- Chitral Times - https://chitraltimes.com - Chitral Times

احکامِ حج……………….تحریر:عبدالقدیر اعوان

حج کس پر فرض ہے؟
حج اس پر فرض ہے جس کے پاس آنے جانے اور قیام کا خرچ ہو اور جتنا عرصہ اس نے گھر سے باہر رہنا ہے اتنے عرصے کے اخراجات بچوں کو بھی دے کر جائے تاکہ وہ کسی کے محتاج نہ ہوں اور اگر اتنی مالی حیثیت نہیں تو اس پر حج فرض نہیں۔ حج صاحبِ استطاعت پر فرض ہے ’’وتزودّوا ‘‘اور حج پر جانے کے لیے حج کا اہتمام کرو جس کے پاس اخراجات نہیں ہیں۔ اس پر حج فرض ہی نہیں ہے’’فان خیرالزاد التقویٰ‘‘ اور بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔ اخراجات کا اہتمام ہے تو ضرور جاؤ اور نہیں ہے تو جو فرائض عائد ہیں انھیں پورا کرو۔ اجر اللہ نے دینا ہے اس لیے کہ سفر حج مقصد نہیں مقصد اللہ کی اطاعت ہے جس پر حج فرض نہیں وہ لوگوں سے مانگ کر حج پر کیوں جاتا ہے؟ یہی حال عامۃ الناس کا ہے مانگتے پھرتے ہیں کہ مدد کیجیے میں نے حج پر جانا ہے میری بڑی آرزو ہے لیکن پیسے نہیں ہیں۔ اگر پیسے نہیں ہیں تو حج اس بندے پر فرض ہی نہیں ہے۔ ان سے پوچھا جائے کہ حج تو آپ پر فرض نہیں ہے لیکن جو باتیں آپ پر فرض ہیں کیا وہ آپ نے پوری کر لی ہیں؟ صرف حج ہی تو اللہ کا حکم نہیں ہے حج بھی تو اللہ کے احکام میں سے ایک حکم ہے نرا مکہ مکرمہ جانا مقصد نہیں ہے۔ مقصد ہے اللہ اوراللہ کے رسولﷺ کی فرمانبرداری۔ جو چیز اللہ نے کسی پر فرض ہی نہیں کی اس کا اُسے بہت شوق ہے اور جو فرائض اس کے ذمے ہیں اس کی اُسے فکر ہی نہیں۔اللہ کی اطاعت کا جذبہ زندہ رہے یہ فرض ہر ایک پر ہے اس جذبے کے ساتھ جو فرائض جس پر ہیں وہ دیانتداری سے ادا کرے اُسے اللہ وہی اجر عطا فرمائے گا حضور ﷺنے ایسے شخص کو جس کے پاس حج کے اخراجات کی سکت نہیں، خوشخبری سنائی ہے کہ وہ جمعہ کا اہتمام کرے۔ خلوص کے ساتھ جمعہ پڑھے، ہر جمعہ میں حج کا درجہ پائے گا ۔اشراق کے نوافل ادا کرے، عمرے کا ثواب پا لے گا۔ سو سفر کرنا غرض نہیں غرض اللہ کی اطاعت ہے۔

حقیقتِ حج
بیت اللہ روئے زمین کا ایک ایسا ٹکڑا ہے جس پر ہرحال ہر وقت اللہ کی ذاتی تجلیات برستی رہتی ہیں ،تجلیات باری ہمہ وقت اس پر متوجہ رہتی ہیں اور کعبۃ اللہ اس کیفیت سے کبھی خالی نہیں رہتا ۔حاجی وہاں اس حال میں حاضر ہوتا ہے کہ جس حال میں اللہ کے بندے میدانِ حشر میں اللہ کے حضور حاضر ہوں گے، حاجی وہ حال اسی فانی دنیا میں اسی عالمِ فناء میں بناکر اللہ کے رُوبرو جا کر کہتا ہے ’’لبیک اللّٰھُمَّ لبیک‘‘ اے اللہ میں حاضر ہوں’’لاشریک لک لبیک‘‘ تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں’’ ان الحمدوالنعمۃ لک والملک‘‘بے شک تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں ،تمام نعمتیں تیری ہیں اور تمام ملک تیرا ہے۔ کسی کا اس میں کوئی دخل نہیں’’لاشریک لک‘‘ تیرا کوئی شریک نہیں۔

یہ ایک کیفیت ہے جو انسان کی سوچ اوراس کے دل کی گہرائیوں سے تعلق رکھتی ہے ،یہی وہ قلبی کیفیت ہے جو حج سے مقصود ہے، جس کے بارے حضورِ اکرم ﷺکا ارشاد پاک ہے کہ جس نے حج کیا وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو گیا گویا وہ دنیا میں آج پیدا ہوا ہے۔ اس کے سارے گناہ دُھل گئے ،گناہ تو دُھلنے ہی تھے جب وہ اللہ کریم کے رُوبرو کھڑا ہو گیا تجلیاتِ ذاتی اس پر پڑیں تو گناہ تو دُھل ہی جانے تھے لیکن بندہ رُوبرو کھڑا تو ہو۔ ایک واقعہ اس ضمن میں یاد آتا ہے کہ ہندوستان سے ایک صاحب حج پر تشریف لے گئے اور اپنے ایک بزرگ عالمِ دین کو مکہ مکرمہ سے پیغام بھیجوایا کہ میرے فلاں کام کو دیکھ لیجیے اور فلاں کام کا دھیان رکھیے گا۔ تو ان بزرگ نے جواباً اُسے لکھا کہ تمہیں حج پر نہیں جانا چاہیے تھا کہ تمہارا وجود تو حرم میں ہے اور تمہارا دِل ہندوستان میں ہے۔ اس سے بہتر ہوتا کہ تمہارا وجود ہندوستان میں رہتا اور دل حرم میں رہتا تو حج سے مطلوب تو وہ باطنی کیفیت ہے کہ بندہ دِل کی گہرائی کے ساتھ خود کو اللہ کے رُوبرو کھڑا محسوس کرے اور اس کا اثرتادمِ مرگ ہی نہیں مرنے کے بعد بھی باقی رہے۔ قبر میں بھی تجلیاتِ باری اور اللہ کی حضوری نصیب رہے ،حشر میں بھی اللہ کی حضوری اور اس کی تجلیات نصیب ہوں۔
حج اور عمرہ
بیت اللہ کے ساتھ دو عبادتیں متعلق ہیں ایک حج جو صرف ماہ ذی الحجہ کے پانچ دِنوں میں مقررہ مناسک کی ادائیگی ہے، حج دوسرے ایام میں نہیں ہو سکتا۔ دوسری عبادت عمرہ ہے جو حج کے پانچ دِنوں کے علاوہ باقی سارا سال ہر وقت ہو سکتا ہے۔ عمرے میں صرف تین کام ہیں ایک یہ کہ میقات سے یا میقات سے پہلے عمرہ کا احرام باندھنا دوسرے مکہ مکرمہ پہنچ کر بیت اللہ کا طواف کرنا تیسرے صفا مروہ کے درمیان سعی کرنا اس کے بعد سَر کے بال کٹوا کر احرام ختم کر دینا۔

حج کی اقسام
عمرے کو حج کے ساتھ جمع کرنے نہ کرنے کے اعتبار سے حج کی تین قسمیں ہو جاتی ہیں۔
ماہِ شوال سے حج کے مہینے شروع ہو جاتے ہیں یعنی شوال، ذی قعدہ اور ذی الحج کے دس دِن شوال سے پہلے حج کا احرام باندھنا جائز نہیں۔
حج کی پہلی قسم قِران ہے

حج کے مہینوں میں میقات سے حج اور عمرہ دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھ لے، اس کو اصطلاحِ حدیث میں قِران کہا گیا ہے۔ اس کا احرام حج کے اختتام پر کھلتا ہے آخر ایامِ حج تک حاجی کو احرام کی حالت میں رہنا ہوتا ہے، قِران کی افضلیت زیادہ ہے بشرطیکہ اس طویل احرام کی پابندیوں کو احتیاط کے ساتھ پورا کر سکے۔

دوسری قسم تمتع ہے
اس کی صورت یہ ہے کہ میقات سے صرف عمرہ کا احرام باندھے اس احرام میں حج کو شریک نہ کرے، پھر مکہ مکرمہ پہنچ کر افعالِ عمرہ سے فارغ ہونے اور بال کٹوانے کے بعد آٹھویں ذالحج کو مسجدِ حرام سے حج کا احرام باندھے اس کو تمتع کہتے ہیں۔ اس میں یہ سہولت ہے کہ احرام کی پابندیوں سے عمرہ کے بعد فارغ ہو جاتا ہے۔

تیسری قسم کا نام افراد ہے
اس کی صورت یہ ہے کہ سفر کے وقت صرف حج کی نیت کرے اسی کا احرام باندھے عمرہ کو حج کے ساتھ جمع نہ کرے۔

احرام
دو اَن سِلی چادروں میں عمرہ اور حج کی نیت سے ملبوس ہونا حالتِ احرام ہے۔ صرف نیت کرنے سے احرام شروع نہیں ہوتا بلکہ الفاظ تلبیہ پڑھنے سے شروع ہوتا ہے الفاظ تلبیہ پڑھتے ہی احرام شروع ہو جاتا ہے ۔مرد حضرات اس سے پہلے سَر کو چادر سے کھول دیں اور بلند آواز سے تلبیہ کہیں ۔خواتین فرض پردے کے ساتھ آہستہ تلبیہ پڑھیں۔

