Chitral Times

Nov 22, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • وہ ورلڈ کپ نہ ہی لیتے تو بہتر تھا………. تحریر: شراف الدین فریاد ؔ

    July 22, 2018 at 9:36 pm

    ……………………………………………………………………………………………………….ادارےکا مراسلہ نگارکی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں!
    قارئین کرام کو معلوم ہے کہ موصوف نے گزشتہ 10جولائی 2018 ؁ء کے شمارے میں ” ایک کپ چائے اور کروڑوں کی کرپشن ” کے عنوان سے جو مضمون ملک کے ممتاز سینئر صحافی سلیم صافی کے پروگرام ” جرگہ ” کا حوالہ دیتے ہوئے تحریر کیا تھا۔ بہت سے دوستوں نے پسند اور بعض دوستوں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پیغامات بھیجے ۔ الیکٹرانک میڈیا کی بریکنگ نیوز کے مطابق پتہ چلا ہے کہ خیبر پختونخواہ کی نگران حکومت نے اسی ” ایک کپ چائے ” کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے نیب کو حکم دیا ہے کہ اس کی تحقیقات کی جائے ۔ یہ حکم میڈیامیں شائع ہونے والی رپورٹس کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ پھر اسی روز ہی پشاور ہائی کورٹ کا ایک فیصلہ بھی سامنے آگیا جس میں پشاور میٹروبس منصوبے میں سنگین کرپشن کی شبہات ظاہر کرتے ہوئے نیب کو حکم دیا گیا ہے کہ اس اہم منصوبے میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرکے 5اگست 2018 ؁ء تک عدالت عالیہ کو رپورٹ پیش کی جائے ۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے سینئر تجزیہ کار کامران خان کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک نے 6 ماہ کی کم مدت اور کم لاگت میں مذکورہ میٹرو بس منصوبہ مکمل کرنے کا دعویٰ کیا تھا ۔ یعنی سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا لاہور میٹرو بس منصوبہ جو 29 ارب روپے کی لاگت سے بنا ہے تو پشاور میٹرو کا منصوبہ 14 ارب روپے میں بنانے کا اعلان کیا گیا ۔ حالانکہ اس سے قبل عمران خان پنجاب کے میٹرو بس منصوبوں کو جنگلا بس منصوبہ قرار دے رہے تھے جس میں اچانک یوٹرن لیاگیا اور پشاور میٹروبس شروع کردیا گیا ۔ لیکن اب ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے مذکورہ منصوبہ مکمل نہ ہوسکا اور 68 ارب لاگت آنے کے باوجود دور تک اس منصوبے کے مکمل ہونے کے آثار بھی دکھائی نہیں دے رہے ہیں ۔ نجی ٹی وی کے سینئر صحافی شاہ زیب خانزادہ کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے اس منصوبے کی لاگت میں اضافے کی تمام تر ذمہ داری ایشین ڈیولپمنٹ بنک پر ڈال دیا ہے ۔ کیا اس سے وہ خود بری الذمہ ہوسکتے ہیں ۔۔۔؟ آج پورا پشاور شہر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے اب سوال یہ پید ہوتا ہے کہ کیا نیب حکام عدالت عالیہ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے اسی تیز رفتاری سے ان معاملات کی تحقیقات مکمل کریں گے جیسے سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کے خلاف لگنے والے الزامات پر کئے گئے تھے یا پھر حسب روایت تحقیقات کا یہ عمل سست روی کا شکار ہوگا۔۔۔؟اس حوالے سے پی ٹی آئی کے بعض دوستوں سے میری بحث بھی ہوئی ان کا کہنا ہے کہ عمران خان ہو یا پرویز خٹک دونوں کا دامن صاف ہے اور ان کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں ہے ۔ ایک دوست نے یہاں تک کہا کہ عدالت عظمیٰ سے امین و صادق کا سرٹفیکٹ ملنے کے بعد اب کوئی بھی عمران خان پر انگلی نہیں اُٹھا سکتا اور یہ وہ عظیم شخصیت ہیں جس نے پاکستان کو ورلڈ کپ دیا ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ بھائی ورلڈ کپ بڑا ہے یا ایٹم بم ۔۔۔۔؟ جواب ملا کہ ایٹم بم تو ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا تھا ۔ پھر میں نے سوال پوچھا کہ اس زوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ہم نے کیا سلوک کیا ۔۔۔؟بے شک وہ ایٹم بم کا موجد تھالیکن بھارت کے5 ایٹمی دھماکوں کا جواب6 ایٹمی دھماکوں سے کس نے دیا۔۔۔؟اور اس جرات کا مظاہر کرنے والا آج کہاں ہے۔۔۔؟ جواب ملا کہ اڈیالہ جیل میں ۔۔۔! ہاں جی وہ بھی اپنی جواں سال بیٹی اور داماد کے ساتھ ۔۔۔! اور ہم اپنے قومی ہیروز کیساتھ یہ کیا کھیل کھیل رہے ہیں ۔۔۔؟ پھر اس دوست نے سلیم صافی صاحب کو بھی برا بھلا کہنا شروع کیا تو میں نے کہا کہ بھائی سلیم صافی صاحب نے تو ایک کپ چائے کے تمام بلات کے ثبوت ٹی وی سکرین پر دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ (سلیم صافی) سی ایم ہاؤس پشاور پرویز خٹک کے مہمان بن کر گئے تھے جہاں ان کو ایک کپ چائے پیش کی گئی جس کا سرکاری بل ایک لاکھ 80ہزار 152 روپے دکھایا گیا ہے ۔ اسی طرح سلیم صافی صاحب نے تین سالوں کا ریکارڈ نکالا تو معلوم ہوا کہ صرف ایک یا دو کپ چائے پیش کرنے کا مجموعی بل 20 کروڑ 47 لاکھ روپے ظاہر کرکے قومی خزانے کو ٹیکہ لگایا گیا ہے ۔ نیا پاکستان کا واویلا کرنے والے یہی لوگ مہمانوں کے لیے پیش کی گئی ایک یا دو کپ چائے کی مد میں اس حد تک کرپشن کرسکتے ہیں تو دوپہر اور رات کے کھانوں کے اخراجات تو شاید اربوں میں ہوں گے۔ کیا اس طرح کی جاتی ہے قوم کی خدمت ۔۔۔؟ سلیم صافی صاحب غلط سہی اور اس نے یہ سب بدنیتی کی بنیاد پر کیا ہوگا تو پھر عمران خان کو عدالت میں ہرجانے کادعویٰ کرلینا چاہیے ، کیوں نہیں جاتے ہیں عدالت۔۔۔؟ ہم مانتے ہیں کہ عمران خان نے ورلڈ کپ جیتا ۔ 1992 ؁ء میں ہم کالج کے اسٹوڈنٹ تھے ، ورلڈ کپ جیتنے پر زبردست جشن منایا اورکراچی آمد پر پوری قوم نے شاندار استقبال کیا ۔ شاید یہی شاندار استقبال ہمیں راس نہیں آیا جس کے بعد عمران خان کے ذہن میں وزیر اعظم بننے کا بھوت سوار ہوگیا۔ شروع میں انہوں نے ایک اچھے اور عوامی خدمت کے نظریے کی بنیاد پر تحریک انصاف کی بنیاد ڈال دی ۔ یہ ایک اچھا قدم تھا مگر حوس اقتدار نے آج نہ صرف وہ نظریہ بھی تبدیل کرادیا ہے بلکہ لب و لہجہ میں جو شائستگی تھی وہ بھی ختم ہوگئی ہے جس کے ہمارے معاشرے پر ٹھیک اثرات نہیں پڑ رہے ہیں ۔ اسی گالم گلوچ کی سیاست کی وجہ ہے کہ سب سے زیادہ خود تحریک انصاف کے ہی
    نوجوانوں کو آپس میں لڑتے ہوئے ہم دیکھ رہے ہیں ۔ہم داد دیتے ہیں پی پی پی کے چیئر مین بلاول بھٹو ذرداری کو جو کم عمر ہونے کے باوجود اپنے سیاسی لب و لہجے میں شائستگی رکھتے ہیں اور عوامی حلقوں میں ان کی مقبولیت بھی بڑھ رہی ہے ۔ عمران خان کو کم از کم ان سے سیکھ لینا چاہیے جنہوں نے آج تک اپنے نانا اور والدہ کے قاتلوں کے لیے بھی نازیبا الفاظ استعمال نہیں کیے ۔ ورلڈ کپ کے حصول نے نفسیاتی طور پر عمران خان کے ذہن میں ملک کے سلطان بننے کا بھوت سوارکیا جس کے لیے اُنہوں نے اب اپنے نظریے کو بھی شہید کرکے اپنی پارٹی میں وڈیروں ، جاگیرداروں اور لوٹوں کو شامل کرلیا ہے بلکہ ایسی قوتوں کا آلہ کار بنتے نظر آرہے ہیں جن کی وجہ سے ہمارا ملک ماضی میں دولخت ہوا تھا ۔محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور میاں محمد نواز شریف کے مابین طے پانے والے میثاق جمہوریت کے معاہدے سے قوم میں اُمید کی ایک کرن پیدا ہوگئی تھی کہ اب جنات اور شیطانی قوتوں کا وہ کھیل ختم ہوگا جو ہمارے ملک کی جڑو ں کو کمزور کرتا آرہا ہے مگر عمران خان کو حوس اقتدار نے اس حد تک اندھا کردیا کہ وہ خود اس کھیل کا حصہ بن گئے اور پاکستانی قوم کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا ۔ 2013 ؁ء کے عام انتخابات کے بعد ایسی کوئی وجہ نہیں تھی کہ ایک لمبے عرصے تک دھرنوں کے ذریعے پور ے اسلام آباد کو جام کردیا جائے ۔ پھر ایک سازش کی ناکامی کے بعد دوسری سازش کا حصہ بنتے گئے اور عوام نے جس جمہوری حکومت کو ملک کی خدمت کے لیے منتخب کیا تھا اسے کام کرنے نہیں دیا گیا ۔ یہاں تک کہ اقتدار کے لیے چور دروازے کا ہر راستہ تلاش کرتا رہا ۔ اب شاید اس میں کامیاب ضرور ہوگئے ہوں گے کہ میدان کے سب سے مضبوط کھلاڑی کو رسی سے باندھ کر اس میچ کو جیت لے گا اور ولڈ کپ کے بعد تاج سلطانی پہن لے گا مگر ان کے اس سارے کھیل کا نتیجہ قوم کو کیا مل رہا ہے ۔۔۔؟ ہمارے ملک کی معیشت بری طرح تباہ ہوچکی ہے ۔ روپیہ کا وزن گرکر 129 روپے فی ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ افغانستان ،بھارت اور بنگلہ دیش کی کرنسی بھی ہماری کرنسی سے کئی گنا زیادہ وزنی ہوچکے ہیں ۔ سی پیک جیسا اہم منصوبہ حاصل کرنے کے باوجود ہم کمزور سے کمزور تر ہوتے جارہے ہیں اور سرمایہ کار ہمارے ملک سے بھاگ رہے ہیں ۔پوری قوم غربت ، مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پس رہی ہے ۔۔۔ بے شک عمران خان کے پاس بہت پیسہ ہوگا ، جمائما بھی مدد کر رہی ہوگی اور بہت جائیدادیں بھی بنائی ہوگی ۔ مہنگائی بڑھنے سے ان کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور نہ ہی لاکھوں تنخواہیں لینے والے سیاسی کھیل کے حصہ داروں کی صحت پر کوئی اثر پڑے گا ۔ اس بے چارہ غریب سے پوچھو جو اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلانے کے لیے محنت مزدوری کی مشکل ترین مرحلوں سے گزرتا ہے۔ وہ بے چارہ تو کسی چیز میں 10 روپے اضافے کا بوجھ بھی برداشت نہیں کرسکتا ۔ آخر ایسے بے چاروں کا کیا قصور ہے۔۔۔۔؟ اگر عمران خان نے حوس اقتدار کے لیے ایسے ہی کھیل کا حصہ بننا تھا جس کا بھوت ورلڈ کپ نے سوار کیا تو اس سے بہتر تھا کہ ہم1992 ؁ء کے وہ ورلڈ کپ ہی ہارجاتے ۔۔۔! زیادہ سے زیادہ کیا ہوتا ۔۔۔؟ ورلڈ کپ دیکھنے والے چند شائقین جذباتی ہوکر اپنی ٹی وی توڑ دیتے یا پھر سڑکوں پر نکل کر اپنے قومی کھلاڑیوں کے پتلے جلاتے اور اپنے دل کا بھڑاس نکالتے ۔ اس سے کم از کم ملک کا اتنا بڑا نقصان تو نہیں ہوتا جو آج ہورہا ہے ۔ محترمہ بینظیر بھٹو شہید اور میاں محمد نواز شریف کے مابین طے پانے والا میثاق جمہوریت کامیاب ہوتا، سب کو آئینی حدود میں
    رہتے ہوئے ملک و قوم کی خدمت کا موقع ملتا اور ہمارا ملک ترقی و خوشحالی کی شاہراہ پر گامز ن ہوتا۔

  • error: Content is protected !!