Chitral Times

Nov 21, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • عوام میں‌کانگو وائرس اور اس بیماری سے بچنے کیلئے اگہی مہم چلانے کی ہدایت

    August 20, 2018 at 11:59 pm

    پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ)‌ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی طرف سے عید الا ضحی سے قبل اور عید الا ضحی کے دوران عوام میں کانگو وائرس اور اس بیماری سے بچنے کے لئے حفاظتی اقدامات کے سلسلے میں آگاہی مہم چلانے کی ہدایات کے پیش نظر ڈائریکیٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز خیبر پختونخوا چند ہدایات جاری کی ہیں اور ہدایات پر عمل کرنے کے ذریعے عید الاضحی کی آمدکی وجہ سے جانوروں کی نقل و حمل اور خرید و فروخت کے تناظر میں عوام الناس کو کانگو جیسی مہلک بیماری سے محتاط رہنے اور ان ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کی تلقین کی ہے ۔ کانگو بیماری ایک ایسے وائرس کی وجہ سے انفیکشن کا نام ہے جس میں متاثرہ شخص کو تیز بخار ، جسم پر سرخ دبوں کا ظاہر ہونا اور شدید حالات میں جسم سے خون رسنا شروع ہو جاتا ہے اور تیزی سے بگڑتی ہوئی صحت موت کا باعث بن سکتی ہے ۔ یہ وائرس ایک خاص قسم کے کیڑے کے ذریعے پھیلتا ہے جو جسامت میں جوں سے تھوڑا بڑا ہوتا ہے ہے کیڑا گائے ، بھینس ، بکری ،بھیڑ اور اونٹ وغیرہ کی کھال سے چپک کر خون چوستا رہتا ہے ۔ یہ کیڑا اگر انسان کو کاٹ لے یا متاثرہ جانور کو ذبح کرتے وقت انسان کو کٹ لگ جائے تو اس بات کے کافی امکانات ہیں کہ وائرس انسان میں منتقل ہو جائے جو کانگو کی بیماری کا باعث بنتا ہے ۔ جانوروں میں اس وائرس کی موجودگی کا پتہ لگانا مشکل ہے کیونکہ یہ وائرس انسانوں میں بیماری پھیلاتا ہے جبکہ جانوروں میں اس مرض کی کوئی علامت رونما نہیں ہوتی ۔ کانگو بیماری اس لئے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ یہ نہ صرف وبائی صورت اختیار کر سکتی ہے بلکہ اُس کی وجہ سے شرح اموات کا تناسب بہت زیادہ ہے اس کے علاوہ کانگو بیماری سے علاج کی سہولیات بہت مشکل ہے ۔ اسی لئے بچاؤ اور اختیاطی تدابیر میں اس کیڑے کو تلف کرنا سرفہرست ہے ۔ ماضی میں ہمارے صوبے میں تقریباً ہر سال جون سے اکتوبر کے مہنیوں میں کانگو کے کیسز نمودار ہوتے رہے ہیں گذشتہ دو سال کے دوران ضلع پشاور کے علاوہ جنوبی اضلاع خصوصاً کرک ، لکی مروت اور بنوں وغیرہ میں متعدد کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ ہزارہ ڈویژن مانسہرہ اور ایبٹ آباد سے بھی کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں ان کیسز میں زیادہ تر مریض ایسے شعبوں سے وابستہ تھے جن کا جانوروں ، مویشیوں کے ساتھ سامنا ہوتا ہے جیسا کہ شعبہ زراعت سے منسلک لوگ ، زبح خانوں میں کام کرنے والے لوگ ، جانوروں کی دیکھ بھال اور صفائی کرنے والے لوگ والے کارکن یا پھر جانوروں کے معالج وغیرہ ۔ متاثرہ جانور یا انسان کے خون ، جسمانی ریشے ، اعضاء اور رکوبتوں کے ذریعے یہ وائرس کسی تندرست انسان میں منتقل ہو سکتا ہے اسی طرح ہسپتالوں میں متاثرہ انسان کے لئے استعمال ہونے والے آلات کے زریعے بھی یہ وائرس دوسروں میں منتقل ہو سکتا ہے چونکہ عید الاضحی ایک مذہبی تہوار ہے جہاں تمام لوگ جانوروں کی خرید و فروخت ، ترسیل اور قربانی میں مصروف ہوتے ہے یہی وجہ ہے کہ عوام کے جانوروں کے قریب ہونے مواقع بڑھ جاتے ہے اور کانگو بیماری جانوروں سے انسانوں کو متقل ہونے کا خدشہ رہتا ہے ۔ اسی لئے محکمہ صحت نے عوام سے مذکورہ بیماری سے بچنے کے لئے حفاظتی تدابیر اپنانے کی اپیل کی ہے ۔
    جانوروں کیلئے کیڑے مار ادویات کا استعمال ، کیونکہ یہ وائرس جانوروں میں پایا جاتا ہے اور انسانوں میں بیماری پھیلاتا ہے اس لئے جانوروں میں اس وائرس کی موجودگی کا پتہ لگانا مشکل ہے اور جانوروں میں اس مرض کی کوئی علامات بھی رُونما نہیں ہوتی بلکہ یہ کیڑے ناصرف وافر مقدار میں پائے جاتے ہے بلکہ جانوروں کی کھال کی مختلف حصوں سے چپکے ہوتے ہیں اسی لئے کیڑے مار ادویات کے ذریعے اس کیڑے کو تلف کرنا بہترین اور ازمودا طریقہ ہے ۔

