Chitral Times

Sep 20, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • خود کُشی کا امتحان……….. محکم الدین ایونی

    August 10, 2018 at 9:51 pm

    چترال جو شرافت ، امن، ہم آہنگی اور بھائی چارے کی وجہ سے نیک نامی میں شہرت رکھتا ہے ۔ وہاں گذشتہ چند سالوں سے نوجوان طبقے میں بڑھتے ہوئے خود کُشی واقعات کی وجہ سے بہت حد بد نام ہو چکا ہے ۔ حالیہ دنوں میں امتحانی خراب نتائج کی بنا پر چھتیس گھنٹوں کے اندر چار طالب علموں کی خود کُشی نے ضلع کے تمام لوگوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ۔ ہر آنکھ اشکبار ہے ۔ کسی کو کچھ سمجھائی نہیں دے رہا ۔ کہ ان بچوں کو آخر ہو کیا گیا ہے ۔ امتحان پہلے بھی ہوتے رہے ہیں ۔ لیکن طالب علموں کی اس قسم کی سنگین حرکت پر اتر آنا شاید ہی کہیں سنا گیا ہو ۔ چترال تورکہو کے بالائی گاؤں ریچ کی اٹھارہ سالہ صالحہ دختر رحمت نذیر ، موغ گرم چشمہ کی صفورہ بی بی دختر روزیمان نے تواپنی زندگی کا چراغ گُل کرنے کیلئے نہایت آسان راستہ چُن لیا ۔ اور دریائے تورکہو ،و دریائے لٹکوہ میں چھلانگ لگا کرخود کو بپھرے لہروں کے حوالے کیا ۔ تو کریم آباد شیر شال کے نوجوان ربی الدین نے بارہ بور بندوق سے فائر کرکے زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی ۔ اور فائرنگ کے نتیجے میں اُس کا نچلا جبڑا سمیت چہرے کا بڑا حصہ بُری طرح مسخ ہوا ۔ لیکن شان قدرت کہ ابھی تک زندہ ہے ۔ اور پشاور میں زیر علاج ہے ۔ جبکہ زرگراندہ چترال میں قیام پذیر کھوت تورکہو سے تعلق رکھنے والے نوجوان طالب علم فرید احمد ولد اکبر خان نے ایف ایس سی کے امتحان میں 81فیصد نمبر حاصل کرکے اے ون گریڈ لینے کے باوجود مطمئن نہیں ہوا ۔ اور مزید محنت کرکے شاندار کیریر بنانے کی بجائے پستول کنپٹی پر رکھ کر فائر کرکے ا بدی نیند سو گیا ۔ ان خود کُشیوں کا اثر بونی سے تعلق رکھنے والے چترال سکاؤٹس کے جوان الطاف پر بھی ہوا جو مبینہ طور پر کوشٹ پُل سے دریاء میں کود کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیا ۔ دریا میں چھلانگ لگانے والی طالبات اور چترال سکاؤٹس کے جوان کی تلاش جاری ہے ۔ جس میں مقامی لوگوں کے علاوہ ریسکیو 1122کے غوطہ خور حصہ لے رہے ہیں ۔ طلبہ کے والدین کوا یک طرف بچیوں کے اچانک انتہائی قدم اُٹھانے پر صدمہ پہنچا ہے تو دوسری طرف نعشوں کی تلاش نے صدمے کو مزید ناقابل برداشت بنا دیا ہے ۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں چترال واحد ضلع ہے ۔ جہاں انٹر میڈیٹ کے امتحانات میں نمبر کم آنے یا ایک آدھ مضامین میں فیل ہونے کی بنا پر خود کُشی کے یہ واقعات ہوئے ہیں۔ یہ واقعات اگر ایک طرف چترال کے طلبہ میں تعلیمی حساسیت کو واضح کرتے ہیں ۔ تو دوسری طرف خراب نتائج سے ملنے والے طعنوں سے دل برداشتہ ہوکر خود کُشی کا راستہ اختیار کرنے کی مجبوری بھی عیاں نظر آتا ہے ۔ بد قسمتی سے ہمارے معاشر ے میں اگر کوئی چیز نہایت تیز رفتاری سے ترقی کر رہا ہے ۔ وہ نوجوان نسل میں عدم برداشت ہے ۔ اب نوبت یہاں تک پہنچ گیا ہے ۔ کہ والدین کو اپنے بچوں سے بات کرتے ہوئے خوف آتا ہے ۔ کہ مبادا کسی نصیحت کے رد عمل میں بچہ کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھے ۔ جس کی وجہ سے زندگی بھر پچتانا پڑے ۔ اور مفت میں ناک کٹ جائے ۔ موجودہ وقت میں اگر دیکھا جائے ۔ تو حالات انتہائی طور پر تشویشناک ہیں ۔ چترال کا موجودہ معاشرہ وہ معاشرہ نہیں رہا ۔ جس میں گاؤں کا ہر بڑا اور بزرگ تمام بچوں کو اپنا بچہ سمجھتے تھے ۔ اور کسی کام کے سلسلے میں ٹوکنے پر بچے گاؤں کے بزرگ کا احترام کرتے ہوئے اُس کے سامنے لب کُشائی تک کو معیوب سمجھتے تھے ۔ گھر کے بڑے کی بات ہی کچھ اور تھی ، اُس کے سامنے زبان کھولنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی تھی ۔ اب کیا زمانہ آگیا ۔ دوسروں کو چھوڑیں اپنے بچوں سے سیدھے منہ بات کرنا سب سے مشکل ہو گیا ہے ۔ عدم برداشت اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے ، کوئی بیٹی ماں کی بات سننے کیلئے تیار نہیں اور نہ بیٹا باپ کی فرمانبرداری کیلئے تیار ہے ۔ جدید ٹیکنالوجی نے تمام تقاضے ہی بدل ڈالے ہیں ۔ رات کو جلدی سو کر صبح سویرے اُٹھ کر کام کاج کیلئے تیاری کرنے والے لوگوں کیلئے ماحول بالکل انجانا لگتا ہے ۔ بیٹے بیٹیاں جو سکول و کالج سے فارغ ہیں دس گیارہ بجے صبح اُٹھنے کیلئے تیار نہیں ۔ کیونکہ رات کو ٹی وی ڈرامے اور بقیہ موبائل میں صرف کرنے کے بعد سونے کیلئے رات کہاں بچ جاتا ہے ۔ مجبورا یہ کمی دن کو تو پوری کرنی ہی ہے ۔ سو یہ سلسلہ جاری ہے ۔ اس معاشرتی ناہمواری کی وجہ سے گھریلو ماحول میں بہت خلا پیدا ہوا ہے ۔ بچے والدین سے چوری چھپے وقت گزارنے کے عادی ہوگئے ہیں ۔ذاتی اگر کوئی مسئلہ کسی بھی نوعیت کا درپیش ہے ۔ تو بچے اُس کا اظہار گھر میں نہیں کرتے ۔ اور اگر کرتے بھی ہیں ، تو اپنی مرضی کی بات منوانے پر مصر رہتے ہیں ۔ نتائج کی کوئی پروا ہ نہیں ۔ جتنی سمجھاؤ، اپنی بات کو پتھر پر لکیر کے طور پر پیش کرتے ہیں ، اور والدین کی طرف سے نہ ماننے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ۔ جس میں اپنی جان ختم کرکے انتقام لینے کا قبیح فعل بھی شامل ہے ۔ گویا ایک ایسا معاشرہ تشکیل پا گیا ہے ۔ جس میں وسائل والے اور کم وسائل والے سب پریشان ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے ۔ کہ چترال کے نوجوان نسل میں بڑھتا ہواعدم برداشت اوراس کے نتیجے میں رونما ہونے والے خود کُشی کے واقعات کے تدارک کیلئے اجتماعی سوچ کو پروان چڑھایا جائے ۔ اور عملی اقدامات اُٹھائے جائیں ۔ خصوصا تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات کی ذہن سازی کی اشد ضرورت ہے ۔ورنہ ماحول مزید بد تر ہونے کا خطرہ ہے ۔

  • error: Content is protected !!