Chitral Times

Dec 11, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • سیاسی مہم جوئی سے گریز……….. محمد شریف شکیب

    July 28, 2018 at 8:45 pm

    اپوزیشن جماعتوں نے قومی اسمبلی کا حلف نہ اٹھانے ، انتخابی نتائج مسترد کرنے اور احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ متحدہ مجلس عمل کی طرف سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں کیا گیا۔پارلیمنٹ کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے حلف نہ اٹھانے سے متعلق پارٹی سے مشاورت کے بعد فیصلہ کرنے کا عندیہ دیا۔جن رہنماوں نے حلف نہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے ان میں مولانا فضل الرحمان، میر حاصل بزنجو، محمود خان اچکزئی، اسفندیار ولی، آفتاب شیر پاو، فاروق ستار اور مصطفی کمال شامل تھے ۔دلچسپ امر یہ ہے کہ حلف نہ اٹھانے کا عہد کرنے والے تمام لیڈر انتخابات میں خود شکست کھا چکے ہیں۔ جب وہ پارلیمنٹ کے ممبر ہی نہیں بنے تو حلف اٹھانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔جبکہ تیسری بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے حلف نہ اٹھانے کے فیصلے سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جمہوری فورم کو چھوڑنے سے گریز کریں اور پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کریں۔بلاول کا موقف ہے کہ اگرچہ وہ انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کرتے۔انتخابات شفاف ، منصفانہ اور غیر جانبدارنہ نہیں تھے۔ لیکن ایک جمہوری پارٹی کے سربراہ ہونے کے ناطے وہ جمہوری عمل کو ڈی ریل نہیں کرنا چاہتے۔ اسمبلی جاکر حزب اختلاف کا کردار موثر انداز میں ادا کریں گے۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں کی طرف سے احتجاجی سیاست سے معذرت کے بعد دیگر جماعتوں کو بھی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ محاذ آرائی کی سیاست سے گریز اس لئے بھی ضروری ہے کہ ملک اس وقت کسی سیاسی بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا۔بلاول بھٹو زرداری کی سیاست میں پہلی انٹری ہے۔ انہوں نے ملک بھر میں پارٹی کی انتخابی مہم بھرپور انداز میں چلائی ۔میڈیا، تجزیہ کاروں اور سیاسی مبصرین نے بلاول کے انداز سیاست اور ذہنی پختگی کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی گالم گلوچ، دشنام طرازی، طعنہ زنی، الزام تراشی اور غیر اخلاقی و غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے سے گریز کیا۔ صرف اپنی پارٹی کا منشور عوام کے سامنے رکھا۔ جو بلاشبہ قابل تعریف اور قابل تقلید ہے۔2018کے انتخابات پاکستان کی 71سالہ سیاسی و جمہوری تاریخ میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہونے والے نویں انتخابات تھے۔ اب تک کسی بھی انتخابات کے نتائج کو تمام جماعتوں نے تسلیم نہیں کیا۔ہر بار ہارنے والوں نے دھاندلی کے الزامات لگائے۔ اور جب بھی احتجاج ، ہڑتال، توڑ پھوڑ اوردھرنوں اور ریلیوں کا راستہ اختیار کیا گیا۔ اس کا نقصان ملک اور جمہوریت کو ہی پہنچا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں انتخابی نتائج کو منسوخ قرار دے کر از سر نو انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔انہیں شاید اس حقیقت کا علم نہیں کہ حالیہ انتخابات پاکستان کو 440ارب روپے میں پڑے ہیں۔ جن میں قومی و صوبائی اسمبلی کے لئے انتخابی مواد کی تیاری، سیکورٹی انتظامات اور عملہ کو ادائیگیوں سمیت الیکشن کمیشن کے مجموعی اخراجات کے ساتھ سیاسی جماعتوں ، امیدواروں اور ان کے سپورٹرز کے ہاتھوں ہونے والے اخراجات شامل ہیں۔ ملکی معیشت فوری طور پرمزید ساڑھے چار سو ارب روپے کے اخراجات کی متحمل نہیں ہوسکتی۔چھوٹی اپوزیشن جماعتوں کواپنے سیاسی مفادات کے لئے قوم کو کسی بڑے امتحان میں ڈالنے سے گریز کی پالیسی اختیار کرنی چاہئے۔جس پارٹی کو عوامی مینڈیٹ ملا ہے۔ اس کا احترام کیا جائے اور اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی کو اپنے منشور پر عمل کرنے کا موقع دینا چاہئے۔ اگر وہ عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام ہوگئی تو پانچ سال بعد عوام خود اس کا محاسبہ کریں گے۔دھاندلی اور بے قاعدگی کے الزامات سے قطع نظرمسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو اپنی پالیسیوں میں کوتاہی کی وجہ سے شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔اگر وہ پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں موجود رہنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنا طرز عمل اور انداز سیاست بدلنا ہوگا۔عوامی سیاست کا انداز اپنانا ہوگا۔ وی آئی پی کلچر سے کنارہ کرنا ہوگا۔پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے اور جمہوریت سیاسی جماعتوں کے بغیر نہیں چل سکتی۔ سیاسی پارٹیوں کو جمہوریت کے سانچے میں ڈھال کر ہی ملک کو جمہوری استحکام کی منزل سے ہمکنار کیا جاسکتا ہے۔

  • error: Content is protected !!