    کیڑے /چیچڑ سے انسان کو کانگو بیماری لگنے سے بچاؤ کے احتیا طی تدابیر
    عید الاضحی میں عوام کا جانوروں کے ساتھ زیادہ رابطہ ہوتا ہے جب عوام قربانی کرنے یا قربانی کا گوشت بانٹتے ہیں تو اس بیماری کے پھیلنے کے امکانات بڑ ھ جاتے ہیں چناچہ اس جان لیوا بیماری سے بچنے کے لئے محکمہ صحت نے مندرجہ ذیل احتیاطی تدایبر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ قربانی کے وقت ایسا لباس پہنا جائے جو جسم کے زیادہ حصے کو ڈھانپے تاکہ جسم کے کھلے حصے پر کانگو ، چیچڑ کاٹ سکے مویشیوں کی خریداری اُن کی صفائی ستھرائی ، نقل وحمل اور دیکھ بھال کے وقت مکمل آستین والی قمیص ، دستانیں اور پاؤں تک ٹانگیں والی شلوار یا پتلون پہننے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ یہ اختیاط اس لئے ضروری ہے کیونکہ بیمار جانوروں کی کھال سے مختلف کیڑے مکوڑے اور کانگو ، چیچڑ چپکے ہوتے ہیں جو اڑ کر انسان کو کاٹ سکتے ہیں اور کانگو بیماری کا باعث بن سکتے ہیں ۔ جلد اور کپڑوں پر کانگو چیچڑیوں ، مچھروں اور کیڑے مکوڑوں سے بچاؤ والے لوشن لگائیں۔ مویشی منڈی میں جاتے وقت یا مویشیوں کی دیکھ بھال کے وقت ہلکے رنگ کے کپڑے پہنے تاکہ اُن پر کانگو ، چیچڑ کی موجودگی نظر اسکے ۔ مویشی منڈی اور جسم یا کپڑوں پر کانگو چیچڑ کی موجودگی کی صورت اُسے ننگے ہاتھ یا داستانوں کے بغیر تلف نہ کریں ۔دستانوں کی عدم موجودگی میں کسی کپڑے یا کسی اور چیز سے جاڑ دیں ۔ مویشی منڈیوں ، ذبح خانوں اور جانوروں کے باڑے میں کانگو ، چیچڑ کے خاتمے کو یقینی بنائیں۔ بچوں کو مویشی منڈیوں میں لے جانے سے گریز کریں ۔

