- Chitral Times - https://chitraltimes.com - Chitral Times

عام انتخابات اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کا حصار…… پیامبر ……. قادر خان یوسف زئی

2018 کے انتخابات تمام تر خدشات، تحفظات اور امکانات کے ساتھ اختتام پذیر ہوئے۔ الیکشن نے کئی ایسے سوالات کو جنم دیا، جن کے جواب ہمیں ’’تاریخ‘‘ دے گی۔ اس وقت ان سوالوں کے جوابات حاصل کرنے کی سعی قبل ازوقت ہے۔ اب ایسا بھی نہیں کہ ان کے جوابات تلاش نہ کیے جائیں یا انہیں مکمل طور پر نظرانداز کردیا جائے۔ انتخابات جس ماحول میں کرائے گئے، اس پر اٹھنے والے تمام سوالات کا سب سے مضر پہلو، عوام کا ریاستی اداروں پر عدم اعتماد میں اضافہ ہے۔ اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ماضی میں بننے والی تمام حکومتوں میں عالمی اسٹیبلشمنٹ دخل اندازی کرتی رہی ہے۔ حالیہ انتخابات میں بھی عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ملوث ہونے کے امکانات اظہر من الشمس ہیں، کیونکہ یہ امر قابل غور ہے کہ مخصوص جماعت کو اقتدار دلاتے وقت اس کے ہاتھ پیر بھی باندھ دیے ہیں جس کی وجہ سے ان کا سیاسی سمندر میں تیرنا آسان نہیں اور جب تک ’’سب ٹھیک‘‘ اور ’’مینڈیٹ‘‘ ہے، کی گردان چلتی رہے گی، اُس وقت تک مرکز میں اقتدار قائم رہے گا۔
غیر سیاسی قوتوں نے جمہوریت کے نام پر کئی تجربے کیے، لیکن پاکستان کو مضبوط سیاسی بنیاد فراہم نہیں کی۔ اب سوال یہ نہیں کہ نمبر گیم میں آزاد امیدواروں نے اپنے ووٹ کس کے کھاتے میں ڈالے یا ماضی کے سیاسی دشمن، چور و ڈاکو ایک دم پاک و شفاف کیوں ہوگئے۔ سوال یہ بھی نہیں کہ اقتدار کے لیے جو نعرہ جس جماعت نے لگایا، کیا وہ اس پر پورا اترے گی یا نہیں۔ جو منشور کسی سیاسی جماعت نے دیا، اس کو کس طرح پورا کیا جائے گا۔ جمہوریت تو نام ہی ’’نمبر گیم‘‘ کا ہے۔ اس لیے ہم اس کا رونا بار بار کیوں روتے رہیں کہ کس نے اپنا ضمیر کس قیمت پر فروخت کیا۔ سینیٹ میں ہارس ٹریڈنگ کی بدترین مثالوں کے بعد ایک مرتبہ پھر جس طرح اراکین اسمبلی کی خرید و فروخت ہوئی ہے۔ اس کے بعد کروڑوں عوام کا اعتماد سیاست، جمہوریت و بعض اداروں سے اٹھتا جارہا ہے۔ یہ رجحان مثبت نہیں کہ ہم اپنے اداروں پر اعتماد نہ کریں، لیکن اس کی ذمے داری بھی ریاست کے مقتدر اداروں پر ہی عائد ہوتی ہے کہ اگر عوام کا اعتماد ان سے اٹھ رہا ہے تو اس کی بنیادی وجہ کیا ہے۔ ایسا تو نہیں کہ کسی ادارے نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہو؟
عام انتخابات کے ایک اہم پہلو کی جانب نشان دہی کرنا ضروری خیال کرتا ہوں۔ پاکستان پر مذہبی انتہا پسندی و شدت پسند رجحان کے الزامات عالمی اسٹیبلشمنٹ عائد کرتی رہتی ہے، لیکن عوام کے مذہب کی جانب قلبی رجحان کے باوجود دینی جماعتوں کے اتحاد کو اقتدار کی شراکت میں اہم کردار نہ ملنا، عالمی برادری کے لیے ایک جواب ہے کہ اگر پاکستان میں شدت پسندی عام رجحان ہوتا تو مذہبی جماعتوں کے اتحاد کی کامیابی کو روکنا کسی بھی اسٹیبلشمنٹ کے بس کی بات نہ ہوتی۔ مظاہروں و احتجاج کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے لیکن یہ ایک جمہوری عمل ہے، جس کا مذہبی شدت پسندی سے کوئی تعلق نہیں۔ عام انتخابات میں مذہبی ووٹ تقسیم ہوا یا تقسیم کرایا گیا، اس پر بھی مثبت بحث کو آگے بڑھانا ضروری ہوگا، کیونکہ مذہبی ووٹ کی تقسیم سے بلاشبہ عام انتخابات میں دینی جماعتوں کے ووٹ بینک کو نقصان ہوا ہے، لیکن مسلکی بنیادوں پر جس طرح ووٹ کو تقسیم کیا ہے، اس کامستقبل میں کردار و خدوخال کا جائزہ ضرور لینا ہوگا۔ متحدہ مجلس عمل میں قریباً ہر مسلک کی موجودگی عوام کے لیے نئی نہیں تھی، لیکن مسلکی بنیادوں پر تحریک اللہ اکبر اور تحریک لبیک نے جس طرح عام انتخابات میں سرپرائز دیا ہے وہ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر ان مسلکی ووٹوں کو ’شدت پسند رجحان‘ میں اضافے سے تعبیر کیا جارہا ہے اور اس امکان کا اظہار کیا جارہا ہے کہ اگر مذہبی جماعتوں کے اتحاد مسلکی طور پر اسی طرح آگے بڑھتے گئے تو سیاسی خلا کو یہ مسلکی جماعتیں پُر کردیں گی۔
درحقیقت اس وقت عام انتخابات میں ایک بہت بڑا سیاسی خلا پیدا ہوچکا ہے، جس کو پُر کرنے کے لیے عالمی اسٹیبلشمنٹ کے پاس مربوط منصوبہ نہیں ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کا کردار محدود ہونے سے قومی سیاست میں یک جماعتی فارمولے کا ملک متحمل نہیں ہوسکتا۔ موجودہ صورت حال یہ ہوچکی ہے کہ قومی سیاست کے اس خلا کو مذہبی ومسلکی جماعتوں کے ووٹ سے پُر کرنے کی کوشش کی گئی۔ عوام کو پاکستان تحریک انصاف کے بعد دوسرا بڑا سیاسی آپشن نہیں دیا گیا۔ تحریک انصاف خیبر پختونخوا، مسلم لیگ(ن) پنجاب اور پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کی جماعت بن چکی ہے جب کہ بلوچستان میں سیاسی صورتحال ماضی کی روایات کو بڑھا رہی ہے۔ تحریک انصاف کواس وقت واحد ایسی قومی جماعت کا درجہ ضرور حاصل ہے جو بیک وقت چاروں صوبوں میں نمائندگی رکھتی ہے، لیکن جس طرح انہیں نمائندگی ملی، اس پر سیاسی جماعتوں کے احتجاج نے انتخابات کو متنازع بنادیا ہے۔ لاکھ کہلوایا جائے کہ انتخابات متنازع نہیں ہیں۔ یہ شکست خوردہ جماعتوں کا واویلا ہے لیکن جب کوئی سیاسی جماعت، انتخابات کی شفافیت پر احتجاج کرتی ہے تو انتخابات متنازع ہی کہلائے جاتے ہیں۔ یہاں ماسوائے تحریک انصاف کے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے عام انتخابات کو متنازع قرار دیا ہے۔
تحریک انصاف کو اقتدار کے لیے جس طرح بھی مینڈیٹ ملا، اسے تسلیم کیے بنا کوئی دوسرا چارہ بھی نہیں۔ اس وقت اگر اسے اقتدار سے ہٹایا جاتا ہے یا انہیں بھی کام نہیں کرنے دیا جاتا تو پاکستان میں سیاسی انتشار و انارکی عالمی اسٹیبلشمنٹ کی خواہشات کو پورا کریں گے۔ اگر گرینڈ اپوزیشن الائنس ’’کرسی گیم‘‘ میں تحریک انصاف کی سیاست کو اپناکر وہی عمل جاری وساری رکھتا ہے جو عمران خان گذشتہ حکومت کے خلاف روا رکھے ہوئے تھے تو یہ بھی ملک و قوم کے لیے نقصان کا سبب بنے گا۔ اگر اقتدار کی تبدیلیوں میں غیر مرئی قوتوں اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کی دخل اندازی کو نظرانداز کردیا جائے تو پاکستان کبھی بھی اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہوسکے گا۔ اس وقت ملک کی سیاسی صورت حال اس قدر گنجلک ہوگئی ہے کہ اس کا حل اُن قوتوں کے پاس بھی نہیں ہے جن کے اشاروں پر حکومتیں بنتی اور گرتی رہی ہیں۔ میں ذاتی طور پر عام انتخابات کو متنازع، انجینئرڈ اور غیر شفاف سمجھنے کے باوجود تحریک انصاف کو اپنے منشور کے مطابق کام کرنے کے مواقع دینے کے حق میں ہوں۔ اپنے تمام تر تحفظات و خدشات کے باوجود ذاتی طور پریہ سمجھتا ہوں کہ تحریک انصاف کو موقع دیا جائے کہ وہ سو روزہ پلان اور بلند بانگ دعووں کو پورا کرنے کے لیے کسی سیاسی بحران کو جواز نہ بناسکے۔
عمران خان کے سو دن کے پلان میں ملکی سلامتی، خودمختار نیب، لوٹی دولت کی واپسی، غیر سیاسی پولیس، جوڈیشل ریفارمز، ٹیکس اصلاحات، ہیلتھ، ایگریکلچر اور ایجوکیشن سیکٹر میں ایمرجنسی کے نفاذ، جنوبی پنجاب کے قیام کے علاوہ ، ایک کروڑ نوکریاں، پچاس لاکھ مکانات کی تعمیر وغیرہ شامل ہے۔ ان اصلاحات کے ٹائم فریم تک سیاسی جماعتوں کو صبر و تحمل اختیار کرنا چاہیے۔ تحریک انصاف اگر اپنے انتخابی وعدوں پر عمل نہیں کرپاتی تو اس وقت سیاسی جماعتوں کے پاس عمران خان کے خلاف احتجاج کا اخلاقی جواز موجود ہوگا کہ پاکستان تحریک انصاف عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہ کرسکی۔
اس وقت پاکستان دوبارہ نئے انتخابات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ پارلیمانی نظام کو لپیٹا بھی نہیں جاسکتا۔ ٹیکنو کریٹ حکومت عوام کو جواب دہ نہیں ہوتی۔ قومی حکومت واحد آپشن ہے جو تمام سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے مل کر حکومت بنانے سے پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کا واحد حل ہے۔ لیکن جمہوری نظام پر یقین رکھنے والوں کو پاکستان تحریک انصاف کو اس کی تمام خامیوں کے باوجود موقع دینا ہوگا، تاکہ عوام کو تین برسوں (یا 22 برسوں) سے جو خواب دکھائے جارہے تھے، اس کی تعبیر بھی اسی جماعت کے ہاتھوں سامنے آسکے۔ اس وقت کسی واضح امکانات پر قیاس آرائیاں کرنے کا وقت نہیں بلکہ پاکستان کو عالمی سازشوں سے بچانے کے لیے تدبر کا وقت ہے۔ ماضی میں تمام حکومتیں کسی نہ کسی ادارے یا عالمی اسٹیبلشمنٹ کی منظور نظر رہی ہیں۔ اس لیے تحریک انصاف نے بھی اسی راستے کو اپنایا ہے تو پھر ہمیں اس گرداب سے نکلنے کے لیے انتظار کرنا ہوگا۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے حصار میں اس وقت وطن عزیز ہے۔ اس حصار کو توڑنے کے لیے طویل و دوررس پالیسیوں کی ضرورت ہے، کیونکہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے حصار کو کوئی ایک جماعت نہیں توڑ سکتی۔ پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو عالمی اسٹیبلشمنٹ کی پیدا کردہ صورت حال کا حل سیاسی طور پر ہی نکالنا ہوگا، کیونکہ یہی ہم سب کے حق میں بہتر ہے۔