Chitral Times

Nov 17, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • زندگی کی نا قدری……….. تحریر: اقبال حیات آف برغذی

    August 20, 2018 at 11:58 pm

    ایک ماں طلوع آفتاب ہو نے تک چارپائی پر پاؤں پھیلائے سوتے نو جوان بیٹے کو آواز دیتی ہے کہ تمہا را بوڑھا باپ کھیتوں کو پانی دینے کیلئے گیا ہے آپ کو شر م نہیں آتی کہ اب تک سو ئے ہو ئے ہو ۔ فرزند ارجمند چارپائی سے نیچے کودکر دونوں ہا تھ کمر میں ٹانکے ماں کو کھانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے چترال کے دو صاحب ثروت افرا کا نام لے کر کہتا ہے کہ باپ ایسے لوگوں کو کہا جاتا ہے۔ تم جس کو باپ کہتی ہو وہ باپ لفظ کی پیشانی پر بد نما داغ ہے ۔وہ کیسا باپ ہے۔ جو اپنی اولاد کی ایک موٹر سائیکل کی خواہش پوری نہیں کرتے۔ مجھے اس جینے سے خودکشی کرنے کو جی کرتا ہے۔ ماں اپنے لخت جگر کی زبان سے نکلتے ہوئے گستاخانہ الفاظ کو سن کر اپنی نظریں حیرت سے اس کے چہرے پر مرکوز کرتی ہیں اور بے ساختہ آنکھوں سے نکل کر رخساروں پر ایک دوسرے کا پیچھا کرتے ہوئے آنسووں کو انچل سے پونچنے کے بعد خاموشی سے باہر نکل جاتی ہیں۔ کیونکہ مزید کچھ کہنے سے خودکشی کے واقعے سے واسطہ پڑنے کے خطرے کو نظر انداز نہیں کرسکتی تھی۔ جو عام طور پر بدقسمتی سے ہمارے خوبصورت معاشرے میں آئے دن رونما ہوتی ہیں۔
    نوجوان نسل کے اندر پنپتے ہوئے ان منفی تصورات کو اگر حقیقت کی کسوٹی میں پرکھ کر دیکھا جائے تو اس کی بہت سی توجیحات سامنے آتی ہیں۔ جہاں چترالی لفظ کو باوقار اور قابل اعتبار بنانے والے اوصاف کو معاشرتی زندگی سے معدوم کرنے میں مادہ پرستی کے عنصر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ وہاں اولاد کا والدین سے مالی استطاعت اور والدین کا حصول علم کے معرکے میں اولاد کی ذہنی صلاحیت کے برعکس تقاضے اور ازواجی زندگی کے فیصلوں میں والدین کا آمرانہ انداز فکر عام طور پر خودکشی جیسے قبیح فعل کے ارتکاب کے اسباب بنتے ہیں۔ درحقیقت ہمارے گھروں کے اندر اولاد کی تربیت کے رنگ اور ڈھنگ بھی بدل گئے ہیں۔ الف ۔ ب سے زبان کی شناسائی کو فوقیت دینے کی بجائے اے ۔بی۔سی الفاظ کی ادائیگی پر ناذان ہوتے ہیں۔ یوں تعلیم کو انسانیت کی تعمیر کی جگہ ذرائع معاش کے طور پر اپنانے کے تخیل نے اس کے منفی ردعمل سے دوچار کیا۔ یوں زندگی کے رت بدل گئے۔ باہمی محبت ،ادب احترام ،غمخواری اور شفقت وہمدردی ،شرم وحیا اور آبرو کی حرمت کے احساس کے حامل انسانوں کا مسکن چترال بڑی تیزی سے دوسروں کے رنگ میں رنگین ہوتا جارہا ہے۔ مذہبی اقدار کی پاسداری کا تصور اجنبیت کا شکار ہورہا ہے۔ مادہ پرستی ،بیرونی تہذیبوں کی سوشل میڈیا کی ذریعے یلغار،مذہب سے بیگانگی اور اغیار کی طرز معاشرت کی تقلید نے نہ صرف انسانیت بلکہ بنفس نفیس عقل و خرد کے حامل انسانوں کے جنازے اپنے ہی ہاتھوں نکالنے کے عمل سے دوچارکئے۔ غربت و افلاس اور کسمپرسی کے ایام میں من حیث الانسان اپنی عزت وتوقیر سے آشنا اور قدردانی کے خوگر ہونے زندگی کو درپیش ہر قسم کی مالی مشکلات کا خوش طبعی اور جوانمردی سے مقابلہ کرنے ،پاوں ننگا ہونے اور پیٹ نان جوئن کو ترستے ہوئے بھی چہروں پر زندگی سے بیزاری کی کیفیت پیدا ہونے نہ دینا۔ نہ صرف دوسروں کی جان ومال اور عزت و آبرو کی قدردانی کے اوصاف سے مستفید بلکہ اپنی زندگی کے احترام کو بھی خودپر بیتنے والے حالات کا مرہوں منت بننے نہ دنیا جیسے منفرد حیثیت کے حامل اوصاف آج قصۂ پارینہ کے رنگ میں ڈھل گئے۔ ایک دوسرے کا دکھ در د بانٹنے والے،غم اور بیماری میں سہارا بننے والے دنیا کی چاہت اورتڑپ میں اتنے غلطان ہوگئے کہ پڑوسی کی موت کی خبر سے لاوڈ سپیکر کے ذریعے آگہی ہوتی ہے۔ مختصر یہ کہ زندگی کی حقیقی وقعت اور مقصد سے نا آشنا معاشرے میں صرف اور صرف مذہب سے وابستگی کی بنیاد پر اصلاح کی امید رکھی جاسکتی ہے۔ کیونکہ تاریخ میں اپنی زندگی سے کھیلنے کی حماقت اور جرم عظیم کے مرتکب افراد میں دین سے وابستہ افراد نظرنہیں آتے۔

  • error: Content is protected !!