احرام کی پابندیاں
احرام کی حالت میں مندرجہ ذیل اشیاء ناجائز ہیں:
1 مردوں کو سِلے ہوئے کپڑے پہننا۔
2 مرد کا سَر کو اور عورت کا چہرہ کو ڈھانپنا۔
3 کپڑوں یا بدن کو خوشبو لگانا، خوشبودار صابن استعمال کرنا، خوشبودار تمباکو یا کوئی خوشبودار چیز کھانا۔
4 ناخن کاٹنا۔
5 جسم کے کسی حصہ سے بال کاٹنا۔
6 شکار مارنایا شکاری کی مدد کرنا۔
7 نباتات، پودوں کا کاٹنا۔
8 لڑائی جھگڑا کرنا۔
9 بی بی سے مباشرت اور اس کے تمام متعلقات یہاں تک کہ کھلی گفتگو بھی۔
10 سر یا بدن کی جوئیں مارنا۔

ممنوع امور
حج اور عمرہ اللہ کے سامنے حاضر ہونے کے یقین کو دِل میں اُتارنے کا اکسیر نسخہ ہے۔ اس لیے اللہ کریم نے فرمایا کہ جو کوئی حج کا ارادہ کر لے تو پھر یہ بات یاد رکھے اس سفر میں’’لارفث ولا فسوق ولاجدال‘‘ کسی فحش بات یا کسی طرح کی نافرمانی یا کسی قسم کے نزاع کی دورانِ حج کوئی گنجائش نہیں ۔ان باتوں سے اپنی پوری کوشش سے بچے کہ یہ سعادت روزروز حاصل نہیں ہو سکتی اور ذرا سی کوتاہی بھی اس کے حُسنِ کمال کو ضرور متاثر کرتی ہیں اگرچہ بعض فسوق ایسے بھی ہیں جن سے حج ہی فاسد ہو جاتا ہے ، جیسے حالتِ احرام میں وقوفِ عرفات سے پہلے بی بی سے صحبت کر لی تو حج فاسد ہو گیا ۔بطورِ جرمانہ قربانی بھی دے گا اور اگلے سال پھر حج بھی کرے گا۔اسی طرح ہجوم خلائق میں اکثر نوبت جھگڑے کی آتی ہے کبھی سفر کے ساتھیوں کے ساتھ، کبھی خریدوفروخت کے وقت پھر مسلسل سفر اور جگہ جگہ عارضی قیام، وقت بے وقت کھانے پینے سے تھکاوٹ اور مزاج میں برہمی اور عبادات میں سستی آ سکتی ہے۔ ان سب چیزوں کا سب سے زیادہ موقع یہیں بنتا ہے جس سے بچنا اور پوری کوشش سے بچنا ضروری ہے۔ جس کی ایک ہی صورت ہے کہ نگاہ صرف بیت اللہ پر نہ ہو بلکہ صاحبِ بیت اللہ کی عظمت سے دِل منور ہو اور یہ یقین ہو کہ اللہ اعمال کو دیکھنے والا ہے اور ان مواقع سے بچنے کی کوششیں بھی اللہ کی رضاجوئی کے لیے ہوں۔یہ ایک نہایت ضروری لیکن بہت باریک بات ہے اس کا احساس رکھنا نہایت اہم اور اشد ضروری ہے وہ یہ کہ نیکی اور بھلائی اللہ کریم کو خوش کرنے کے لیے کی جاتی ہے لیکن انسان اس بات پر بضد رہتا ہے کہ میں ایسا کروں گا تو لوگ کیا کہیں گے؟ یا ایسا کروں گا تو لوگ مجھے اچھا سمجھیں گے۔ اس طرح وہ اپنی نیکیاں ضائع کرتا ہے کہ کام تو وہ درست کر رہا ہوتا ہے لیکن اُسے اُمید ہوتی ہے کہ دیکھنے والے اُسے بھلا اور نیک سمجھیں ۔ یہ نہایت غلط سوچ ہے ،کوئی غلط کام لوگوں کی رضا حاصل کرنے کے لیے کرنا اور اللہ کی ناراضگی کی پرواہ نہ کرنا اس کا نتیجہ دوہرا عذاب ہے کہ ایک تو برائی اختیار کی دوسرا بندوں کی رضا کو اللہ کی رضا پر مقدم رکھا، انسانوں کی رضامندی مدِ نظر رکھی تو عذاب کئی گنا بڑھ گیا۔

ایک نیکی کی، نیک کام کیا، اگر نیکی اللہ کی رضا کے لیے کی جاتی تو اجر ملتا لیکن کرنے والے نے اس سے یہ اُمید رکھی کہ لوگ اچھا سمجھیں تو پھر وہ نیکی بھی جرم بن گئی۔تجارت کی غرض سے حج پر جانے سے حج ادا نہیں ہوتا۔کوئی اس نیت سے وہاں جائے کہ وہاں سونا سستا اور اچھا ملتا ہے خرید کر لے آؤں گا۔ وطن لا کر بیچ دوں گا یا کسی اور چیز کے بارے یہ رائے رکھ کر اس پرعمل کرے گا۔ اس نیت سے جائے گا تو حج نہیں ہو گا۔ ہاں حج کی نیت سے گیا وہاں رہتے ہوئے کوئی مزدوری مِل گئی یا کوئی چیز سستی مِل گئی، خرید لی تو وہ منع نہیں ہے’’لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلا من ربکم‘‘ یعنی مقصد اصلی حج ہو ،ساتھ میں مزدوری یا تجارت کر لی توکوئی حرج نہیں اور اگر مقصد ہی مزدوری کرنا، پیسہ کمانا یا تجارت کرنا ہو تو پھر حج نہیں ہو گا۔

احرام کہاں اور کس وقت باندھا جائے؟
اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کے گرد چاروں طرف کچھ مقامات متعین فرما دیئے ہیں۔ جہاں پہنچ کر مکہ مکرمہ جانے والوں پر احرام باندھنا واجب ہے خواہ حج کا احرام باندھے یا عمرہ کا ۔ان مقامات کو میقات کہتے ہیں۔ یہ پابندی میقات سے باہر رہنے والوں پر عام ہے۔ جب بھی وہ مکہ مکرمہ کے لیے حدودِ میقات میں داخل ہوں خواہ وہ کسی تجارتی غرض سے جا رہے ہوں یا عزیزوں، دوستوں سے ملاقات کے لیے، ان کے ذمے بیت اللہ کا یہ حق ہے کہ میقات سے احرام باندھ کر داخل ہوں۔ حج کا وقت ہے تو حج کا، ورنہ عمرہ کا احرام باندھیں ۔بیت اللہ کا حق ادا کریں پھر اپنے کام میں مشغول ہوں۔

میقات یہ ہیں
ذوالحلیفہ یہ مدینہ منورہ کی طرف سے آنے والوں کے لیے ہے۔
جحفہ یہ ملک شام کی طرف سے آنے والوں کے لیے ہے۔
قرن المنازل یہ نجد سے آنے والوں کے لیے ہے۔
یلملم یہ اہلِ یمن و عدن کا میقات ہے۔ اہلِ پاکستان و ہندوستان کے لیے بھی یہی میقات مشہور ہے۔
ذاتِ عرق یہ عراق کی طرف سے آنے والوں کے لیے ہے۔

یہاں ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ اہلِ پاکستان کو علمائے کرام تاکیداً ملکی ہوائی اڈوں پر ہی سے احرام پہننے کی ہدایت کرتے ہیں کہ جہاز حدود میقات سے گزر کر جدہ جاکر اُترتا ہے۔ احرام کی اپنی پابندیاں ہیں جن کو پورا کرنا بہت ضروری ہے ۔اِس لیے اس مسئلہ کی وضاحت کی جاتی ہے تاکہ اس رعایت سے فائدہ اُٹھایا جا سکے اور احرام کی پابندیوں کو اچھی طرح پورا کیا جا سکے۔ وہ فقہی مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص گھوڑے پر سوار ہو اور وہ سفر کرتا ہوا میقات سے گزر جائے تو اُسے احرام باندھنے کی ضرورت نہیں۔ جب وہ شخص زمین پر قدم رکھ کر میقات سے گزرے گا خواہ کسی بھی مقصد سے گزرے۔ اس پراحرام باندھنا لازمی ہو گا۔ اس لیے بذریعہ ہوائی جہاز سفر کرنے والوں کے لیے ہوائی اڈوں پر حالتِ احرام میں ہونا لازم نہیں ہے۔ یہ ایک سہولت ہے ۔جسے اکثر لوگ نہیں جانتے کہ جدہ تک آرام سے اپنے لباس ہی میں سفر کریں ۔وہاں سے احرام باندھیں یا راستے میں میقات کے مقام پر مسجد بنی ہوئی ہے۔ وہاں سے احرام باندھ لیں۔ لوگ اس سہولت سے واقف نہیں ہیں ۔وہ یہاں سے احرام تو باندھ لیتے ہیں لیکن احرام کی شرائط کا لحاظ نہیں کرتے ۔ان چیزوں کا مطالعہ پہلے کر لینا چاہیے یا کسی سے پوچھ کر سیکھ لینی چاہئیں۔

حج کے پانچ دِن

پہلا دن 8ذی الحجہ
فجر کی نماز بیت اللہ میں ادا کر کے طلوعِ آفتاب کے بعد منیٰ کو روانگی قِران اور افراد حج کرنے والوں نے تو احرام پہلے سے باندھے ہوئے ہیں۔تمتع کرنے والے نے عمرہ کر کے احرام کھول دیا تھا۔ وہ آج احرام باندھیں ،طواف کریں، دوگانہ ادا کریں، حج کی نیت کریں، تلبیہ پڑھیں اور منیٰ روانہ ہو جائیں۔منیٰ میں آٹھویں تاریخ کی ظہر سے نویں تاریخ کی فجر تک پانچ نمازیں پڑھا اور اس رات کو منیٰ میں قیام کرنا سنت ہے۔

