Chitral Times

Dec 12, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • سال 2017کے دوران خراب کارکردگی کی بناپر 13جوڈیشل افسران برطرف ….پروٹوکول آفیسر ہائی کورٹ

    August 21, 2018 at 3:16 pm

    پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) اسسٹنٹ پروٹوکول آفیسر پشاور ہائی کورٹ پشاور نے ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ ملازمتوں سے برطرف کئے جانے والے چار جوڈیشل افسران کی 2015 ،2016 اور 2017 کی سالانہ کارکردگی رپورٹ (ACR) بدترین قرار دی گئی تھیں۔ بشمول جوڈیشل آفیسر کے جنہوں نے استعفی دیا ہے ان کی ACRS خراب اندراجات سے متعلق بھی انہیں آگاہ کیا گیا۔ لیکن وہ اپنی اچھی ساکھ بچانہ سکے۔ جیسا کہ انہیں مسلسل بدعنوان رپورٹ کیا جاتارہا ہے اس لئے پشاور ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی نے متفقہ طورپر فیصلہ کیاگیاکہ ان کے خلاف محکمانہ کاروائی کی سفارش کی جائے۔انہیں اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے پہلے بھی سمجھایا گیا لیکن انہوں نے اپنی اصلاح نہیں کی جس پر انہیں گورنمنٹ سرونٹس (ایفی شینسی اینڈ ڈسپلن ) رولز 2011 کے رول 7 کے تحت ایک شوکاز نوٹس دیا گیا۔ ان کا جواب موصول ہونے کے بعد ان کو انفرادی اور ذاتی طورپر صبر کے ساتھ سنا گیا اور ہر پہلو سے ان سے تفصیلی بحث کی گئی۔ ان کو ان کے خلاف ریکارڈ سے بھی آگاہ کیا گیا اور انہیں اس کی تردید کرنے کا موقع دیا گیا اور قانون کے مطابق ان سے شفاف سلوک کیا گیا۔
    سال 2017 کے دوران بھی خراب کارکردگی رپورٹ (ACRs) کے حامل 13 جوڈیشل افسران جو مسلسل بدعنوان ہونے کی بری شہرت رکھتے تھے، کو خلاف بھی اسی طریقہ کار کے مطابق ملازمتوں سے برطرف کیا گیا۔ موجودہ جوڈیشل آفسران کا کیس بھی ان کے مطابق تھا۔ اس لئے ان سے بھی یہی سلوک کیا گیا۔

  • error: Content is protected !!