستان جنجوعہ، میجر جنرل خورشید علی خان ، لیفٹیننٹ جنرل عارف بنگش، لیفٹیننٹ جنرل محمد شفیق، لیفٹیننٹ جنرل افتخار حسین شاہ، کمانڈر خلیل الرحمان اورلیفٹیننٹ جنرل علی محمد جان اورکزئی شامل ہیں۔ مستقل سویلین گورنروں میں خان بہادر ابراہیم خان، ابراہیم اسماعیل چندریگر، خواجہ شہاب الدین، قربان علی شاہ، حیات محمد خان شیرپاو، ارباب سکندر خان خلیل، عبدالحکیم خان، نوابزادہ عبدالغفور ہوتی، فدا محمد خان، میاں گل اورنگزیب، اویس احمد غنی، سید مسعود کوثر، شوکت اللہ خان، سردار مہتاب احمد خان اور اقبال ظفر جھگڑا شامل ہیں۔ان گورنروں میں سے آئی آئی چندریگر وزیراعظم اور سردار مہتاب احمد خان وزیراعلیٰ بھی رہے۔ جنرل فضل حق کچھ عرصہ نگران وزیر اعلیٰ کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔لیفٹیننٹ جنرل فضل حق سب سے زیادہ طویل عرصہ یعنی سات سال اس عہدے پر فائز رہے۔ جبکہ جسٹس سید ابن علی صرف چھ دن قائم مقام گورنر رہے۔ اویس احمد غنی خیبر پختونخوا کا گورنر بننے سے قبل بلوچستان کے گورنررہے انہیں دو صوبوں کا گورنر رہنے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔شاہ فرمان کے لئے ایک بڑا اعزاز یہ ہے کہ قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں مکمل انضمام کے بعد وہ صوبے کے پہلے گورنر ہوں گے۔ اگرچہ قبائلی ایجنسیوں کو ضلع اور پولے ٹیکل ایجنٹس کو ڈپٹی کمشنر کا نام دیا گیا ہے۔ تاہم قبائلی علاقوں میں صوبائی و بلدیاتی انتخابات کے بعدہی وہ خیبر پختونخوا میں ضم تصور کئے جائیں گے۔ شاہ فرمان صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کے بانیوں میں شامل ہیں۔ پارٹی نے صوبے میں دوسری بار اقتدار اور دو تہائی اکثریت ملنے کے بعد انہیں گورنر بناکر ان کی خدمات کا اعتراف تو کیا ہے تاہم انہیں ایک نئے اور مشکل امتحان سے بھی گذرنا ہوگا۔ صوبے اور قبائلی علاقوں میں پارٹی کے منشور کو عملی جامہ پہنانااس امتحان کا اہم پرچہ ہے۔ اربوں روپے کے صوابدیدی فنڈ اور گورنر ہاوس کی عیاشیوں سے محروم رہ کر انہیں تبدیلی لانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ صوبے کے آئینی سربراہ ہونے کے ناطے صوبائی حکومت کی رہنمائی بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ بی آئی ٹی اور بلین ٹری سونامی جیسے منصوبوں کی تکمیل اورنئے ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی بھی ان کے فرائض منصبی کا حصہ ہے۔ گورنر چونکہ صدر مملکت کا مقرر کردہ وفاق پاکستان کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس لئے صوبے میں گورنر کے پاس کم و بیش وہی اختیارات ہیں جو وفاق میں صدر کے پاس ہوتے ہیں۔ صوبے کے تمام انتظامی اور مالیاتی اختیارات وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ کے پاس ہیں۔ گورنر صوبے کی سرکاری جامعات کا چانسلر ہوتا ہے لیکن یہاں بھی نام کی توقیر کے سوا ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہوتا۔ قبائلی ایجنسیوں کی موجودگی میں وفاق کے نمائندے کی حیثیت سے گورنر فاٹا کا انتظامی سربراہ ہوتا تھا۔ اب وہ اختیارات ختم ہوگئے ہیں۔ اب ان کا کام اسمبلی کا اجلاس بلانا، وزیراعلیٰ اور صوبائی وزراء سے حلف لینا اورصوبائی اسمبلی سے منظور کئے گئے قوانین پر دستخط کرنا ہوتا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کے سرکردہ رہنما ہونے کے ناطے شاہ فرمان نہ صرف وفاق کے نمائندے کے طور پر معمول کے فرائض انجام دیں گے بلکہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے نمائندے کی حیثیت سے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی نظر رکھیں گے اس حوالے سے صوبے میں ان کی حیثیت سابق گورنروں سے مختلف اورزیادہ اہم ہوگی کیونکہ وہ صوبائی حکومت پر براہ راست اثر انداز ہونے کی پوزیشن میں ہیں۔خیبر پختونخوا کے عوام نے پاکستان تحریک انصاف کو بھاری مینڈیٹ دے کر اس کی ذمہ داریاں دوچند کردی ہیں۔ وفاق اورملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں اپنی حکومت قائم ہونے کے بعد پی ٹی آئی کے پاس اپنے وعدوں پر عمل نہ کرسکنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ نامزد گورنر کو بھی اس حوالے سے بلاشبہ اپنی بھاری ذمہ داریوں کا احساس ضرور ہوگا۔

  • error: Content is protected !!