دوسرا دِن 9ذی الحجہ یومِ عرفہ
آج حج کا سب سے بڑا رُکن ادا کرنا ہے بلکہ اصل حج آج ہی ہے۔ طلوعِ آفتاب کے بعد، جب کچھ دُھوپ پھیل جائے، منیٰ سے عرفات کو روانہ ہو جائیں اور وقوفِ عرفات کریں۔ نویں ذی الحجہ کو ظہر کے بعد سے، غروبِ آفتاب تک ،عرفات میں ٹھہرنا ،حج کا رُکن اعظم ہے۔ یہاں ظہر اور عصر کی دونوں نمازیں ظہر کے وقت میں ادا کی جائیں ۔ وقوف کا سارا وقت دُعا اور ذکر اللہ میں صرف کریں ۔وقوفِ عرفات کے بعد مزدلفہ روانہ ہوں۔ وہاں مغرب اور عشاء دونوں نمازوں کو عشاء کے وقت پڑھیں اور شب مزدلفہ میں قیام کریں۔

حج کا تیسرا دِن 10ذی الحجہ
آج عید کا دِن ہے۔ اس میں حج کے بہت سے کام فرائض و واجبات کی ادائیگی کرنا ہے، اس لیے آج حجاج کے لیے عید کی نماز معاف ہے۔ طلوعِ فجر سے طلوعِ آفتاب تک مزدلفہ ٹھہریں۔ پھر منیٰ کو روانہ ہوں۔ منیٰ پہنچ کر پہلا کام جمرہ عقبہ پر سات کنکریوں سے رمی کرنا ہے۔ کنکریاں مزدلفہ سے چُن لینا مستحب ہے۔ جمرات کے پاس گری ہوئی کنکریاں اُٹھانا جائز نہیں۔ اس کا مسنون وقت طلوعِ آفتاب سے زوالِ آفتاب تک ہے ۔زوال سے غروب تک بھی جائز ہے۔ ضعیف، بیمار اور عورتوں کے لیے غروب کے بعد بھی جائز ہے اور مکروہ نہیں ہے۔ آج کے دِن کا تیسرا واجب قربانی ہے۔ جب تک قربانی ہو نہ جائے ،سَر کے بال نہ منڈائے۔ جن کے پاس قربانی کرنے کی گنجائش نہیں، وہ قربانی کے بدلے دس روزے رکھے۔ شرط یہ ہے کہ تین روزے عرفہ تک رکھیں ۔بقیہ سات روزے واپسی کے بعد بھی رکھے جا سکتے ہیں قربانی بارھویں ذالحجہ تک کی جا سکتی ہے لیکنقِران اور تمتع کرنے والے جب تک قربانی نہ کر لیں۔ ان کے لیے بال منڈوانا جائز نہیں اور نہ ہی احرام سے خارج ہو سکتے ہیں۔ دس ذالحجہ کو طواف زیارت کرے، اس کا افضل وقت دسویں ذالحجہ ہے اوربارھویں تاریخ کو آفتاب غروب ہونے سے پہلے پہلے کر لے تو بھی جائز ہے۔طواف زیارت اور سعی کے بعد دسویں تاریخ کے سب کام پورے ہو گئے اب منیٰ واپس جائے۔

حج کا چوتھا دِن 11ذالحجہ
دو یا تین دن منیٰ میں رہنا، جمرات کو رمی کرنا اور ان دِنوں کی راتیں منیٰ میں گزارنا ہے۔

حج کا پانچواں دن 12ذالحجہ
اگر قربانی یا طواف زیارت ابھی تک نہیں کر سکا تو آج بھی کر سکتا ہے۔ آج کا اصل کام تینوں جمرات کی رمی کرنا ہے۔ اب تیرھویں تاریخ کی رمی کے لیے منیٰ میں مزید قیام کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے۔ بارھویں کی رمی سے فارغ ہو کرمکہ مکرمہ جا سکتا ہے بشرطیکہ غروبِ آفتاب سے پہلے منیٰ سے نکل جائے۔

طوافِ وداع
میقات سے باہر رہنے والوں پر واجب ہے کہ جب مکہ شریف سے واپس جانے لگیں تو رُخصتی طواف کریں ۔یہ حج کا آخری واجب ہے۔قرآنِ حکیم میں احکامِ حج کی آیات کو ان الفاظ پر ختم کیا گیا ہے ’’واتقواللّٰہ‘‘ کہ یہ بنیادی بات ہے کہ اپنا معاملہ ربِ جلیل کے ساتھ درست رکھو۔ حج کے ارکان فرائض و واجبات کا پورا خیال رکھو فرائض و واجبات اور سنن کو اپنے اپنے موقعوں پر پورے پورے ادا کرو اور ان کی ادائیگی کا پورا لحاظ رکھو۔

حج کا حاصل
حج کا حاصل بھی یہی ہے جو تمام عبادات کا حاصل ہے کہ بندے کا تعلق ربِ کریم کے ساتھ مضبوط تر ہوتا چلا جائے ،اُسے حضوری حق نصیب ہو جائے، ہمہ وقت اپنے پروردگار کو حاضر سمجھے۔ اللہ تو ہر وقت ہر جگہ موجود ہے، ہم نے اپنی کسی کوشش ، کاوش یا عبادت و دُعا سے اللہ کریم کو بلانا نہیں ہے ۔وہ فرماتا ہے:’’وھومعکم اینماکنتم‘‘ تم کہیں بھی ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ تو پھر یہ حضوری حق کے لیے محنت کیا معنی رکھتی ہے؟ حضوری حق سے مراد یہ ہے کہ ہمیں بھی اس کا ادراک ہو۔ اللہ تو موجود ہے ہم اس سے غائب ہوتے ہیں ۔ہمارا یہ احساس بھٹک جاتا ہے کہ اللہ موجود ہے یا یہ احساس مر جاتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ حج ادا کرنے سے صرف حاجی کہلانا مقصد نہیں ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ انسان کو قربِ الٰہی نصیب ہو تو وہ بالکل بدل جائے۔ جب وہ سوچے تو اُسے احساس ہو کہ میرا اللہ میرے پاس ہے بولنے لگے تو یہ احساس ہو کہ میرا اللہ سُن رہا ہے کوئی کام کرنے لگے تو اُسے پتہ ہو کہ میرا اللہ میری ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے ۔یہ احساس اگر کسی کو نصیب ہو جائے ،یہ شعور بیدار ہو جائے تو وہ کتنا بھلا انسان بن جائے گا۔

اگر کسی کو حرم کی حاضری نصیب ہوتی ہے ،ایمان کے ساتھ بیت اللہ شریف تک رسائی ہوتی ہے تو یہ اللہ کا ایک کرم ہے اور بندہ وہاں پہنچ کر سستی کرتا ہے، کوتاہی کرتا ہے اور جو احساس نصیب ہونا تھا کہ اللہ بہت بڑا ہے اور بندہ اس کی عاجز مخلوق ہے۔ وہ اُسے حاصل نہیں ہوتا اور اس کے بجائے وہ اپنی بڑائی کے زُعم میں مبتلا ہو جاتا ہے اُسے اپنے پارسا ہونے کا احساس پیدا ہو جاتا ہے تو یہ کام بالکل ہی بدل گیا۔ ہمارے زمانے کے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ یہ سفر ہر حال میں مبارک ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔اگر سفر حج میں بھی اور ارکانِ حج کی ادائیگی میں بھی لاپرواہی اور کوتاہی کو اختیار کیا تو یہی بات غضبِ الٰہی کو دعوت دینے کا سبب بن جاتی ہے۔ بیت اللہ کی ایک نماز جہاں ایک لاکھ کا ثواب پاتی ہے، وہاں کی نماز کو چھوڑ دینا گویا ایک لاکھ کو ضائع کرناہے۔حج کی تمام منزلوں پر اللہ کریم بار بار اپنی طرف متوجہ ہونے اپنی رضا کو حاصل کرنے کی طرف رغبت دلاتے ہیں۔ کبھی فرمایا:اللہ کے لیے حج اور عمرہ کرو۔ کبھی فرمایا: عرفات سے لوٹو تو شعرالحرام کے پاس اللہ کو یاد کرو جیسا تمہیں بتلایا گیا ہے ۔ قرآن کے اس حکم ’’کماھداکم‘‘ جس طرح تمہیں ہدایت کی گئی ہے، سے یہ واضح ہوا کہ کوئی عبادت اور طریقۂ عبادت اس وقت تک مقبول نہیں، جب تک اس کی سند سنتِ رسولﷺ سے حاصل نہ ہو ۔عبادات میں بھی اور عام معاشرت میں بھی، کوئی شخص کبھی اپنے لیے امتیازی صورت اختیار نہ کرے کہ اس سے نفرت اور باہمی دُشمنی اور مِل کر رہنے سے باہمی اخوت اور محبت پیدا ہو گی لہٰذا سب کے ساتھ مِل کر اللہ کی عبادت کرو اور اپنی کوئی امتیازی شان نہ چاہو بلکہ اللہ سے استغفار چاہتے رہو۔

