Chitral Times

Nov 19, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • سیکولر پارٹیوں کا انتشار چترال کی سیاست کا رخ پھیر دے گا…..تحریر : حبیب الرحمن

    July 19, 2018 at 3:33 pm

    این اے ۔1چترال کے الیکشن نہایت ہی اہم حلقہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ چترال کی جغرافیائی و سٹرٹیجک اہمیت ہے دوسرا پہلو چترال کے عوام کا 25 جولائی کو دور رس اور بالغ نظر فیصلہ ہے جو کہ پاکستان کی سیاست پر اثر انداز ہوگا۔
    پچھلے پانچ سالوں کے اندر کے پی کے میں عمران خان اور جماعت اسلامی کے اپنے اپنے منشور کا پابند رہتے ہوئے اتحادی بن کرحکومت کرے گی، حا لانکہ عمرا خان اور اس کی پارٹی ایاک نستعین کا نعرہ مستانہ بلند کرنے کے باوجود سیکولر نظریے کی حامل مزاحمتی سیاست کی قائل ہے اور مزاحمت بھی ملکی سطحُ اپنوں ہی سے الجھنے اور دھرنا لگانے سے عبارت چاہے اس کے نتیجہ میں عالمی سطح پر پاکستان کی کتنی ہی نقصان اور جگ ہنسائی کیوں نہ ہو۔ چترال کے سنجیدہ طبقوں نے عمران کان کی اس بے تکی اور ریاست کے لئے مضر رسان کو مسترد کر دیا ہے۔اب تحریک انصاف باوجود اپنے دعووں کے چترال کی سیاست میں تیسرے درجے پر کھڑی نظر آرہی ہے۔ کیونکہ جماعت اسلامی نے عمران خان کا ساتھ چھوڑ کر اب دیگر دینی جماعتوں کے ساتھ متحدہ مجلس عمل کا جزو لاینفک بن چکی ہے خصوصاََ جمعیت علما ء اسلام(ف) کا جس کا چترال کے مذہبی معاشرے میں خاصا اثر رسوخ ہے۔ گزشتہ قومی الیکشن کے دوران جماعت اسلامی کے نامزد امید وار ملانا عبد الا کبر چترال نے 22ہزار سے زائد ووٹ لے کر اور جمعیت علماء اسلام کے موالانا ہدایت الرحمان نے سترہ ہزار سے ائد ووٹ حاصل کرنے کے باوجود عدم اتحاد کے سبب دونوں ناکام ہو گئے تھے۔ اور اب کی بارچترال میں ایم ایم اے نے بھر پور اتحاد کا مظاہر ہ کرکے یہاں کے اسلام پسند عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کی ہے کیونکہ 2002میں ایم ایم اے نے چترال میں ایک ایم این اے اور دو صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن جیک کر سیکولر پارٹیوں کو شکست فاش دی تھی۔ حالانکہ متحدہ مجلس عمل کے تینوں علماء سماج میں مالی لحاظ سے کمزور تھے مگر اقتدار اور دولت کی فراوانی اور حرص و طمع کے ہتھکنڈوں کے باوجود وہ اپنے کردار میں بے داغ رہے اور نظریہ قوم کی خاطر اپنے ذاتی مفادات کو کوئی اہمیت نہ دے کر عوام میں بڑی مقبولیت حاصل کر لی تھی۔ مگر اتحاد کی لاج نہ رکھنے کے سبب وہ انتشار کا شکار ہو ئے تو عوام نے اس کا برا منایا اور ان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور جنرل پرویز مشرف کی پاکستان مسلم لیگ کے شہزادہ افتخار نے قومی اسمبلی کی واحد سیٹ پر پانچ سال کے لئے رکن منتخب ہوئے اور سلیم خان اور سردار حسین صوبائی اسمبلیوں کی نشستیں جیت لیں، حالانکہ یہ حیران کن نتائج تھے۔ کیونکہ چترال عوام نے ٹکڑوں میں بٹی ہوئی مذہبی جماعتوں کو مسترد کرکے عین سیکولر لوگوں کو منتخب کر لیا۔اور پیلز پارٹ اور روشن خیالی کے پر چارک جنرل مشرف کے سر پر تاج رکھ لیا۔ عوام کا یہ رد عمل یہ بھی تھا اور لواری ٹنل کی تعمیر میں کردار ادا کرنے کا صلہ بھی۔ 2018کے حالیہ الیکشن میں جس انتشار فکری کا شکار ماضی میں دینی جماعتیں تھیں اب کی بار وہ انتشار سیکولر اور مادیت پرست جماعتوں کے حصہ میں آیا ہے۔ دینی جماعتیں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر متحد ہیں جبکہ سیکولر پارٹیاں چوں چوں کا مربہ بنی ہوئی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے قوفی اسمبلی کی نشست کے لئے سابق ایم پی اے سلیم خان کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ صوبائی سیٹ کے لئے اپنی شاہ خرچیون کے لئے مشہور ٹھیکیدار غلام محمد کو کھڑا کیا ہے۔ جبکہ تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کے لئے سابقہ ناکام امیداوار عبد الطیف اور صوبائی اسمبلی کے لئے گرم چشمہ سے ایک نئے نوجوان اسرار صبور کو ٹکٹ دے کر میدان میں اتارا ہے۔بعض مبصرین ٹکٹوں کو اس تقسیم کو فرقہ واریت کو پروان چڑھانے کا پیش خیمہ سمجھتے ہیں جسے چترال کے عوام نے ہمیشہ مسترد کیا ہے۔ یہی وجہ سے خود گرم چشمہ کے عوام کا ووٹ اس دفعہ منقسم ہو کر چار بڑے حصوں میں بٹ گیا ہے۔اگرچہ مجلس عمل اس مخصوص ایریا میں کم ووٹ حاصل کرے گی تاہم شہزاردہ تیمور جو کہ ایک آزاد امید وار ہیں اور پرویز مشرت کے نامزد امید وار ڈاکٹر محمد امجد ہر دو اپنی مقبولیت کے سبب گرم چمشہ کے وٹوں کو پی پی پی کے سلیم خان کے کریڈٹ میں جانے میں اچھی خاصی رکاوٹ بنیں گے۔ یہی حال شہزادہ سہراب کا بھی ہے جو پاکستان مسلم لیگ کے صوبائی نامزد امید وار ہیں وہ بھی مسلم لیک ن کے امید وار عبد الولی خان اور عمران خان کی پارٹی کے صوبائی نامزد امید وار اسرار صبور کے ووٹ بینک میں بھر پور طریقے سے رخنہ ڈالیں گے۔ اور شہزادگان چترال کے مخصوص ووٹ اب کی بار تین شہزادوں میں منقسم ہونگے جس کا تمام تر فائدہ ایم ایم اے کو حاصل ہوگا۔ شہزادہ افتخار اگر چہ ترقیاتی کام کرنے کا بڑا دعویٰ کرتے ہیں مگر لوٹا بننے داغ ان کے دامن میں لگ چکا ہے جسے چترال کے عوام بے اصولی قرار دیتے ہیں۔ نیز تحریک انصاف کے اندر بھی پرانے اور منجھے ہوئے لوگوں کو ٹکٹ نہ دینے کا گلہ پایا جاتا ہے۔جہ کہ سخت ناراضگی کی صورت اختیار کر گیا ہے اور رحمت غازی جو کہ تحریک انصاف کی ٹکٹ کے جائز امیداوار سمجھے جاتے تھے اب وہ دوسرے ہم نواوں کو ساتھ لیکر پارٹی کے خلاف مہم چلانے کو جائز قرار دے رہا ہے۔اس کا فائدہ بھی متحدہ مجلس عمل کے قومی و صوبائی امیدواروں کے حق میں جانے کا واضح امکان ہے۔ کیونہ ملکہو تحصیل کے لوگ ایم ایم اے کو اپنی ترقی اور اپنی نظریاتی شناخت دونوں کے محافظ سمجھتے ہیں۔ تحصیل مستوج اور تورکہو میں لوگوں کے ووٹ تینوں بڑی پارٹیوں میں منقسم ہیں البتہ تحصیل دروش اور تحصیل چترال میں بھی متحدہ مجلس عمل کا پلہ بھاری نظر آتا ہے جس کی وجہ سے مبصرین یہ تبصرہ کرتے نظر آتے ہیں کہ 2002کی طرح 2018میں ایک بار پھر متحدہ مجلس عمل سیکولر پارٹیوں کے انتشار سے بھر پور اٹھائے گی اور اپنی یکجہتی کے ثمر کے طور پر عوام کے دلوں اور ایوانوں دونوں پر حکمرانی کا حق جتائے گی جس کے واضح امکانات نظر آتے ہیں۔
