Chitral Times

Dec 11, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ہیروئن، شیشہ اورآئس……… محمد شریف شکیب

    August 19, 2018 at 8:20 pm

    پشاور پولیس نے منشیات کے خلاف منظم مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مہم میں علمائے کرام، کالجوں ، یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور میڈیا کو بھی شامل کیا جائے گا۔ شہر بھر میں اشتہارات کے ذریعے شہریوں کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے گا۔ پولیس حکام کو شکایت ہے کہ منشیات کے کاروبار سے متعلق قانون میں سقم ہونے کے باعث منشیات فروش پکڑنے جانے کے باوجود عدالتوں سے چھوٹ جاتے ہیں جب تک موثر قانون سازی نہیں ہوتی۔ معاشرے کے ماتھے پر لگے اس بدنما داغ کو مٹانا ممکن نہیں۔ منشیات کا استعمال اور کھلے عام اس کا کاروبار حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کے لئے ایک پریشان کن لمحہ فکریہ ہے۔ پہلے چرس اور افیون کا نشہ کیا جاتا تھا۔ رفتہ رفتہ دیسی اور ولایتی شراب کا کاروبار بھی پنپنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہیروئن نامی نشہ معاشرے میں پھیل گیا۔ اس پر ابھی قابو پانے کی سوچ بچار ہورہی تھی کہ شیشہ نامی نشہ عام ہونے لگا۔ اس کے نقصانات پر غور جاری تھا کہ اب آئس کا نشہ پھیلنے لگا ہے۔ کچھ لوگ غم غلط کرنے کے لئے اس کا استعمال کرتے ہیں۔کچھ دولت کے نشے میں ان منشیات کو بھی شامل کرتے ہیں۔ آئس کے بارے میں طلبا کو یہ باور کرایا گیا ہے کہ اس کے استعمال سے انرجی میں اضافہ ہوتا ہے ، نیند دور بھاگ جاتی ہے۔ اور سادہ لوح طلبہ امتحانات کی تیاری کے لئے دوست احباب کے کہنے پر آئس کا استعمال شروع کرتے ہیں جب اس کے عادی ہوجاتے ہیں تو منہ سے لگی یہ کافر چھوٹ جانے کا نام بھی نہیں لیتی۔ اور جان لے کر ہی جان چھوڑتی ہے۔شہر میں نشے کے عادی افراد کی تعداد سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں میں ہے۔ جو چوبیس گھنٹے فٹ پاتھوں، پلوں کے نیچے، جھاڑیوں میں اور نالیوں کے کنارے پڑے رہتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھرے شہر میں سڑکوں پر کھلے عام گھو منے والے نشے کے عادی ان افراد کو منشیات کون ، کب اور کیسے سپلائی کرتا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ان تک کیوں نہیں پہنچ پاتے۔ منشیات کا کاروبارہی جرم نہیں، اس کا استعمال بھی جرم ہے۔ لیکن پولیس کی پے در پے مہمات کے باوجود نشے کے عادی افراد کی تعداد کم ہونے کے بجائے بڑھتی جارہی ہے نہ اس کا کاروباربھی دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔ پہلے یہ بہانہ بنایاجاتا ہے کہ منشیات کا کاروبار قبائلی علاقوں میں ہوتا ہے۔ منشیات کے عادی افراد وہاں سے مال چھپا کر لاتے ہیں۔ اب قبائلی علاقے بھی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دست اندازی میں آگئے ہیں۔ اس کے باوجود جمرود بازار، باڑہ بازار اور لنڈی کوتل میں کھلے عام افیون، چرس اور ہیروئن کی خریدو فروخت پر قابو کیوں نہیں پایا جاتا؟۔پولیس کی طرف سے منشیات کے خاتمے کی مہم شروع کرنا خوش آئند ہے۔ تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ منشیات کے تباہ کن اثرات سے متعلق مضامین پرائمری اور ثانوی سطح تک تعلیمی نصاب میں شامل کئے جائیں۔ کالج اور یونیورسٹیوں کو منشیات سے پاک کرنے کے لئے ان اداروں کی انتظامیہ کو پابند بنایا جائے۔سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اس حوالے سے ماہانہ بنیادوں پر خصوصی پروگرام منعقد کئے جائیں جن میں طبی ماہرین کے لیکچرز کا اہتمام کیا جائے۔ والدین اور اساتذہ کی کمیٹیوں کو بھی اس نیک کام کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ علمائے کے ذریعے منبر سے اگر منشیات کے حوالے سے ماہوار بنیادوں پر وعظ کا اہتمام بھی کیا جائے تو اس معاشرتی برائیوں پر کسی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی نئی حکومت کو اس اہم سماجی مسئلے کے حل کی طرف توجہ دینی ہوگی اور منشیات کے کاروبار اور استعمال کے حوالے سے سخت قوانین وضع کرنے ہوں گے۔ تاکہ قوم کے مستقبل کے معماروں کو منشیات سے دور رکھا جاسکے۔منشیات کے استعمال اور کاروبار کی روک تھام کے ساتھ اس امر پر بھی ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ نوجوان اپنے دیگر ساتھیوں کا عبرتناک انجام دیکھتے ہوئے اس لت میں کیوں پڑ جاتے ہیں ۔منشیات کے عادی افراد کی بحالی اور انہیں معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کے لئے بھی ادارے قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں بھی ایسے ادارے قائم ہوتے رہے مگر ارباب اختیار و اقتدار نے کبھی اس مسئلے کو قومی مسئلہ نہیں گردانا۔ اس وجہ سے یہ ادارے عدم سرپرستی کی وجہ سے اپنی افادیت کھو چکے۔ مگر اس بار غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔ نوجوان نسل کو تباہی سے بچانے کے لئے حکومت کو جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔

  • error: Content is protected !!