Chitral Times

Sep 22, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • جشن شندور کے کھلاڑی……………. سردار احمد خان یفتالی

    July 19, 2018 at 9:21 pm

    پوری دنیا میں جشن شندور کو منفرد مقام حاصل ہے۔ہر سال ہزاروں کی تعداد میں اندرونی اور بیرونی سیاح شندور کا روخ کرتے ہیں۔جس سے ثقافت کے ساتھ ساتھ ہماری معشیت پر بھی مثبت اثر پڑتا ہے۔ہر سال کی طرح اس سال بھی گللگت بلتستان اور ضلع چترال کی ٹیمیں اپس میں مد مقابل ہوئی ۔ شندور ایؤنٹ کا افتتاحی میچ قدیم ایام سے وادی لاسپور اور غذر کے مابین کھیلا جاتا ہے جو اس جشن کا پہلا میچ ہوتا ہے، اس کے بعد اسی دن سے چترال کے دوسرے ٹیمون کا میچ کھلا جاتا ہے جس میں چترال بی ٹیم ،چترال سی ٹیم کے کھلاڑی گللگت بلتستان کے ٹیمون کے مد مقابل ہوتے ہیں۔جشن شندور کے روایات کے مطابق اس سال افتتاحی میچ کے مہمان خصوصی نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا جسٹس (ر) دوست محمد خان صاحب تھے جو لاسپور اور غذر کے ٹیمون کے کھیل کا مہمان خصوصی کی حیثیت سے میچ کے آخر میں جیتنے والے ٹیم کے لیے دس لاکھ روپے اور رنر اپ ٹیم کے لیے پانچ لاکھ کا اعلان کیا تھا۔جو جشن شندور کی تاریخ میں پہلی بار لاسپور اور غذر کے کھلاڑیوں کو انعامات سے نواز،جس کے لیے ہم نگران وزیر اعلیٰ جسٹس (ر) دوست محمد خان صاحب کے انتہائی مشکور ہیں۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے اس اقدام سے یقیناََ لاسپور اور غذر کے غریب کھلاڑیوں میں خوشی کی ایک لہردوڑ گئی ہے جو اس منہگائی کے دور میں ہماری ثقافتی کھیل پولو کو مزید پروان چھڑنے کا موقع ملے گا۔

    جشن شندور میں چترال کی ہر ایک ٹیم ضلع چترال کی نمایندگی کرتی ہے۔چاہے وہ لاسپور کی ٹیم ہو ،سب ڈویژن مستوج کی ٹیم ہو وہ کھلاڑی سب برابری کے مستحق ہیں وہ سب اس انعامات کے حقدار ہیں جو چترال کے دوسرے ٹیموں کو دی جاتی ہیں۔اس جشن میں ہمیشہ کی طرح اس بار بھی لاسپور ،غذر ،سب ڈویثرن مستوج، چترال سی کے کھلاڑیوں کو دیوار کے ساتھ لگانے کی کو شش کی جا رہی ہے ۔ ان کے جایئز حق کو ان سے چھینے کی غلیظ عمل اس کھیل کو پیسہ بنانے کا ذریعہ اور کے ساتھ ساتھ کھلاڑیون کو بھی مایوس کیا جا رہاہے۔ اس عمل سے اس کھیل میں نفرت پیدا ہو گی ۔
    ہم یہاں پر ڈپٹی کمشنر چترال ،کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس ، ڈی ،پی ،آو چترال صدر پولو ا یسوسی ایشن سے گزارش کر تے ہیں کہ وزیر اعلیٰ کے اعلان کے عیں مطابق لاسپور ، غذر ، اور د وسرے ٹیموں کے انعامات ان کو دلا کر اس کھیل کو سیاست اور نفر ت کے نذر ہونے سے بچایئے۔

  • error: Content is protected !!