Chitral Times

Sep 23, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ادیب کامخفی انتخابی منشور…….. آرمان علی ریشن

    July 23, 2018 at 8:35 pm

    میں کافی دنوں سے ان کے ہاتھ لگنے سے گریز میں مبتلا تھا۔ کوشش تقریبا یہی کررہا تھا کہ انتخابات کے اختتام تک ان سے نہ ملا جائے۔ کیونکہ وہ ایک ادیب ہیں اور ادیب کا الیکشن لڑنا کچھ انہونی سی لگتی ہے۔مذکورہ دن بھی وہ ہم سے بے خبراپنی خیالوں میں گم محو سفر ہی تو تھا،اس دن بھی وہ خالصتا ادیب ہی لگے، پرانے مگر اجلے اور بے داغ پوشاک، چہرے کی سنجیدگی، پرسکون آنکھیں، ہونٹوں پر خاموش سی مسکراہٹ اور ہاتھ میں پکڑے گولڈ لیف کے پیکٹ پر نرم پکڑ،کہیں سے بھی تو نہیں لگ رہا تھا کہ وہ الیکشن لڑنے جا رہا ہے۔ حالانکہ کئی دن سے وہ میری تلاش میں تھا اور میں جان بوجھ کر ان کے ہاتھ آنے سے اپنے آپ کو روک رہا تھا۔بازار کی گہماگہمی میں، میں عموماً فٹ پاٹ پر بیٹھ کر لوگوں کے چہرے پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔آج بھی اسی شغل میں مصروف تھے جب وہ نظر آئے، ہم خود کو روک نہیں پائے ان کو آواز دی۔چہرے پر ایک مخصوص مسکراہٹ پھیل گئی۔ اپنے جملوں کی طرح خراماں خراماں چلتے ہوئے ہمارے پاس آئے۔ گلے ملے تو مخصوص پرفیوم کی خوشبو ہمارے چار سو پھیل گیاہم ان کے سحر میں گرفتار ہونے سے اپنے آپ کو بچانے میں لگے ہی تھے کہ وہ بھی ہمارے ساتھ فٹ پاتھ پر ہی بیٹھ گئے۔
    ہمارا سوال یہی تھا کہ مخفیؔ صاحب! فقیروں کی سلطنت اور بادشاہوں کی سلطنت میں فرق ہوتا ہے۔ تاریخ کا کوئی ایک ورق ہی دیکھا دیں جہاں دنیا میں کہیں کسی فقیر نے بادشاہت کی غرض سے کسی ملک پر یا علاقے پر حملہ کیا ہو۔ یا کسی بادشاہ کے مقابلے پر آیا ہوتاکہ سلطنت حاصل کرکے رعایا پر روا رکھے گئے ظلم کا حساب لے سکے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اپنی تحریروں سے فقیر لوگ بادشاہوں کو سب کچھ یاد دلاتے ہیں ان کی سلطنت اور امور سلطنت سے ہمیشہ دور بھاگتے ہیں۔آپ کو کیا سوجھی اس حمام میں گھسنے کی کوشش کررہے ہیں جو آپ کے لئے بنا ہی نہیں ہے۔جواب دینے سے پہلے ہم ان کے چہرے پر کوئی لالچ دیکھنا چاہتے تھے، تلاش بسیار کے بعد بھی پرسکون آنکھیں پرسکون ہی رہیں۔ بولے تو بس اتنا کہ یار’’ جوابدہی‘‘ ۔ہمارا استفسار بڑھتا رہا۔ کس کو جواب دینا ہے۔ بولے آنے والی نسلوں کو جواب دینا ہے۔ جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اس معاشرے کے مکینوں کو جواب دینا ہے۔ عقل و خرد سے بیگانہ دو وقت کی روٹی کے لئے سرگرداں انسانوں کو جواب دینا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر ’’جوابدہی‘‘ کا ایک دن مقرر ہے۔ اس دن خالق نے اگر پوچھ لیا کہ میری خوبصورت دنیا اور میرے محبوب انسانوں کی بہتری کے لئے کیا کردار ادا کرکے آئے ہو۔ معاشرے کی بہتری کے لئے کئے گئے کاموں کی کوئی فہرست اس دن مانگی گئی تو وہاں تیاری کے ساتھ جانا چاہتا ہوں۔ خالق کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے اپنی بساط سے بڑھ کر کوشش کی۔ کسی نے ساتھ نہیں دیا تو اس میں میں کیسے سزاوار ہوسکتا ہوں۔
    کرو گے کیاکامیاب ہونے کے لئے یا کامیاب ہونے کے بعد؟ جواب عجیب تھا۔ عمر عزیز اختتام کی جانب گامزن ہے ۔ بچپن سے ابھی تک چترال کی بیٹیوں کو پشاور کے گلی کوچوں میں ذلیل ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ کبھی پشاور انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری بورڈ آفس سے سرٹیفیکٹ کے حصول کے لئے کوشش کرتے ہوئے۔ اور کبھی چٹھیاں گزارنے کے لئے چترال آتے ہوئے گاڑیوں کے حصول کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے۔ انتخابات جیتنے کے لئے کے لئے کیا کرنا ہے یہ نہیں پتہ۔مگر جیتنے کے بعد کیا کرنا ہے۔ وہ سب کچھ پتہ ہے۔ اگر میں چترال کی بیٹیوں کی خاطر چترال میں بورڈ آفس کا قیام یا پشاور کی گلی کوچوں میں ان کو ذلیل ہونے سے نہ بچا سکا تو کم از کم ان کو یہ بتانے کی پوزیشن میں تو آوں گا کہ کس کس نمائندے کو بورڈ آفس کے قیام کے راہ میں روڑے اٹکانے کے لئے یا چپ رہنے کے لئے کیا قیمت دی جاتی ہے۔ یا پھر گلی کوچوں میں اپنی بیٹیوں کو ذلیل کرنے کے عوض مجھے کیا آفر کی جاتی ہے اس سے چترالی لوگوں کو آگاہ کروں گا۔
    یہ امیدوار سعادت حسین مخفی ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ ان کو چترال کی لوگ صوبائی سطح پر ناروا سلوک سے بچنے کے لئے ہر نظریے، ہر رشتے اور تمام مفادات سے بالاتر ہو کر ضرورووٹ دیں گے۔ ان کے دعوی کیا انجام ہوتا ہے وہ تو 25 جولائی کو ہی پتہ چلے گا۔مگرمخفیؔ اسی بے نیازی سے فٹ پاتھ سے اٹھنے لگے ہمیں پکڑ کر اٹھایا۔ گرم جوشی سے گلے ملے۔ اور اسی پرسکون انداز سے ہجوم میں گھوم ہوگئے۔

  • error: Content is protected !!