Chitral Times

Sep 22, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • پس وپیش……..خود کشی :ایک قابل تحقیق مسلہ…… تحریر: اے ۔ ایم ۔ خان

    August 15, 2018 at 10:29 pm

    گزشتہ سال مارچ کے مہینے میں اکنامسٹ اخبار ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی جس سے یہ بات سامنے آگئی کہ ’’جسطرح بچے کی حتمی کارکردگی میں سکولنگ اہم ہے اِسی طرح اُس کے گھریلو حالات اور نفسیاتی بہتری اُس کی تعلیمی کارکردگی پر اثر انداز ہوتی ہے‘‘۔ اِس تحقیقاتی رپورٹ کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ سکول میں کارکردگی بچے کے گھریلو اور نفسیاتی توازن سے منسلک ہے، اور اِسی طرح گھریلو، معاشرتی اور نفسیاتی توازن کا تعلیمی کارکردگی سےاہم تعلق ہے۔ یہاں ہمیں ترقی یافتہ ممالک میں سکولنگ، معاشرتی اور نفسیاتی ماحول کو پاکستان اور خصوصاً چترال کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہوگا تاکہ چترال میں بچون میں بڑھتے خودکُشی کے رجحان کو سمجھنے میں آسانی ہو۔
    گزشتہ سال خود کُشی کے حوالے سے ایک سروے کے مطابقپانچ سالون کے دوران ہر سال چالیس کے قریبخواتین اور لڑکیوں میں خود کُشی کے واقعات ہوئے۔۔اِس رپورٹ میں خواتین میں خودکُشی کے وجوہات،امتحان میں ناکامی، امتحان میں بری کارکردگی، اور مرضی کے بغیر شادی قراردی گئی ہے۔
    اِس سال ،امتحان کے نتائج آنے کے بعد ، چترال میں سات کے قریب طالب علموں کے خود کُشی کے واقعات رونما ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق ، اکثر سٹوڈنٹس میں خود کُشی کے وجوہات امتحان میں کم نمبر آنے کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ اِن طالب علموں میں فرید آحمد کا جو واقعہ ہے وہ مختلف اِس لئے ہے کہ اُس نےسالانہ امتحان میں ۱۱۰۰نمبرون میں سے ۸۸۵ نمبر لینے کے باوجود اپنی جان لے لی ہے۔ سوائے مطالعہ پاکستان کے ، ہر مضموں میں اُس کا گریڈ اےون تھا، اور وہ سکول ہذا میں اسکالرشپ بھی لے رہا تھا۔ اُس کے فیس بک پروفائل کے مطابق ، جو پوسٹس اپنے وال میں اُس نے کیا تھا، وہ امتحان کے بارے میں کافی پریشان رہتا تھا۔ ایک پوسٹ میں وہ لکھتا ہے کہ یہ ’’امتحان کیون ہوتے ہیں‘‘اور دوسرے پوسٹ میں امتحان ہونے کے بعد لکھتا ہے ’’امتحان ختم ہوگئے گنگم سٹائل‘‘۔ فرید آحمد کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا سکتاہے کہ اگر امتحان میں اُس کے نمبرز اچھے تھے؟ ایسا تو نہیں کہ وہ آسی فیصد سے بھی زیادہ نمبر لینا چاہتا تھا؟ اگر ایسا نہیں تو پھر اُس کے ہاں گھریلو مسائل تو نہیں تھے؟ یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔
    ہمیں یہ بھی مان لینا ہوگا، اور جو لوگ تعلیم سے منسلک ہیں اُن کو بھی اِس بات کا اندازہ ہوچُکا ہوگا، کہ چترال میں جو تبدیلی آئی ہے وہ کافی پیچیدہ مسائل اپنے ساتھ لاچُکی ہے۔ ٹی وی، انٹرنیٹ، جوکہ بچون کو دنیا سے منسلک کرچُکی ہیں، اور مقابلے کا جو رجحان چل رہا ہے بچون کو خصوصاً اور والدین اور اساتذہ کرام کو عموماً ایک دباو کا شکار کر دیا ہے۔ ایک زمانہ یہ تھا کہ امتحان میں پاس ہونا سب سے بڑی کامیابی تھی۔ بعد میں اپنے گاون میں زیادہ نمبر لینا، اور سکول میں پوزیشن لینا کامیابی کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ موجودہ دورمیں ، پاس ہونے کی بات ہی ختم ہوگئی ہے، اب فیصد کے حساب سے نمبر کا موازنہ کیا جاتا ہے۔ سکول سے باہر ، نہ صرف چترال، بلکہ صوبے میں،اور ملک میں پوزیشن لینا نہ صرف بچوں کے مقابلے کا بینچ مارک ہوچُکا ہے بلکہ والدین کا یہ خواہش بھی بچوں کے نفسیات پر غالب ہو چُکا ہے۔ اور جیسے پرائیوٹ سکولوں میں اساتذہ کی کارکردگی کوبچون کے امتحانی نتائج سے منسلک کی گئی ہے تو اُستاد کا دباو بھی بچے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

    چترال کے حوالے سے اب نہ صرف بچے کا اپنے خواہشات، بلکہ والدین اور اساتذہ کے توقعات، اور ہمارے دیہی معاشرے کے محرکات، بچے کی شخصیت اور نفسیات پر کتنا بوجھ ڈالتے ہیں اس کا اندازہ صرف سکول وکالج کے بچوں کو ہے، اور وہ اُس کا خمیازہ ، اپنے تعلیمی مقصد سے پریشان، والدین اور اساتذہ کے توقعات کے حوالے سے حساس بچے، خود کُشی کی شکل میں بھگت رہے ہیں۔

    بچون پر شدید امتحانی، نفسیاتی اور معاشرتی دباو کو پش پشت ڈال کر یہ کہنا کہ خود کُشی کرنے والے سب سے کمزور بچے ہیں ، ہم اُن سے نفرت کرتے ہیں ، اُنھین اپنے والدین، بہن بھائ اورخصوصاً مان کے بارے میں سوچنا چاہیے تھا، اور صرف اچھے نمبرز کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتے؟ کہنے سے ہم اصل مسلےکی تشخیص کرنے سے بھی عاری ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ اگر ایک بچہ اپنی جان، جوکہ سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہے، لینے کا فیصلہ کردیتا ہے اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بہت بڑے مسلے(مسائل) کا شکار ہو سکتا ہے۔ اور اُس کا ناپختہ ذہین اُنمسائل سے نجات پانے کیلئے اپنی زندگی کو ہی ختم کرنا واحد حل سمجھتا ہے۔

    پاکستان کے تعلیمی نظام میں امتحان کے نمبرون کی بنیاد پر (سکول، گھر، اور معاشرہ) میں گریڈنگ کی جاتی ہے۔ میڈیکل، انجنیرنگ، اچھے تعلیمی ادارون میں داخلہ، اور تعلیمی ادارون میں نوکری کیلئے بھی نمبرون کا حساب ہوتا ہے اور نمبرون کے بنیاد پر میرٹ بنایا جاتا ہے(۔اِس سال خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن نے یہ سسٹم کچھہ حد تک تبدیل کرچُکا ہے)۔ یہ سارے حالات ایک ناپختہ ذہین میں زندگی کے مقابلے میں نمبرز اور گریڈ کی اہمیت کوزیادہ کرکے بیٹھا دی ہے، جو حساس بچوں کے اذہان پر اِس طرح حاوی ہوتاہے، کہ وہ نمبر اور گریڈ نہ لینے کی صورت میں اپنی جان لینے سے بھی دریخ نہیں کرتے!

    نفسیاتی مسائل کا علاج نفسیاتی ڈاکٹر کرتا ہیں ، اور تعلیمی مسائل کا حل اُستاد کی ذمہ داری ہے۔ ایک اچھا اُستاد بیک وقت نفسیاتی اور تعلیمی مسائل کا حل نکال سکتا ہے۔ ہاں اِس حوالے سے زندگی کی اہمیت کو بیان کرنے کیلئے مذہبی تعلیمات کو بیان کرنے کے ساتھ کاونسلنگ کا کردار بہت اہم ہے۔ کاونسلنگ نہ صرف طالب علم کا ہونا چاہیے بلکہ اساتذہ ، والدین، اور معاشرے میں بھی اِس حوالے سے شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ضلع چترال میں، ڈپٹی کمشنر چترال، سکولوں میں کاونسلنگ کے سیشن رکھنے کے حوالے سے کام شروع کرچُکا ہے، جسے بہتر حکمت عملی کے ساتھ اگر کیا جائے تو اُس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اِس کام میں ضلع چترال، اور باہر سے مستند کاونسلرز، ماہر نفسیات، کیریر کاونسلرز، ماٹیوشنل سپیکرز، اور مذہبی سکالرز کو سکول اور معاشرے میں خودکُشی کے حوالے سے پروگرام ، سیمینار، ورکشاب اور تحقیق میں شامل کرنا چاہیے کیونکہ سکول سےباہر ، بچے کی معاشرتی اور نفسیاتی تربیت میں، جو مسائل پیدا ہو جاتے ہیں وہ زیادہ مشکل اور پیچیدہ ہوتے ہیں جو والدین اور معاشرہ میں ذہنی تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔

    وقت کی ضرورت یہ ہے کہ اب سکول میں اساتذہ کرام، معاشرے میں تعلیم یافتہ افراد، گھرون میں والدین اور بہن بھائی، اور علاقے میں متعلقہ ادارے ، خود کُشی کے مسلے کے حل کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا۔اساتذہ کرام بچون کے نفسیات کو سمجھنے ، نفسیاتی مسائل اور دباو کو جانچنے کیلئے کلاس روم ، کھیل کا میدان، دوستوں کے ساتھ میل جول، گھر میں والدین بچوں کا رویہ، بہن بھائیون اور معاشرے میں اُن کے عادات،روئے اور رجحانات میں منفی اور مثبت تبدیلی سے کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔ ایک بچے کے بارے میں اِن معلومات کی بنیاد پر، جوکہ اساتذہ اور والدین سے لی جائے، کوئی حکمت عملی اور بچے کی راہنمائی کی جاسکتی ہے۔ اِس کے علاوہ اگر کوئی بھی بیانیہ جو مذہبی اور سماجی نوعیت کا ہو اِس رجحان کو کم نہیں کر سکتا۔

  • error: Content is protected !!