Chitral Times

Nov 21, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • بڈھے کی نصیحت……….. رحیم علی اشرو

    July 22, 2018 at 9:19 pm

    اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتی جو خود آپ اپنے حالت نہیں بدلتے یہ فرمانِ الہی ہے۔ ہم عمل کرنے والے کہاں سے آگئے؟ ہم داڑھی رکھے ہوئے ہیں ہاتھ میں تسبیح کرتے ہوئے دعا مانگنے میں لگے ہیں۔ انساں کو اللہ نے سب کچھ پیدا ہوتے ہی دیا ہوا ہے مانگنے کے بجائے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پڑی چیز جو اللہ نے ہمیں دی ہوئی ہے وہ عقل ہے۔ ہم اپنے آپ سے بے خبر ہیں اس لئے اس چیز کی تلاش میں جو حقیقت میں ہے نہیں زندگی کے یہ چند دن گزارتے ہیں۔ جو نہیں ہے وہ ضرورت ہی نہیں ہے جو ہے اسے تو دیکھ لو۔ خود کو دیکھو دنیا کو دیکھو کسی بھی چیز کی کمی ہے؟ ایسی تو قدرت نے اپنی ہاتھوں سے نہیں بنایا ہے۔ کائنات کو دیکھو ذرا بھی کہیں خلل نظر نہیں آئے گا۔ انسان کے لئے سب کچھ ساماں کائنات میں رکھا ہوا ہے۔ تمہیں شرم نہیں آتی اس چیز کو مانگتے ہوئے جو پہلے سے ہی آپ کے پاس ہے۔ دوسروں پر توقع رکھو گے تو روتے ہوئے پاؤ گے۔ خود پہ یقین کرو۔ عقلو ژینگے عشق بیر کیاعشقو پروشٹہ خدائے اسور۔ جب دل میں عشق جنون اور ولولہ ہو تو دماغ بھی سوچنے لگتا ہے۔ دماغ کے سوچنے سے ہاتھوں کی محنت سے تقدیر بھی بدل جاتی ہے۔ یہ دنیا کیا ہے؟ اس کا بدلنا کیا ہے؟ لمحے بھر میں کائنات کے رنگ بدل جاتے ہیں۔ انسان کو ایسے اشرف المخلوقات نہیں بنایا ہے۔ بہت کچھ ہے لیکن پردے میں ہے۔ اب وقت آگیا ہے ہمیں پردے کو ہٹانا چاہئے۔ جو کچھ صلاحیت رب العزت نے دی ہوئی ہے قوم و ریاست کی سربلندی کے لئے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسی سلطنت جہاں عوام اور ریاست کی فلاح کے لئے وسائل نکلتا ہو ایسی سلطنت سے زوال دور بھاگتا رہتا ہے۔ جب بادشاہ عوام کی خدمت سے بے خبر مستی میں غرق ہو جاتا ہے تو زوال گلے کا ہار بن جاتا ہے۔ اس ہار سے شکست کے قطرے ٹپک رہے ہوتے ہیں۔ جس کے ہاتھ میں طاقت ہو وہ طیش میں آکر ایسی سلطنت کو پاش پاش کرتا ہے۔یہاں کے باشندے غلامی کے شکار ہوتے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند ایسے ہی غلامی میں آگئے تھے۔ اس غلامی سے فائدا یہ ہوا کہ ہم میں شعور آگیا، ہمیں وقت یاد آنے لگے اور ہم سعی و تجسس کرنے لگے۔ زبان کو بھی اس وجہ سے ترقی ہوئی، ہمیں اسلام بھی تب یاد آیا، سیاست کی خبر بھی ہمیں ہوئی، فلسفہ اور سائنس کی ضرورت کو محسوس کیا۔ لیکن ہمارے ساتھ زیادتیاں بھی بہت ہوئی۔ زمیں سے ضمیر تک سب بک گیا۔ ہم جب اٹھنے لگتے تو سرکار کی لاٹھی پاؤں میں پڑ جاتی اور جب ہم بیٹھ جاتے تو سر میں پڑ جاتی تھی۔ ایک ازمائش کا دور تھا کیا کیا مصبتیں ہم نے نہیں دیکھی؟ ایسے میں ایک مردِ قلندر اس سر زمیں سے اُٹھا جو اپنی مسلسل کی جدوجہد اور لیاقت و قابلیت سے ہمیں آزادی دی۔ یہ قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔ اب بھی تاریخ اپنے آپ کو دہرانے جا رہا تھا۔ ہم تباہی کے دہلیز پہ پہنچنے والے تھے۔ یہاں بھی حکمران دولت کی مستی میں غرق غریب عوام سے بے خبر مستی میں غرق ہوئے تھے۔ عالمی طاقتیں ترچھی نگاہوں سے ہماری طرف دیکھنے میں لگے تھے۔ کچھ سالوں بعد ہم پھر غلامی میں جانے والے تھے۔ خوبیِ قسمت میں ہمیں ناز ہونا چاہئے کہ ہمیں وقت سے پہلے ہی ایسے رہبر ملے جو اس ملک کو واپس اپنی پوزیشن میں لا سکتے ہیں۔

  • error: Content is protected !!