Chitral Times

Nov 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

این اے ون،پی کے ون کا ایک جائزہ…… محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ون اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے حلقہ پی کے ون چترال میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کے خاتمے کی وجہ سے اگرچہ امیدواروں کو ساڑھے چودہ ہزار مربع کلو میٹر رقبے پر محیط علاقے میں تمام ووٹرز تک اپنا پیغام پہنچانا بہت مشکل ہورہا ہے تاہم بڑے بڑے قصبوں میں تمام سیاسی پارٹیوں اور آزاد امیدواروں نے انتخابی جلسے کئے ہیں۔ چترال میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد تقریبا ڈیڑھ لاکھ ہے۔ یہاں قومی اسمبلی کی نشست پر گیارہ اور صوبائی اسمبلی کے لئے سولہ امیدوارمیدان میں ہیں۔ قومی اسمبلی کی نشست پر پاکستان مسلم لیگ ن کے شہزادہ افتخار الدین، پاکستان تحریک انصاف کے عبدالطیف، متحدہ مجلس عمل کے مولانا عبدالاکبر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سلیم خان کے درمیان اصل مقابلہ ہوگا۔اے پی ایم ایل کے ڈاکٹر امجداور اے این پی کے عیدالحسین بھی قومی اسمبلی کے مقابلے میں شریک ہیں جبکہ صوبائی نشست پر مسلم لیگ ن کے عبدالولی عابد ایڈوکیٹ، پیپلز پارٹی کے حاجی غلام محمد، متحدہ مجلس عمل کے مولانا ہدایت الرحمان، پاکستان تحریک انصاف کے اسرار الدین صبور ، اے این پی کے سردار احمد، آل پاکستان مسلم لیگ کے سہراب خان اور راہ حق پارٹی کے سراج الدین مدمقابل ہیں۔اقتدار کا ہما کس کے سرپر بیٹھتا ہے۔اس حوالے سے کوئی پیش گوئی کرنا سردست ناممکن ہے۔ کیونکہ قومی نشست پر مجلس عمل، پی پی پی، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ کے امیدوار کافی مضبوط ہیں۔ مسلم لیگ اگرچہ چترال میں زیادہ مقبول جماعت نہیں تاہم شہزادہ افتخار کے پاس ان کے والد شہزادہ محی الدین کا ووٹ بینک ہے۔انہوں نے ایم این اے کی حیثیت سے جو ترقیاتی کام کئے ہیں۔اس کریڈٹ کی بنیاد پر بھی انہیں ووٹ مل سکتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ، کرپشن سے پاک اور غیر متنازعہ ہونے کی وجہ سے بھی انہیں سراہا جاتا ہے ان کے ساتھ صوبائی امیدوار عبدالولی عابد بھی اچھے قانون دان اور ادب نواز ہونے کی وجہ سے کافی مقبول ہیں۔مولاناعبدالاکبر کا لواری ٹنل منصوبے میں کافی متحرک کردار رہا ہے۔ وہ چترال کے مسائل کے حوالے سے بھی پیش پیش رہے ہیں۔جماعت اسلامی اور جے یو آئی کا ووٹ بینک ملاکر ان کے ووٹرز کی تعداد 35ہزار سے زیادہ بنتی ہے۔ اس لئے ایم ایم اے کی پوزیشن کافی مضبوط ہے۔ یہ بات طے ہے کہ نوجوانوں کا ووٹ تحریک انصاف کے پاس ہے۔ پی ٹی آئی کے عبدالطیف گذشتہ انتخابات میں بھی چوبیس ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کرچکے ہیں۔ اگر پانچ دس ہزار نئے نوجوان ووٹر پی ٹی آئی کے پلڑے میں پڑ گئے تو انہیں 30ہزار سے زیادہ ووٹ مل سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے صوبائی امیدوار اسرار صبور کو گرم چشمہ کے اکثریتی ووٹ مل سکتے ہیں ۔اپر چترال سے بھی انہیں اچھے خاصے ووٹ مل سکتے ہیں ۔اس حوالے سے پی ٹی آئی سرپرائز دینے کی پوزیشن میں ہے۔ پی پی پی کے سلیم خان پانچ سال صوبائی وزیر اور پانچ سال ایم پی اے رہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ، نوجوان، متحرک ہیں۔ ان کا لوئر چترال خصوصا گرم چشمہ میں کافی ووٹ بینک ہے اپر چترال میں پی پی پی کے صوبائی امیدوار حاجی غلام محمدکے ووٹوں میں سے کچھ سلیم خان کو مل جائیں تو ان کی پوزیشن کافی مضبوط ہوگی۔ اپر چترال سے واحد امیدوار ہونے کی وجہ سے غلام محمد اکثریتی ووٹ حاصل کرسکتے ہیں۔ اے پی ایم ایل ، اے این پی اور راہ حق پارٹی کے امیدوار بھی اپنی کامیابی کے لئے پرامید ہیں ۔ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اپ سیٹ کرسکتے ہیں۔ قومی اور صوبائی حلقے سے متعدد آزاد امیدوار بھی
میدان میں ہیں۔ لیکن آزاد امیدواروں کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں۔ تاہم آزاد امیدواروں کو پڑنے والے ووٹ ایم ایم اے، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔قومی حلقے سے جو بھی امیدوار30ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کرے گا۔ اس کی کامیابی کے زیادہ امکانات بنتے ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی کے امیدوار کو 25ہزار سے زیادہ ووٹ لینے ہوں گے۔گذشتہ ووٹوں کے موازنے،امیدواروں کی شخصیت اور کارکردگی کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو چاروں بڑی پارٹیوں کے ففٹی ففٹی چانسز ہیں۔چترال شرح خواندگی کے لحاظ سے صوبے میں تیسرے نمبر پر ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ ووٹرز 24جولائی تک قومی و صوبائی سطح پر پارٹیوں کی پوزیشن کو سامنے رکھ کر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ کیونکہ قومی و صوبائی سطح پر بار بار اپوزیشن والی جماعتوں کو ووٹ دینے کی وجہ سے چترال کی پسماندگی دور نہ ہوسکی۔ بہتر یہی ہوگا کہ چترال کے عوام قومی سطح پر ہوا کا رخ دیکھتے ہوئے فیصلہ کریں۔فرقہ، مسلک، برادری، قومیت اور دیگر تعصبات کے دائرے سے باہر نکل کر اہلیت کے حق میں اپنے ضمیر کا فیصلہ صادر کریں۔


شیئر کریں: