Chitral Times

Oct 21, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • وطن کی مٹی گواہ رہنا…….تحریر: مفتی ثناء اللہ انقلابی نمبردار چکرکوٹ

    August 12, 2018 at 10:52 pm

    دنیا کی چھت گلگت بلتستان کو بلامبالغہ سیاحوں کی جنت کہنا درست ہے اسلئے کہ جنت کی سب سے اہم چیز دائمی امن اور دائمی خوشی ہے۔یوں تو جنت کی خوشیاں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہوتی ہیں مگر جنت کا یہ ٹکڑا گلگت بلتستان جغرافیائی نقشے میں دنیا کی چھت قرار پائی ہے۔اسلئے دنیا ہی کا حصہ ہونے کے ناطے یہاں کی خوشیاں اور مسرتیں عارضی ثابت ہوتی ہیں۔گزشتہ دس سال سے پاکستان جس کرب میں مبتلا ہے الحمدللہ اب پاک فوج اورآرمڈ فورسس کی قربانیوں کی بدولت پورے ملک میں امن لوٹ آیا مگر گلگت بلتستان گزشتہ کئی سالوں سے سوفیصد امن ایریا قرار دیا گیا ہے جسکی وجہ سے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی اس جنت نظیر میں آمدورفت اپنے عروج پر تھی۔ایسے میں ملک کے ازلی دشمن انڈیا کے پروپردہ ایجنٹ حرکت میں آئے اور پے درپے دیامر اور کارگاہ کے واقعات دلخراش پیش آئے۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پھولوں آبشاروں خوشبوؤں فلک بوس پہاڑوں کے ٹو اور ننگا پربت کی حسین چھاؤں میں ایسی پاکیزہ قابل رشک غیرت مند مائیں ہیں جنہوں نے ایسے دھرتی کے سپوت جنم دیئے ہیں کہ تا صبح قیامت اُن ماؤں کی عظمت کو سرخ سلام ہو کہ جن کی گود میں ایسی ہستیوں نے پرورش پائی جنہوں نے وطن عزیز کے چپے چپے اور پتے پتے کی حفاطت کے لئے دشمن کا تعاقب کیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے پوری قوم کا سرفخر سے بلند کردیا۔
    پاتے ہیں کچھ گلاب پہاڑوں میں پرورش
    آتی ہے پتھروں سے بھی خوشبو کبھی کبھی
    حالیہ واقعات و حادثات کے علاوہ کارگل جنگ ہو یا وادئ گیاری سیکٹر گلگت بلتستان کی ماؤں کے لخت جگر داد شجاعت دے گئے۔ مثال کے طور پر کارگل جنگ میں علاقہ چکرکوٹ سئی کے ایک سپوت این ایل آئی کے اورنگزیب ولد عزیز اللہ کے جسم کے اتنے ٹکڑے ہوئے کہ آج تک وہ ٹکڑے کارگل کے پہاڑوں میں کوؤں کی خوراک بن چکے ہیں کوئی نعش تک موصول نہ ہوسکی میری دھرتی کے شہید نوجوانو اور ماؤں کی عظمت کو سرخ سلام ہو بالخصوص حالیہ ملک دشمن سفاک دہشت گردوں کا مردانہ وار مقابلہ میں شہداء و کارگاہ پولیس کی شہادت کو سرخ سلام ہو۔یقیناًشہدائے کارگاہ پولیس کے بہارد جوانوں کی قربانیاں پورے ملک کیلئے ہیں یہ حملہ صرف ایک چوکی پر نہیں بلکہ پوری غیور قوم کے سینے پر حملہ تھا جسکو روک کر یقیناًپوری قوم کو بزبان حال پولیس شہداء کرام نے یہ پیغام دیا ہے وطن کی مٹی گواہ رہنا جب بھی دشمن نے تیری طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو تیرے وفادار بیٹے تیری عظمت کیلئے اپنا کل تیرے آج کیلئے قربان کرگئے۔اِنا للہ وانا للہ راجعون
    وہ لوگ جنہوں نے خون دیکر پھولوں کو رنگت بخشی ہے
    دو چار سے دنیاء واقف ہے گم نام نہ جانے کتنے ہیں
    دیامر کے شہید پولیس اہلکار سمیت شہدائے کارگاہ کو بھاری انعامات سے نوازا جائے تاکہ آئندہ کیلئے ہمارے نوجوان مزید جذبے سے سرشار ملک قوم اور وطن کی حفاظت کرسکیں۔اللہ تعالیٰ شہدائے کارگاہ کے درجات بلند فرمائے۔پسماندگان کو صبر جمیل عطافرمائے یقیناًدکھ کی ان گھڑیوں میں تمام پشتنی باشندگان گلگت بلتستان نمبرداران جی بی وکلاء برادری علمائے کرام مشائخ عظام مبلغین و واعظین اہل قلم اہل علم و ادب شعرء فن لواحقین کے ساتھ ہیں اور فخر محسوس کرتے ہیں کہ اپنے سپوتوں پر جنہوں نے وطن کی مٹی گواہ بنا کر دشمن کو مٹی میں ملایا ور خود بھی وطن اور قوم کی خاطر 14اگست کی آزادی سے قبل دنیا کی جھنجٹ سے آزاد ہوکر ہمیشہ کیلئے ہم سے جدا ہوگئے۔
    یہ پھول اپنی لطافت کی داد پا نہ سکے
    کھلے ضرور مگر کھل کر مسکرا نہ نہ سکے

  • error: Content is protected !!