- Chitral Times - https://chitraltimes.com - Chitral Times

سادگی و کفایت شعاری کی روایت………… محمد شریف شکیب

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے کفایت شعاری کے ذریعے وسائل بچانے کا عملی مظاہرہ کرکے ایک قابل تقلید مثال قائم کی ہے۔ وزیراعظم نے اپنی پہلی نشری تقریر میں اعلان کیا تھا کہ وہ ایوان وزیراعظم میں رہائش اختیار نہیں کریں گے۔ اسے بین الاقوامی معیار کی تحقیقی درسگاہ بنائیں گے۔ کسی صوبے میں گورنرہاوس کو رہائش کے لئے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ اوپر سے بچت اورکفایت شعاری کی پالیسی کا اثر نچلی سطح پر بھی نظر آنے لگاہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوامحمود خان نے عید کا پہلا دن اپنے دفتر میں گذارا۔نماز عید کی ادائیگی کے بعدایک اجلاس کی صدارت کی اور صفائی کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے شہر کا دورہ کیا۔ انہوں نے وزیرہاوس میں قیام نہ کرنے،پروٹوکول نہ لینے اور سادگی اپنانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ صبح نو بجے دفتر میں حاضر ہوں گے دوپہر دو سے شام پانچ بجے تک اراکین اسمبلی سے ملاقات کرکے ان کے حلقوں کے مسائل سنیں گے۔ سرکاری گاڑیوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی کی جائے گی۔وی وی آئی پی پروٹوکول اورقومی خزانے کو شیرمادر سمجھ کر لٹانے کی عادت ہمارے حکمرانوں کو انگریزوں نے ڈالی تھی۔ وہ خود تو چلے گئے مگر ان کے سیاسی وارث اب تک غریب عوام کے سینے پر مونگ دلتے رہے ہیں۔ صدر،وزیراعظم اور گورنر کو چھوڑیں۔کوئی وزیر، مشیریا اعلیٰ افسر بھی اپنے دفتر سے باہر نکلے تو شہر جام ہوجاتا ہے۔ ٹریفک رک جاتی ہے اور صاحب فول پروف سیکورٹی میں دو تین درجن گاڑیوں کی جھرمٹ میں جب تک گذر نہیں جاتا۔ عوام سڑکوں پر رلتے رہتے ہیں۔ اسی وی آئی پی موومنٹ اور ٹریفک روکے جانے کی وجہ سے اسپتال جانے والے کئی مریض دم توڑ چکے ہیں اور متعدد بار خواتین کی راستے میں ہی زچگی ہوئی ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے عوام میں سخت اشتعال پایاجاتا تھا۔ جن ملکوں سے ہم نے جمہوریت مستعار لی ہے۔ وہاں حکمران نہیں، عوام وی آئی پی ہیں۔ برطانیہ کا وزیراعظم ٹین ڈاوننگ سٹریٹ کے ایک چھوٹے سے بنگلے میں رہتا ہے۔ اپنے گھر کا کام خود کرتا ہے۔ اپنی گاڑی خود چلاتا ہے۔ ٹریفک سگنل پر عام شہریوں کی طرح رکتا اور اپنی باری کا انتظار کرتا ہے۔امریکی صدر رونالڈ ریگن کے دور میں ان کا بے روزگار بیٹا دیگر نوجوانوں کے ساتھ قطار میں لگ کر بینک سے بے روزگاری الاونس وصول کرکے اپنا گذارہ کرتا رہا۔ہمارے پاس ایران کے سابق صدر احمدی نژاد کی مثال بھی ہے۔ وہ کسی ملک کے دورے پر جاتا ۔ تو گھر سے کھانا پکاکر ساتھ لے جاتا تھا۔فرش پر سوتا تھا۔ صدارت کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اپنے فارم میں بھیڑ بکریاں چراتا ہے۔ خلفائے راشدین کی بہترین مثال ہمارے سامنے ہے۔ حضرت عمر فاروق رات کو بھیس بدل کر مزدوری کیاکرتا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق نے مال غنیمت سے بیٹے کے حصے کا کپڑا لے کر اپنے لئے قمیض سلوائی تو دربار میں انہیں احتساب کا سامنا کرنا پڑا۔کیا ہمارے حکمران یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ ان کا مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی کرم اللہ وجہ سے بالاتر ہے۔ یہ تو ان کے خاک پا کے برابر بھی نہیں ہیں۔پھر وہ خود کو عام لوگوں سے کیوں برتر سمجھتے ہیں۔امریکہ کے بانی جارج واشنگٹن بارش میں برساتی اورٹوپی پہنے ایک سڑک سے گذر رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ ایک درخت کٹ کر سڑک پر آگرا ہے۔ چار سپاہی درخت کو ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ میجر پاس کھڑا انہیں ہدایات دے رہا ہے۔ سپاہیوں سے درخت ہٹایا نہیں جارہا تھا۔ جارج واشنگٹن نے ان کا ہاتھ
بٹایا تو وہ درخت ہٹانے میں کامیاب ہوگئے۔ جارج واشگٹن نے میجر سے پوچھا کہ درخت ہٹانے کے لئے پانچ افراد کی طاقت چاہئے تھی آپ نے ان کے ساتھ مدد کیوں نہیں کی۔ میجر نے متکبرانہ انداز میں کہا کہ وہ سپاہی ہیں اور میں میجر ہوں۔ جارج واشنگٹن نے اپنا ہیٹ اتار کر کہا کہ میں کمانڈر انچیف ہوں ۔سپاہیوں کی مدد کرنے سے میرے عہدے پر کوئی فرق نہیں پڑا۔جب ایک قوم کا سربراہ اتنا سادہ مزاج اور مخلص ہو تو اس قوم کو کوئی زیر کرسکتاہے نہ ہی ترقی کے بال عروج پر پہنچنے سے انہیں کوئی روک سکتا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے سادگی اپنانے اور کفایت شعاری کی جو روایت قائم کی ہے۔ اسے مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ہم اقوام عالم سے بھیک مانگ کر اپنے حکمرانوں کی عیاشیوں پر لٹانے کے مزید متحمل نہیں ہوسکتے۔