’’فاذکرواللّٰہ‘‘
جب ارکان حج پورے کر چکو تو اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔ مصروفیت کے دِن ہوں یا فراغت کے۔ سفر ہو یا قیامِ ،حج ہو یا عید، کوئی دِن، کوئی لمحہ یا کوئی حال ذکرِ الٰہی سے خالی نہ ہو۔ یعنی تمام عبادات کا حاصل یہ ہے کہ بندے کا یہ شعور بیدار ہو جائے کہ اللہ اس کے ساتھ ہے تو ذِکر کیا ہے؟جس کا حکم اللہ دے رہے ہیں’’فاذکرواللّٰہ‘‘ اللہ کو یاد رکھنا ہی اللہ کا ذِکر ہے ۔جس کام کے کرنے میں اللہ کی رضا مقصود ہو ،وہ کام عملی ذکر ہے۔ جب ہم زبان سے نیک بات کہتے ہیں، تلاوتِ قرآن کرتے ہیں، درود شریف پڑھتے ہیں، بھلا مشورہ دیتے ہیں ،نیکی کا حکم کرتے ہیں، یہ سب لسانی ذِکر ہے۔ تیسری قسم یہ ہے کہ اللہ کی یاد دِل میں رچ بس جائے اور یہ مقصدِ حیات ہے کہ دِل میں اللہ کی یاد اس طرح بس جائے کہ موت آ جائے، زندگی منقطع ہو جائے لیکن یادِالٰہی منقطع نہ ہو۔ یہ انھیں نصیب ہوتا ہے جو ساری زندگی اللہ کی یاد دِل میں بسائے رکھتے ہیں ۔وہ دِل ایسا آباد ہو جاتا ہے کہ اُسے موت بھی ویران نہیں کر سکتی۔ موت بھی انھی دِلوں کو ویران کرتی ہے جو زندگی میں ویران ہوتے ہیں ۔ایسے دِل جو زندگی میں یادِالٰہی سے محروم ہوتے ہیں۔ انھیں موت اس طرح ویران کرتی ہے کہ زندگی میں حیات جسمانی کا رشتہ تھا، موت وہ رشتہ کاٹ دیتی ہے لیکن جو دِل زندگی میں یادِالٰہی کو اپنے اندر سمو لیتے ہیں ،انھیں زندگی میں حضور حق نصیب رہتا ہے ۔موت اُن سے یہ حضورِ حق نہیں چھین سکتی، موت انھیں اللہ کی یاد سے جدا نہیں کر سکتی ،حج کا حاصل یہی احساسِ تشکرہے کہ اللہ نے حضور نبئ رحمت ﷺکومبعوث فرماکہ یہ احسان فرمایا کہ بندوں کو ہدایت آشنا کر دیا لہٰذا اللہ کا ذِکر کرو۔
حج افضل ترین عبادت ہے اس میں ذکروفکرشکرواحسان مجاہدہ و امتحان سب کچھ موجود ہے اور اگر حج میں بھی کسی کا مقصد اور نیت یہی رہی کہ لوگ میرا احترام کریں، مجھے دُنیا میں بہت سی دولت مِل جائے یعنی مقصد حصول دنیا ہی ہو تو وہ ایسا محروم ہوتا ہے کہ آخرت میں اس کے لیے کوئی حصہ باقی نہیں رہتا۔کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو حج سے حضورِ حق کے متلاشی ہوتے ہیں۔ ہوتے وہ بھی انسان ہی ہیں، انسان محتاج ہے، اس کی ضروریات ہیں۔ لیکن وہ یہ جانتے ہیں کہ ان کی ساری ضروریات اللہ کریم نے ہی پوری کرنی ہیں تو وہ اللہ سے ایسی دُعا مانگتے ہیں کہ اے اللہ دُنیا میں بھی ہم پر رحم فرما ۔بھلائی عطا فرما ،آخرت میں بھی ہم پر رحمت فرما، ہماری خطاؤں سے درگزر فرما اور آگ کے عذاب سے بچا لے۔ ایسے لوگ دونوں جہانوں میں اپنی محنت کا بہت بڑا صلہ پاتے ہیں۔ یہ لوگ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ اللہ کا نظام بہت مضبوط ہے۔ انسان جو کرتا ہے اس پر اللہ کی گہری نظر ہے اور اس کی گرفت بھی بڑی سخت ہے۔

