Chitral Times

Oct 16, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • مہنگائی کا شتر بے مہار…….. محمد شریف شکیب

    July 19, 2018 at 3:30 pm

    سپریم کورٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران او جی ڈی سی کی طرف سے ایک رپورٹ پیش کی گئی ۔ رپورٹ کے مطابق پٹرول کی درآمدی قیمت تو 87روپے ہے تاہم اس پر 22روپے مختلف ٹیکسز لگانے کے بعد عوام کو 99روپے فی لیٹر کے حساب سے بیچا جاتا ہے۔ ڈیزل کی قیمت خرید 67روپے ہے تاہم اس پر 46روپے فی لیٹرمختلف ٹیکسزلاگو ہیں جس کی وجہ سے عوام کو 113روپے فی لیٹرڈیزل دستیاب ہے۔ ٹیکسوں کی تفصیل میں بتایا گیا کہ ڈیزل پر 8روپے 89پیسے کسٹم ڈیوٹی، 8روپے لیوی، 2روپے 64پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنی مارجن، 2روپے 93پیسے ڈیلر مارجن، 21روپے 86پیسے جنرل سیلز ٹیکس اور ایک روپے 55پیسے ان لینڈ فریٹ مارجن کے نام سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔تیل کمپنیوں کے مالکان کی بھی اپنی مجبوریاں ہوں گی ہیں۔ مختلف ناموں سے صارفین سے ٹیکس اور کمیشن نہیں لیں گی تو اپنے اور بیوی بچوں کے لئے پرتعیش بنگلے، نئے ماڈل کی گاڑیاں اور عیاشی کا دوسرا سامان کیسے خریدیں گے۔اس لئے تیل کمپنیاں اپنے کمیشن کے علاوہ ڈسٹری بیوٹرز اور پٹرول پمپ مالکان کے لئے بھی مارجن رکھتے ہیں ۔جس کی وجہ سے قیمت دوگنی ہوجاتی ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام ہی اس مقصد کے لئے عمل میں آیا ہے کہ اس کے زریعے عوام کی رگوں سے خون نچوڑا جاسکے۔ حکومت یہ کام براہ راست خود انجام دے کر اپنی سیاسی ساکھ کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتی۔ او جی ڈی سی سے تیل و گیس، اوگرا کے ذریعے بجلی کی قیمتوں میں پچاس سے ساٹھ فیصد تک اضافے کی سمری بنوائی جاتی ہے۔ پھر کابینہ کا اجلاس بلاکرقیمتوں میں ساٹھ فیصد اضافے کی سفارش مسترد کرکے تیس چالیس فیصد اضافہ کرنے کا حکم صادر کیا جاتا ہے۔ اور ہفتہ دس دن بعد قیمتوں میں دو چار فیصد کمی کرکے عوام پر احسان جتانے کی کوشش کی جاتی ہے۔عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں سال میں ایک آدھ مرتبہ معمولی کمی بیشی کی جاتی ہے۔جبکہ ہمارے ہاں ہر مہینے اور کبھی کبھار مہینے میں دو تین بار بھی نئی قیمتوں کا اجراء کیا جاتا ہے۔بجلی ہماری اپنی پیداوار ہے۔ پانی ، تیل، کوئلے ، شمسی یا جوہری توانائی سے بجلی حاصل کی جارہی ہے۔ اس کی قیمتوں کا بین الاقوامی مارکیٹ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود بجلی کے نرخوں میں مختلف حیلے بہانوں سے سال میں دو تین بار اضافہ کیا جاتا ہے۔تین کمروں پر مشتمل گھر کی بجلی کا بل اٹھا کر دیکھ لیں تو اس میں بجلی کی اصل قیمت تو ہزار بارہ سو روپے ہوگی۔ جنرل سیلز ٹیکس، سرچارج، اضافی سرچارج، ٹی وی ٹیکس، ایکسٹرا ڈیوٹی ، نیلم جہلم سرچارج، سروس چارج، میٹر چارج اور دیگر محصولات لگا کر تین چار ہزار کا بل بنایاجاتا ہے۔ایک سال کے لئے لاگو نیلم جہلم سرچارج گذشتہ پندرہ سالوں سے صارفین سے وصول کیا جارہا ہے اس مد میں چھ ارب روپے عوام سے وصول کرنے کا ہدف مقرر تھا اب تک اس مد میں پچاس ارب سے زیادہ وصول کئے جاچکے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ آٹے کی قیمت بڑھانے والے جاگیر دار اور فلور ملز مالکان بھی اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں۔ مرغی کا گوشت اصل قیمت سے سو فیصد مہنگا بیچنے والے پولیٹری فارم مالکان بھی قومی ایوانوں میں براجمان ہیں۔ادویات مہنگی کرنے والے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے مالکان بھی ایوان اقتدار میں بیٹھے ہیں۔ اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ کرنے والے صنعت کار، کارخانہ دار اور بڑے تاجر بھی سیاست کے بڑے بڑے کھلاڑی ہیں۔ اس لئے حکومت اور پارلیمنٹ سے عوام کو ریلیف ملنے کی کوئی امید نہیں۔ افسر شاہی بھی حکمرانوں کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔کیونکہ ناجائز منافع میں دونوں شراکت دار ہیں۔ عوام کس سے جاکر فریاد کریں۔ موبائل فون اور آئل کمپنیوں کی لوٹ مار کا چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیا ہے۔شاید غریب عوام کو کچھ ریلیف ملے۔ چیف جسٹس کو بجلی اور گیس کے حوالے سے بھی عوامی مشکلات کا نوٹس ضرور لینا چاہئے۔ کیونکہ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ وہ شکستہ کمر کے ساتھ اپنے حقوق کے لئے احتجاج کا آئینی حق استعمال کرنے کی بھی سکت نہیں رکھتے۔ انہیں یہ فکر بھی دامن گیر ہوتی ہے کہ خاندان کا واحد کفیل بڑی مشکل سے گھر کا چولہا گرم رکھتا ہے۔ احتجاج کے نتیجے میں اسے کچھ ہوگیا تو خاندان کا کیا بنے گا؟۔

  • error: Content is protected !!