- Chitral Times - https://chitraltimes.com - Chitral Times

100دنوں کا پلان ……….محمد شریف شکیب

پاکستان تحریک انصاف نے وفاقی حکومت کی تشکیل کے بعد ابتدائی 100دنوں کے ایجنڈے کا اعلان کردیا ہے۔ جس کے تحت معیشت کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات،زراعت کا فروغ، نچلی سطح پر عوام کو بااختیار بنانا،غریبوں کو سرچھپانے کے لئے گھروں کی فراہمی،خواتین کے حقوق کا تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو پاناشامل ہیں۔ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کو دو تہائی اکثریت حاصل ہوگئی ہے تاہم وزیراعلیٰ اور صوبائی وزراء کی تقرری کا ابھی اعلان نہیں ہوا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی نے محکمہ بلدیات خیبر پختونخوا کے لئے 100دن کا پلان تیار کرلیا ہے۔جس کے تحت بلدیات کے تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلیاں لائی جائیں گی۔ بلدیات اور منسلک اداروں کی ازسرنو تشکیل ہوگی،ساتوں ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنیوں، ٹی ایم ایز اور ترقیاتی اتھارٹیز کے اشتراک سے صفائی مہم چلائی جائے گی تمام شہروں میں دس لاکھ پودے لگائے جائیں گے۔ گلیوں کی فرش بندی، نالیوں کی تعمیر اور سڑکوں کی مرمت شروع کی جائے گی۔ پائپ لائنیں تبدیل کی جائیں گی مقامی حکومتوں کو فنڈز کی ترسیل شفاف بنائی جائے گی۔ اور بلدیاتی اداروں کی استعداد بڑھانے کے لئے خصوصی پروگرام شروع کئے جائیں گے۔ بڑے شہروں میں بیوٹی فیکیشن پراجیکٹ شروع کئے جائیں گے۔ منصوبے کے تحت سو دنوں کے اندر ترقیاتی منصوبوں پر کم از کم بیس فیصد کام مکمل کیا جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف نے تبدیلی کے نعرے کی وجہ سے انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کی ہے۔ لوگ وی آئی پی کلچر، سفارش، رشوت اور کرپشن اور جاگیر دارانہ و سرمایہ دارانہ نظام سے بیزار ہوچکے ہیں۔ وہ بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی چاہتے ہیں ۔اگر خدانخواستہ پی ٹی آئی عوام کو نظر آنے والی تبدیلی لانے میں ناکام ہوگئی تو عوام کا سیاسی نظام پر سے اعتبار اٹھ جائے گا۔ جس سے نہ صرف جمہوری نظام بلکہ اداروں کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ابتدائی سو دنوں کا جو پلان پی ٹی آئی نے دیا ہے۔ وہ خوش آئند ہونے کے ساتھ کافی مشکل بھی ہے۔ اگر ہم پشاور شہر کی بات کریں تو یہاں آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں۔ نالیاں غلاظت گاہوں میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ پینے کے پانی کی پائپ لائنیں اکثر مقامات پر نالیوں سے گذرتی ہیں زنگ آلود پائپ پھٹنے کی وجہ سے نہ صرف پانی ضائع ہورہا ہے بلکہ نالیوں کا زہریلا پانی شامل ہونے سے پینے کا پانی آلودہ اور بدبودارہوجاتا ہے۔ یہی آلودہ پانی استعمال کرنے سے یرقان ، پیٹ کے امراض اور دیگر مہلک بیماریاں پیدا ہورہی ہیں۔ شہر کی ہر گلی میں جہاں خالی جگہ ملتی ہے۔ کوڑا کرکٹ وہاں ڈالا جاتا ہے ۔ ہفتوں تک گندگی پڑی رہنے کے باعث تعفن پھیل جاتا ہے۔ بارش کا پانی سڑکوں، گلیوں اور کھلے مقامات پر ہفتوں پڑا رہتا ہے۔ جس میں مچھروں کی افزائش ہوتی ہے۔پھل، سبزیوں اور مال مویشیوں کی منڈیوں میں صفائی کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہہ ہے۔ سیوریج کے ناقص نظام کی وجہ سے شہر کے اکثر گنجان آباد علاقوں میں گھروں کے باہر گلیوں کے اطراف میں گندے نالیاں بنائی گئی ہیں۔ تھوڑی سی بارش میں یہ گندگی گلیوں میں پھیل جاتی ہے اور گھروں میں بھی داخل ہوتی ہے۔تجاوزات کی بھر ما ر ہے جس کی وجہ سے اکثر و بیشتر ٹریفک کا بہاو بھی متاثر ہوتا ہے۔ اگر پی ٹی آئی اپنے ابتدائی سو دنوں میں صرف صحت و صفائی پر ہی توجہ مرکوز کرے اور لوگوں میں حفظان صحت سے متعلق شعور اجاگر کرنے کی کوشش کرے تو یہی اہم کامیابی ہوگی۔ تحریک انصاف کے پاس خیبر پختونخوا میں پانچ سال اقتدار میں رہنے کا تجربہ ہے۔ اسے صوبے کے مسائل اور عوام کی امنگوں اور خواہشات کا بخوبی اندازہ ہوچکا ہے۔ پی ٹی آئی کو اپنی سابقہ حکومت کی کوتاہیوں کو دور کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی اور ایسے منصوبوں کا اعلان کرنے سے گریز کرنا چاہئے جن کی مقررہ مدت کے اندرتکمیل ممکن نہ ہو۔سابقہ حکومت نے اضلاع اور تحصیلیں بنانے ، ڈیم تعمیر کرنے ، بجلی گھر بنا کر توانائی میں خود کفالت حاصل کرنے ، ایک ارب درخت لگانے سمیت بہت سے ایسے اعلانات کئے تھے۔ جو وقت پر مکمل نہیں ہوسکے۔ جس کا پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر نقصان بھی اٹھانا پڑا۔اب مزید غلطیوں کی گنجائش نہیں ہے اس لئے ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا ہوگا۔