- Chitral Times - https://chitraltimes.com - Chitral Times

آغاخان ہائیر سکنڈری سکول کوراغ میں ”اکیسویں صدی کے طالب علم کی خصوصیات” کے عنوان سے سیشن

کوراغ ( چترال ٹائمز رپورٹ )‌ آغاخان ہائیر سکنڈری سکول کوراغ میں ” اکیسویں صد ی کے طالب علم کی خصوصیات ” کے عنوان سے گزشتہ روز ایک سیشن کا انعقاد کیا گیا ۔ جس میں چترال کے نامور محقق ، دانشور اور ماہر تعلیم ڈاکٹر میر افضل تاجک مہمان مقرر تھے۔ سیشن کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیاگیا اور اسکے بعد نعت اور ملی نغمہ پیش کیا گیا۔ سیشن میں آغاخان ہائیر سکنڈری سکول کی طالبات کے علاوہ آغاخان ہائیر سکنڈری سکول سین لشٹ کے طلبا بھی شریک ہوئے۔
سیشن کے مہمان مقرر ڈاکٹر میر افضل تاجک نے اپنی تقریر میں کہا کہ دنیا کے تقاضے ہر روز بدل جاتے ہیں ،پہلے زمانے میں تعلیم کا شعبہ دو حصوں سائنس اور ہیومینٹیز(Humanities)تک محدود تھا۔ اس کے برعکس جدید دور میں ایجوکیشن سسٹم کے وسیع شعبے ہیں ۔ اس لیےایک طالب علم کسی بھی شعبے کا انتخاب کرسکتا ہے اور جس شعبے میں جائے اس میں مہارت حاصل کرنا چاہیے ۔پہلے زمانے میں تعلیم چند معلومات کو رٹ لگانے کا نام تھا اب تعلیم روز مرہ زندگی میں اطلاق کیے بغیر مکمل نہیں ، اس لیے ایک اچھے طالب علم کی خصوصیت یہ ہے کہ تعلیم کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا ئیں۔جدید دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی علم تک رسائی کو انتہائی آسان بنادیا ہےاس لیے طلبا کو اس سے بھر پورفائدہ اٹھانا چاہیے طلبا کو کمرہ جماعت کی سرگرمیوں اورپروجیکٹ ورک میں حصہ لینا چاہیے ۔ ہمارا معاشرہ چونکہ دوسرے معاشروں سے یکسر مختلف ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے بڑوں اور اساتذہ کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ان کے احترام کو اپنی زندگی کالازمی حصہ سمجھتے ہیں اس لیے طلبہ پر لازم ہے کہ وہ اساتذہ کا حکم مانیں اور ان کا احترام کریں۔ محنت کامیابی کی ضامن ہے اس لیے طلبا کو انتھک کوشش کرنی چاہیے ۔ کامیابی پر اللہ تعالی ٰ کا شکر اداکرنا چاہیے اور معاشرے کا مفید شہری بن کے لوگوں کے کا م آئیں نہ کہ غروراور گھمنڈ کو اپنا شیوہ بناکر گناہ کا مرتکب ہوجائیں ۔ اکیسویں صدی کے طالب علم کی خصوصیات مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ طلبا ء کو تنقیدی سوچ،نظریاتی ،عزم و ہمت ،تلاش و جستجواور تخلیقی صلاحیت کا حامل ہونا چاہیے تاکہ منزل مقصود تک رسائی میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایک طالب علم اپنے سابقہ تعلیمی ادارے کا سفیر ہوتا ہے ۔اس لیے طلبہ جہاں جائیں اعلیٰ اخلاق اور بہترین رویے سے اپنے سکول کی بہترین تصویر پیش کریں۔
جنرل منیجر آغاخان ایجوکیشن سروس چترال بریگیڈیر (ر) خوش محمد نے مہمان مقرر کا شکریہ ادا کیا اور آغاخان ایجوکیشن سروس چترال کی طرف سے گلدستہ اور تحفہ پیش کیا۔
آغاخان ہائیر سکنڈری سکول کوراغ کی پرنسپل سلطانہ برہان الدین نے خطاب کرتے ہوئے طلبہ پر اخلاقی اقدار کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنانے پر زور دیا ۔ انھوں نے مزید کہا کہ آغاخان ہائیر سکنڈری سکول کوراغ کوابتدا میں کئی مسائل درپیش تھے ۔ آغاخان ایجوکیشن سروس چترال اور سکول انتظامیہ اور اساتذہ کی انتھک کو ششوں کی بدولت آج ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اس کی فارغ التحصیل طالبات ملکی اور غیر ملکی تعلیم اداروں میں تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ پرنسپل نے طالبات پر زور دیا کہ سالانہ امتحانات نہ صرف طالبات کی تعلیمی قابلیت کو جانچنے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ یہ طالبات کو اپنی اخلاقی ،سماجی قابلیت کو جانچنے کا بھی ذریعہ ہے۔طالبات کو یہ دیکھنا چاہیےکہ اسی تعلیمی سال کے دوران ان کی خلاقی اور سماجی قابلیت میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔ جو کی آج کے دور کی اہم ضرورت ہے۔ اس سیشن میں نظامت کے فرائض بارہویں جماعت کی طالبہ حسین عالم رضا نے سرانجام دیے۔