    جانور سے انسان کو کانگو لگنے سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر
    جانوروں کی نقل وحمل صفائی ستھرائی ، طبی دیکھ بھال اور ذبح کرتے وقت دستانے اور دیگر حفاظتی لباس پہنیں۔ جانوروں کی کھال کو چھوتے وقت حاص احتیاط رکھیں اور دستانے پہنے بغیر نہ چھویں۔جانوروں کے فضلے ، اس سے اٹھنے والے تعفن اور بقایاجات کو احتیاط سے ٹھانے لگائیں کیونکہ ان تمام میں بھی وائرس کی موجودگی کا خطر ہوتا ہے اور ایسی صورت میں وائرس جلد میں پہلے سے موجود زخم کے ذریعے جسم میں منتقل ہوسکتا ہے۔جانوروں کے فضلہ جات، بقایاجات اور آلائشوں کو ندی نالوں اور ترسیل اب کی سہولتوں میں نہ پھینکنے بلکہ ضلعی انتطامیہ کی جانب سے مخصوص کردہ جگہیوں پر ٹھانے لگائیں بصورت دیگر گڑھا کھود کرمٹی میں دبا دیں۔کوشش کریں کہ جب تک ذبح شدہ جانور کا خون جسم سے مکمل طورپر نہ بہہ جائے ، جانور پر مزید کاروائی نہ کریں۔ذبح خانوں کو صاف رکھیں اور چوہوں ، پرندوں اور کیڑے مکوڑوں کی موجودگی کا تدارک کریں اس کے علاوہ پالتو جانوروں کو ببح خانوں کے اندر داخل نہ ہونے دیں۔کھال سے چمڑے کی تیاری کے مراحل کو ذبح کئے گئے جانور سے دور فاصلے پر سرانجام دیں۔اپنے ہاتوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں اور انہیں زیادہ سے زیادہ مرتبہ اور مجوزہ طریقے سے دھوئیں۔ذبح کرنے کے لئے محتص جانوروں پر ذبح کرنے سے کم از کم دو ہفتے قبل کانگو چیچڑکش ادویات استعمال کریں اور اس کے بعد ذبح ہونے کے وقت تک انہیں باقی جانوروں سے الگ تلگ رکھیں۔

    انسان سے انسان کوکانگو لگنے سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر، کانگو کے متاثرہ مریض سے جسمانی رابطے سے گریز کریں۔ کانگو کے متاثرہ مریض کی دیکھ بھال کے لئے دستانے اور دیگر حفاظتی لباس کا استعمال کیا جائے۔ جس کے بعد باقاعدگی سے ہاتھ دھوئے جائیں۔
    نوٹ:۔ ایسا ر شخص جو کہ جانوروں کی دیکھ بھال ، صفائی ستھرائی اور ذبح کرنے کے عمل میں شامل ہو اور اسے بخار کی علامات ظاہر ہوں، فوری ڈاکٹر سے رابطہ کرے۔ہاتھوں پر ڈبل دستانوں کا استعمال،کانگو سے بچاؤ کے لئے جانوروں اور انسانوں کے لئے کوئی ویکسین موجود نہیں ۔ کانگو مریض کی موت کی صورت میں غسل دینے میں بہت احتیاط برتی جائے۔

    غسل دینے والے افراد درج ذیل احتیاط کریں ۔ مکمل آستینوں والی قمیص کا استعمال ، پاؤں تک لمبائی شلوار کا استعمال ، ربڑ کے بوٹوں کا استعمال اور لاش پر ایسے بلیچ کا استعمال کیا جائے جس میں 1نسبت 10کی تناسب سے کلورین محلول شامل ہو۔ اسکے بعد لاش کو ایسے کپڑے میں لپٹا جائے جس پر بھی اسی محلول کا سپرے کیا گیا ہو۔ اگر سند یافتہ طریقہ اختیار کیا جائے تو اس کپڑے کے لپٹنے کے بعد پلاسٹک کے بڑے لفافے میں لاش کو بند کرنے کے بعد لفافے کو ہر طرف سے سیل کر دیا جائے۔ متاثرہ شخص کے بچے کھچے لباس وغیرہ کو جلا کر ضائع کر دیا جائے اور جس ایمبولینس یا گاڑی میں متاثرہ شخص کی لاش کو لے جایا گیا ہوکیمیکل کی مدد سے انفییکشن سے پاک کیا جائے۔

  • error: Content is protected !!