- Chitral Times - https://chitraltimes.com - Chitral Times

انجام وفاداری………….. تحریر و ترتیب : ایم رحمان قمر بمبوریت

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے ۔ کہ انسان خود عظم نہیں ہوتا ۔ بلکہ اُس کا کردار اُسے عظم بنا تا ہے ۔ عظیم لوگ ہمیشہ مشکلات کے اندھیروں میں کامیابی کے راستے تلاش کرتے ہیں ۔ ایک مشہور انگریزی کہاوت ہے ( پُر امید انسان کو گھٹا ٹوپ اندھیرے میں بھی روشنی کی کرن دیکھائی دیتی ہے جبکہ نا اُمید انسان کے آنکھوں کے سامنے دن کے وقت بھی اندھیرا چھا جاتا ہے )۔ یہاں پُر امید انسان کے حوالے سے ایک ایسے نوجوان کا ذکر کرنا مقصود ہے ۔ جو اپنے خلوص نیت ، وفاداری ، مصمم ارادہ ، اللہ پر بھروسہ اور خدمت خلق کی وجہ سے آئے رو ز کامیابیوں کی منزلیں طے کر رہا ہے ۔ یہ کامیاب نوجوان رمبور وادی میں کالاش قبیلے کے ایک معروف گھرانے بشگالی خان کے ہاں یکم اپریل 1984کو پیدا ہوئے ۔ جس کی ابتدائی پیدائشی رسم (کالاش میٹر نٹی ہوم )بشالی میں ادا کرنے کے بعد اُس کا نام وزیر زادہ رکھا گیا ۔ نومولود وزیر زداہ کی خوش قسمتی تھی ۔ کہ اُن کا والد چترال بارڈر فورس میں ملازم تھا ۔ دوران ملازمت انتظامی آفیسران سے اکثر اوقات واسطہ پڑتا تھا ۔ جس کی وجہ سے تعلیم کی اہمیت کا اُسے بخوبی اندازہ تھا ۔ لہذا اُنہوں نے اپنے فرزند کو ہوش سنبھالتے ہی تعلیم کے راستے پر لگا یا ۔ فرزند ہی ایسا تھا ۔ کہ اُسے موقع ملنا چاہیے تھا ۔ اس لئے والد نے انتہائی فراخدلی سے اُسے تعلیمی ماحول سے جوڑے رکھا ۔ اُس کو یقین تھا ۔ کہ اُن کا بیٹا ایک نہ ایک دن پورے قبیلے میں اُن کا نام روشن کرے گا ۔ سو اُن کے والد کا خواب 26جولائی 2018کی صبح پورا ہوا ۔ جب اُن کا بیٹا پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے اقلیتی نشست پر پورے صوبے کیلئے رکن اسمبلی منتخب ہو ا ۔
وزیر زادہ نے ابتدائی پرائمری اور مڈل تعلیم آبائی گاؤں رمبور اور میٹرک تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول بمبوریت سے حاصل کی ، ایف اے گورنمنٹ کالج نوشہرہ ، گریجویشن گورنمنٹ ڈگری کالج چترال اورماسٹر ڈگری ان پولیٹکل سائنس پشاور یونیورسٹی سے کی ۔ زمانہ طالب علمی میں ہی خدمت خلق کا جذبہ اُن کی رگوں میں دوڑ رہاتھا ۔ اس لئے حصول تعلیم کے دوران ہی سماجی خد مات کو اپنا شعار بنایا ۔ وزیر زادہ وہ پہلے نوجوان ہیں ۔ جنہوں نے اپنے قبیلے کے بچے بچیوں کو تعلیم کی راہ دیکھانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ کئیر کونسلسنگ کرکے کالاش اور مسلم بچوں کی نہ صرف رہنمائی کی بلکہ بذات خود ان کے مسائل حل کرنے کیلئے وسائل اور وقت دونوں کا استعمال کیا ۔ 2000میں امریکہ کیلئے تعلیمی ویزہ ملا ۔ مگر کمیونٹی کے مفاد کو عزیز رکھتے ہوئے اسے ٹھکرایا ، دوران تعلیم ہی کالاش کلچر سوسائٹی کے صدر بنے اور اسے فعال بنایا ۔اس دوران حکومت یونان کی طرف سے سکالرشپ ملی ۔ لیکن یونانی ایمبسڈر سے ملاقات میں پاکستان کے بارے میں ہونے والی بات چیت نے اُسے مایوس کیا ۔ اور انہوں نے ویزہ کینسل کروایا ۔ 2008 میں یونین کونسل ایون میں ( اے وی ڈی پی ) نامی لوکل سپورٹ آرگنائزیشن سے بطور منیجر وابستہ ہوئے۔ اور اس ادارے کے ذریعے سے علاقے میں تعلیم ، صحت ، پینے کے صاف پانی ، سنیٹیشن اور دیگر انفراسٹرکچر کی تعمیر میں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں ۔نیز سیلاب اور زلزلے کے دوران متاثرہ سڑکوں ، آبپاشی و آبنوشی سکیموں کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ۔ جس کی وجہ سے مسلم اور کالاش کمیونٹی کے افراد اس کی بلا امتیاز خد مات پر اُن کے گرویدہ ہو گئے ۔ وزیر زادہ پاکستان تحریک انصاف سے بہت عرصے سے وابستہ تھے ۔ 2013میں تحریک انصاف کے قائد عمران کی طرف سے صوبائی اقلیتی نشست اُسے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ لیکن نامعلوم وجوہات کی بناپر وہ نامزد ہونے سے محروم رہا ۔ جس کا ازالہ حالیہ الیکشن 2018 میں کیا گیا ۔ اور وزیر زادہ کو پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے اقلیتی نشست کیلئے دوسرے نمبر پر نامزد کیا گیا ۔ خوش قسمتی سے پاکستان تحریک انصاف کو الیکشن میں غیر معمولی کامیابی ملی ۔ اور ہدف سے بھی زیادہ سیٹ ملنے پر وزیر زادہ صوبہ خیبر پختونخوا کے اقلیتی رکن اسمبلی منتخب ہوئے ۔ وزیر زادہ میں عوامی خدمت ، دیانتداری اور اعلی پارلیمنٹیرین کی تمام خصوصیات موجود ہیں ۔ اور مجھے امید ہے ۔ کہ اگر وہ اپنے یہ اوصاف برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ۔ تو اُن کے درخشان مستقبل کو اُن سے کوئی نہیں چھین سکتا ۔ شاعر مشرق نے اسی لئے فرمایا تھا ۔

محبت مجھے اُن جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند