Chitral Times

Dec 11, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • بولو جی کیا کیا خرید گے ۔۔۔۔۔ پیامبر …… قادر خان یوسف زئی

    July 22, 2018 at 8:51 am

    آپ میری گلی کو پکا کب کرارہے ہیں؟ جی میں نے ٹھیکیدار کو کہہ دیا ہے، کل سے کام شروع ہوجائے گا۔ آپ کی پارٹی نے سیوریج کی لائنیں نہیں ڈالیں، غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بات نہیں، میں اپنے پیسوں سے کرادوں گا۔ مسجد کے سامنے مین ہول نہیں، ڈھکن نہیں، جواب دیا کہ مسجدیں تو اللہ تعالیٰ کا گھر ہیں، یہ تو کارِ ثواب ہے، ایک گھنٹے میں کام ہوجائے گا۔ سڑکیں تباہ ہیں جگہ جگہ کچرا ہے۔ فکر نہ کریں میں ایکسیئن سے کہہ دیتا ہوں، کل تک علاقہ صاف ہوجائے گا۔ سنو سنو، یہ تم لوگ جو اِن جگہوں پر رہ رہے ہو، ان کچی آبادیوں کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا کیونکہ اس پر تم لوگ میری وجہ سے رہتے ہو۔ غیر قانونی کچی آبادیوں پر رہتے ہو، پانی درکار ہے۔ کوئی بات نہیں گیس بھی ملے گی، پانی بھی اور بجلی کا ٹرانسفارمر تو میں اپنی جیب سے لگادوں گا۔ میرا بیٹا بے روزگار ہے، اس کو جاب دلادیں۔ کوئی مسئلہ نہیں۔ سرکاری نوکریوں پر تو پابندی ہے جیسے ہی پابندی ہٹے گی میں جیتوں یا ہاروں، بچّہ روزگار پر لگ جائے گا۔ میرے گھر میں راشن نہیں، راشن ڈلوادیں۔ اوہ، یہ لو بھائی فوراً راشن ڈلواؤ میرے بچوں کو بھوکا نہیں سونا چاہیے، آپ کے بچے میرے بچے ہیں۔ ارے بھائی جھنڈا کیوں اتارا؟ جواب آیا، خرچہ نہیں ملا تو بھائی کہہ دیتے، میں اتنا مصروف ہوں، آپ کو خرچہ مل جائے گا۔ جھنڈا تو نہ پھینکیں۔۔۔ آفس کھلوانا ہے۔ کتنے جھنڈے، کتنے ڈنڈے، کتنے پینا فلیکس چاہئیں، جی وہ تو سب مل ہی جائیں گے۔ مجھے گاڑی بھی چاہیے۔ ارے بھائی گاڑی کوئی مسئلہ ہے کیا۔۔۔ ہوجائے گا۔ صبح گاڑی آپ کے دفتر کے پاس مل جائے گی۔ کارکنوں پر بڑا خرچہ ہورہا ہے، ان کے ’چائے پانی‘ کا بندوبست۔۔۔ ارے بھائی کارکنان تو ہمارا سرمایہ اور اثاثہ ہیں۔ سب ہوجائے گا، فکر کیوں کرتے ہو۔ فلاں کو میٹنگ میں کیوں بلایا، میں اس کے ساتھ کام نہیں کرسکتا۔ بھائی ناراض کیوں ہوتے ہو، الیکشن ہے، کسی کو ناراض نہیں کرسکتے۔ آپ تو ’اہمیت‘ کے حامل ہو، آخر جھنڈے لگانے والے بھی چاہیے ناں، آپ کیوں اپنی حیثیت کو فلاں سے ملاتے ہو۔
    انتخابی امیدوار مجھے ایک ایسا ’لاچار و بے بس‘ انسان نظر آتا ہے کہ اس کی حالت کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ یہ سب کچھ دید بھی ہے اور شنید بھی۔ کہنے کو تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ امیدوار بھی عوام سے جھوٹے وعدے کرتے ہیں، اگر ان کے ساتھ ایسا ہورہا ہے تو اس میں برائی کیا ہے۔ مجھے اس نظریے پر بات ہی نہیں کرنی۔ میں گزشتہ ایک مہینے سے یہ تماشا قریباً روز دیکھ رہا ہوں، بلکہ گذشتہ چھ انتخابات میں یہی سب دیکھتا رہا ہوں، لیکن یقین جانیے کہ میں نے اپنے حلقہ? انتخاب سمیت جہاں جہاں امیدواروں کے ساتھ کارنر میٹنگز، ریلیوں اور جلسے جلوس میں شرکت کی اور ووٹرز، سپورٹرز کے مطالبات سنے تو وہاں کبھی ایسا مطالبہ میرے سامنے نہیں آیا کہ ہمارے علاقے میں اسکول نہیں، یہاں اسکول بنادیں، کھیل کود کا میدان، ہسپتال نہیں ہے، پہلے یہ بنوادیں۔ جرائم کے اڈے ہیں، انہیں ختم کرادیں۔ ہمارے پاکستانی ووٹرز آج تک اس بات کو سمجھ ہی نہ سکے یا سمجھنا ہی نہیں چاہتے کہ پارلیمانی انتخابات میں کامیاب امیدواروں کا بنیادی کام قانون سازی ہے، بلدیاتی مسائل کو خود حل کرنا پارلیمنٹ کا کام نہیں۔ اس کے لیے بلدیاتی نمائندے ہوتے ہیں۔ آپ ان سے مطالبہ کرسکتے ہیں کہ بلدیاتی نمائندوں کو قانون سازی کرکے مکمل اختیار دیں کہ وہ نکاسی آب، پانی کی فراہمی، گلیاں اور سڑکیں بناسکے۔
    سیاسی جماعتوں سے نوکریاں مانگنے والے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اس طرح تو میرٹ کا قتل ہوتا ہے۔ کسی کا حق مارا جاتا ہے اور غیر قانونی چور راستے سے نوکریاں دے کر حق دار کی حق تلفی ہوتی ہے۔ پارٹی کارکنان جب اپنے امیدواروں سے رابطہ آفس کے لیے اخراجات لیتے ہیں اور کارکنان کے لیے’خرچہ پانی‘ تو اس کے بعد ان کا استحقاق ختم ہوجاتا ہے کہ الیکشن میں کامیابی کے بعد ان کا امیدوار ان کے لیے ’کچھ‘ کرے گا، بلکہ فون بھی نہیں اٹھاتا اوراس کا سیکیورٹی گارڈ گھر سے دور رہنے کا حکم دیتا ہے، کیونکہ سیاسی جماعت کے کارکنان تو اپنی خدمات کا معاوضہ دوران انتخابات ہی وصول کرلیتے ہیں۔ اب اس امیدوار کی قسمت ہے کہ وہ جیتے یا ہارے، لیکن سیاسی جماعتوں کا عہدے دار جتنے بھی نعرے لگواتا ہے، اس کے نوٹ کھرے کرتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ میری بات کسی کو ناگوار گزرے لیکن سچ یہی ہے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ایک انتخابی حلقے میں دس ہزار جھنڈے لگانے کے لیے کسی نے مفت خدمات فراہم کی ہوں۔ کھانا، پینا، چائے وغیرہ سب اپنی جیب سے کیے ہوں۔ معاف کیجیے گا، ایسا بالکل نہیں ہے۔ کیا کوئی ثابت کرسکتا ہے کہ جتنی کارنر میٹنگ ہوتی ہیں، اس کے لیے کرسیوں، ٹینٹ، ساؤنڈ سسٹم اور گاڑیوں کا بندوبست اپنی مدد آپ کے تحت اہل علاقہ کرتے ہیں۔ تو دوبارہ معافی چاہتا ہوں کہ ایسا بھی بالکل نہیں ہوتا۔ کیا کوئی یہ بھی ثابت کرسکتا ہے کہ ایک حلقے کے120پولنگ اسٹیشن میں200 خواتین پولنگ ایجنٹ کے طور پر بیٹھتی ہوں اور فی کس تین ہزار روپے معاوضہ نہ لیتی ہوں تو اس سے بڑا جھوٹ بھی کوئی نہیں ہوگا۔
    ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ کارکنان اور سپورٹرز کو پٹرول، گاڑیاں، ٹوپیاں اور دیگر تشہیری مواد انتخابی امیدوار ہی خرچ کرتا ہے۔ ووٹرز کو گھر سے نکالنے کے لیے گھر گھر گاڑیاں بھیجنا اور ان گاڑیوں کا معاوضہ بھی انتخابی امیدوار کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ پولنگ اسٹیشن کے باہر ٹینٹ میں بیٹھے کارکنان اور ووٹرز کے لیے بریانی کی دیگیں بھی امیدوار کو دینا پڑتی ہیں۔ انتخابی امیدوار کو ’الف‘ سے لے کر ’ے‘ تک تمام اخراجات خود کرنے ہوتے ہیں، چاہے اس کا تعلق متوسط طبقے سے ہو یا اشرافیہ سے۔ تو پھر جب یہی امیدوار کامیاب ہوکر پارلیمنٹ میں بیٹھتا ہے تو اس سے اس بات کی کیوں توقع رکھتے ہیں کہ وہ کرپشن نہیں کرے گا، سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ نہیں کرے گا، ترقیاتی کاموں میں کک بیک نہیں لے گا۔ گھوسٹ ملازمین بھرتی نہیں کرے گا۔ نوکریاں فروخت نہیں کرے گا۔ ارے میرے عزیز ہم وطنو۔ یہ اراکین پارلیمنٹ کو کرپشن کے راستے ہم خود ہی تو بتاتے ہیں۔ ہم اپنی حیثیت کے مطابق اپنی’قیمت‘ لگاتے ہیں۔ ہمارا نظریہ ’’سیوریج کے مین ہول سے شروع ہو کر نالے کی صفائی‘‘ پر ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد ہمارا پارلیمنٹرین سے گلہ شکوہ کرنا، میرے نزدیک کسی اہمیت کا حامل نہیں۔
    ہم نے انتخابات کو کاروبار خود بنایا ہے۔ جب اربوں روپیہ لگے گا تو کھربوں وصول بھی کیا جائے گا، کیونکہ کوئی کاروبار نفع نقصان کے بغیر نہیں کیا جاتا، لیکن سیاست میں نقصان کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں، کیوں کہ کروڑوں روپے خرچ کرنے والے جیتیں یا ہاریں، ان کے تعلقات ہر ادارے اور ہر سیاسی جماعت سے قریب ترین بن جاتے ہیں۔ وہ سیاست دان اپنی انویسٹمنٹ کا فائدہ اگلے الیکشن تک بھرپور اٹھاتا رہتا ہے۔ اس کا کاروبار دن رات ترقی کرتا رہتا ہے۔ ایسے امیدواروں کو کبھی نقصان نہیں ہوتا۔ سمجھنے اور سمجھانے کی بات صرف یہ ہے کہ جب ہم عوام ہی ایسے نمائندوں کو منتخب کرنے کے لیے اپنی قیمت لگادیتے ہیں تو ایسے نظام میں کبھی چہرے اس لیے نہیں بدلتے کیونکہ عوام نہیں بدلتے۔ یہ ایک انتخابی رجحان بن چکا ہے کہ جو الیکشن میں کھڑا ہوگا، وہ تمام اخراجات برداشت کرے گا، کیونکہ وہ کامیاب ہوکر وزیر بھی بن سکتا ہے۔ بن بھی جاتے ہیں۔ مشیر بن جاتے ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد اپنی سیاسی جماعت سے لامحدود فوائد بھی حاصل کرتے ہیں، اس لیے ہم عوام اس بات کو حق بجانب سمجھتے ہیں کہ ہم کسی کو کامیاب کرانے کے لیے قربانی کیوں دیں۔ بات صرف ایک ووٹ کی ہوتی تو نظام بھی بدلتا اور چہرے بھی بدلتے۔ الیکٹیبلز بھی تبدیل ہوجاتے، لیکن جب ہمیں نہیں بدل رہے اور خود کو بدلنا نہیں چاہتے تو بنالیں سیوریج لائن کے ڈھکن133 قانون سازی کے لیے جب آپ کو ضرورت نہیں تو کامیاب اراکین پارلیمنٹ کو بھی آئندہ الیکشن تک آپ کی ضرورت نہیں۔ وہ آپ کو جانتے ہیں اور نہ آپ خود کو۔

  • error: Content is protected !!