بڑا عجیب نظام ہے ربّ العالمین کا انسان کی سمجھ اور اس کی دانش کا قصور ہے۔ ورنہ برائی کی تکلیف اور دُکھ دنیا میں بھی نقد ملتاہے۔ آدمی جب غلط کاری کرتا ہے یا اللہ کے احکام سے رُوگردانی کرتا ہے اور حکمتِ الٰہی کو نہیں سمجھتا تو دُنیا میں بھی اس کی سانسیں اس کے لیے عذاب بن جاتی ہیں۔ اس کے دِل کو سکون نہیں ملتا ۔اس کے دل پر آخرت کا عکس پڑتا رہتا ہے۔ اگر آخرت میں اپنے لیے جہنم خرید رہا ہوتا ہے تو اس کی تپش یہاں دُنیا میں بھی اس کے دِل کو پہنچتی رہتی ہے۔ اسے سکون نصیب نہیں ہوتا اور نیکی کرتا ہے تو آخرت میں اس کے درجات بلند ہوتے ہیں اور دُنیا میں بھی سکون و اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ دُنیا میں بھی اس کی ٹھنڈک اور خوشبو اُسے نصیب رہتی ہے ۔اللہ نقد در نقد حساب کرتا ہے۔ ادائیگی فوراً ہوتی ہے۔ جو کچھ بندہ کرتا چلا جاتاہے ۔اس کی ادائیگی اُسے ہوتی چلی جاتی ہے۔ نیکی کی ادائیگی سکون ہے، بندہ اطمینان سے جیتا ہے۔ برائی بے سکونی پہنچاتی ہے، لوگ دُکھوں کو بھلانے کے لیے نشے کرتے ہیں۔ جب ہوش میں آتے ہیں، دُکھ کئی گنا بڑھ چکے ہوتے ہیں۔ پہلے ایک دُکھ تھا پھر مال ضائع کرنے کا دُکھ، آبرو ضائع ہونے کا دُکھ اور بڑھ جاتا ہے اور اگر اللہ کی اطاعت کی جائے، آخرت کا دھیان رکھا جائے اور یہ دُعا کی جائے کہ اللہ دُنیا بھی اچھی عطا کر اور آخرت بھی بہترین عطا فرما تو اللہ دونوں جہانوں کی بھلائیاں عطا فرما دیتا ہے۔حج میں اس بات کا خیال رکھو کہ تمہیں اللہ سے تعلق مضبوط کرنا ہے۔ اللہ سے رشتہ استوار کرنا ہے۔ حضورِ حق کو دل میں جاگزیں کرنا ہے پھر حج کے بعد کہیں بھی جاؤ تو تمہارا پروردگار تمہارے ساتھ ہو۔ تنہا ہو یا مجلس میں ہو۔ ہر وقت تمہارا اللہ تمہارے ساتھ ہو ۔یہی حج کا حاصل ہے، اسی پر خاتمہ بالایمان نصیب ہو گا۔ اسی سے قبر روشن ہو گی۔ اسی سے برزخ روشن ہو گا۔ اسی سے حشر کے دِن عزت نصیب ہو گی ۔آگ سے بچاؤ نصیب ہو گا۔

اگر محض رسمیں ادا کرتے رہے اور حضورِ حق نصیب نہ ہوا تو کتنا بدنصیب ہے وہ شخص جو حج کا سفر کر کے حرم سے ہو کر پھر بھی محروم رہے لہٰذا اللہ کی نسبت کو زندہ رکھو اور یہ بات یاد رکھو کہ واپس مڑ کر اللہ کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ تم ہزار تبدیلیوں سے گزرو، ہزار انقلاب سے گزرو، بچپن، جوانی، بڑھاپا، دولت کماکر،عہدے پاکر یا مفلسی وغریبی میں گزرے، لیکن بعد موت ہواؤں میں بکھر جاؤ یا زمین میں منتشر ہو جاؤ ۔واپس بارگاہِ الوہیت میں حاضر ہونا ہے۔ قرآنِ حکیم نے حج کا مقصد حضورِ حق کا شعور بتایا ہے قرآن کا مقصد محض باتیں کرنا نہیں ہے، انسان کی اصلاح کرنا ہے۔ اسے اللہ کی ناراضگی سے بچانا ہے۔ اس لیے یہ ہر عبادت کو اور زندگی کے ہر پہلو کو اتنی خوبصورتی سے زیربحث لاتا ہے کہ آدمی کو کوئی غلط فہمی نہیں رہتی۔ حج رسم نہیں ہے، اس کے احکام کو دِل کے کانوں اور دِل کی آنکھوں سے دیکھنا اور سننا چاہیے۔

حج کے جملہ احکام کیفیاتِ قلبی سے متعلق ہیں حدیث شریف میں وارد ہے کہ حج سے فارغ ہو کر آنے والا گناہوں سے اس طرح پاک ہو کر آتا ہے جیسے وہ آج پیدا ہوا تھا ۔اس حدیث کے آئینے میں حاجی کو دیکھنا ہے کہ اسے گناہوں سے پاکیزگی حاصل ہوئی ہے تو دِل گناہوں سے متنفر ہو جائے گا۔ ہاتھ پاؤں اللہ کی نافرمانی سے رُکیں گے کہ دورانِ حج بھی تو ہر مقدس مقام پر اس نے گزشتہ سے معافی مانگی اور آئندہ نہ کرنے کا عہد کیا تھا۔

قبولیت حج کی دلیل
یہی ہے کہ دِل دُنیا کی محبت سے خالی ہو جائے اور آخرت کی رغبت پیدا ہو جائے۔اللہ ہمارے گناہ معاف فرمائے۔ اپنی اور اپنے حبیب ﷺکی اطاعت نصیب فرمائے توبہ قبول فرمائے نیک انجام میسر فرمائے۔اللہ حج بھی نصیب کرے اور فرائض کی ادائیگی بھی نصیب ہو تو ضروری یہ ہے کہ ان سب عبادات کا حاصل حضورِ حق نصیب ہو اللہ کریم سب کو نصیب فرمائے۔ آمین۔