    چترال میں اگرچہ عوامی نیشنل پارٹی اپنا وجود رکھتی ہے اور راہ حق کے نام پر سپاہ صحابہ نے بھی اپنے دو امیدوار میدان میں لائے ہیں مگر چلو بھر پانی میں اگر بہہ بھی جائے تو دریا کی روانی پر اس کے اثرات نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ ایم ایم اے نے چیلنچ سمجھ کر اتحاد کو بچا لیا تو کمال کر دیا ورنہ وہ بھی سیکولر پارٹیوں کی طرح عوام کی نظروں سے گر جاتے اور خاک ہو جاتے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ خاک نشین چترال کے این اے ون سے کس طرح اٹھ کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ جاتے ہیں اور اپنے اتحاد کو برقرار رکھ کر عوام کی توقعات پر پورا اترتے ہیں، بات صرف تاریخ سے سبق سیکھنے کی ہے۔ ملک کے جغرافیے کا تحفظ ہو یا نظریے کے فروغ کا یہی سبق ہماری رہنمائی کے لئے کافی اور عوام کے جذبات کا ترجمان ہوگا۔
    چترال میں منعقدہ گزشتہ بلدیاتی الیکشن بڑی دلچسپی کے حامل تھے اور متحدہ مجلس عمل کی تشکیل سے پہلے ہی ایم ایم اے کی تشکیل نو کے لئے راہ ہموار کی کیونکہ بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کا ناظم منتخب ہوااور جمیعت علمائے اسلام کا نائب ناظم اور سپیکر ڈسٹرکٹ اسمبلی منتخب ہونا پاکستان کی انتشار بھری سیاست میں ایک امید کی کرن بن گئے اور اس اتحاد کو توڑنے کی تمام تر ملکی و بین الاقوامی کوششیں ناکام ہو گئیں اور دینی جماعتوں کے مقامی قیادتوں نے بڑی قربانی دے کر اپنے اتحاد کو بچا لیا۔ اب کی بارقومی انتخابات کے موقع پر بھی واضح آثار موجود ہیں کہ ایم ایم اے کے حق میں تاریخ خود کو دہرا ئے گی اور یہاں پر مقابلہ کرنے والے دو علماء مولینا عبد الاکبر چترالی قومی اسمبلی میں اور مولانا ہدایت الرحمان صوبائی اسمبلی میں پہنچنے کے امکانات واضح ہیں۔ چونکہ چترال میں ووٹنگ کی ٹرن آوٹ ہمیشہ اچھی رہی ہے۔ پچھلے قومی انتخابات میں تین لاکھ میں سے دو لاکھ 40ہزار کے لگ بھگ لوگوں نے ووٹ پول کئے۔ چترال میں مردوں کے شانہ بشانہ خواتین بھی بھر پور طریقے سے ووٹ کاسٹنگ میں حصہ لیتی ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ قوم کے شعور کی بیداری کی علامت ہے جہاں شرح خواندگی بھی 70فیصد کے لگ بھگ ہے۔ جو پاکستان کے بڑے ترقی یافتہ شہروں کے مقابلے میں بھی زیادہ بہتر اور حوصلہ افزا ہے۔چترال کے عوام کی اپنے منتخب نمائندوں سے توقعات ہیں ترقیاتی کاموں کے علاوہ نظریاتی استحکام بھی سر فہرست ہے۔ یہاں پر خدشات پائے جاتے ہیں کہ اگر سیکولر طبقے اقتدار میں آگئے تو وہ بین الاقوامی دباو میں آکر پاکستان کے اسلامی آئین کو بدلنے اور اسلامی شقوں کو حذف کروانے میں مدد گار ہوں گے۔
    حالانکہ چترال کی سیکولر پارٹیاں سیکولر ہونے کے باوجود دیندار تصور کی جاتی ہیں۔ وہ اپنے ایمان کا سودا کرنے کے لئے تیار نہیں جس کا مظاہرہ گزشتہ کچھ عرصے قبل شاہی مسجد میں نبوت کے اعلان کے بعد عوام ردعمل کی صورت میں دیکھاگیا جہاں عوام اور لیڈر اور خصوصاََ مذہبی لیڈر ایک پیچ پر تھے اور تمام مقدمات واپس لینے پر حکومت کو مجبور کیاگیا۔ اور مذہبی عقائد کے دفاع کے لئے قوم ایک مضبوط حصار بن کر سامنے آگئی اور بڑی سازش کو ناکام بنا دیا۔ ووٹر حضرات پرملا اپنے مذہبی خدشات کا اظہار کرتے ہیں اور مذہب کو چترال کی سیاست میں ایک فیصلہ کن کردار حاصل ہے جس کا فائدہ متحدہ مجلس عمل کو پہنچ سکتا ہے۔ 2002 میں مجلس عمل کی حکومت میں فرقہ واریت کے خاتمے میں دینی جماعتوں کا مثبت کردار تھا جس کی اب بھی بجا طور پر توقع کی جا رہی ہے۔

  • error: Content is protected !!