Chitral Times

Dec 12, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • چترال کی ترقی میں ایس آر ایس پی کا نمایاں کردار، ادارے کو دوبارہ فعال کا بنانے کا مطالبہ ۔۔عوامی حلقے

    July 18, 2018 at 11:23 pm

    چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال کی ہمہ گیر ترقی میں جہاں دوسرے این جی اوز کا رول رہا ہے وہیں پر سرحد رورل سپورٹ پروگرام (ایس آر ایس پی ) کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے چترال کے عوامی اور سماجی حلقوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر نئی ترقیاتی پراجیکٹ شروع نہ کرنے کی وجہ سے ترقی سے محروم علاقے اورطبقے مزید محرومی کا شکار ہوں گے کیونکہ اس ادارے نے اب تک کسی بھی تعصب اور پسندوناپسند کو پس پشت ڈال کر ضرورت کی بنیاد پر کام کرتا آیا ہے۔ چترال ٹائمز ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے ان حلقوں کا کہنا تھاکہ چترال کی ترقی سے اگر این جی اوز خصوصا ایس آر ایس پی کے کردار اور خدمات کو منہا کیا جائے تو اس کے نتیجے میں 1960ء کی دہائی کا پسماندہ چترال باقی رہ جائے گاکیونکہ ہائڈرو پاؤر جنریشن سے لے کرسڑکوں، ابنوشی وابپاشی کے منصوبوں، تعلیم ، صحت کے سیکٹروں تک اور دوسری طرف غربت مکاؤ پروگرام کی کامیاب پراجیکٹ چلانے سے لے کر قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں حکومت اور دوسرے غیر سرکاری اداروں سے سبقت لے جاکر سرچ اینڈ ریسکیو سے لے کر آبادکاری تک اس کے کارہائے نمایان کسی سے اوجھل نہیں ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس آر ایس پی نے سوشل آرگنائزیشن میں بھی چترال کو ایک جدت سے روشناس کیا اور دیہی اشتراکی ترقی کی بنیاد کو مزید مربوط ومضبوط کرتے ہوئے دیہی تنظیموں کے کارکنان کو تربیت فراہم کی اور ان کی عملی طور پر مدد کی۔ ان حلقوں نے اس بات پر زور دیا کہ ضلعے کی انتہائی وسعت اور آبادی کی کمی کے باعث حکومتی امداد سے محروم اس ضلعے کو اگر ایس آر ایس پی جیسی ادارے کی خدمت میسر نہ ہوتی تو اس کے نتیجے میں یہاں پسماندگی اور غربت کا دور دورہ ہوتا۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ اس ادارے نے مکمل طور پر غیر سیاسی بنیادوں پر ترقیاتی کام کئے اور یہی وجہ ہے کہ یورپین یونین نے پن بجلی گھروں اور دوسرے انفراسٹرکچروں کی مد میں ایک خطیر رقم اس ادارے کے حوالے کیا تھا جسے بحسن وخوبی انجام دیا لیکن اس کے فوراً بعد پروگرام میں مزید وسعت کے بجائے اس کے کام کو انتہائی محدود کردی گئی ہے جس سے ان لوگوں میں کھلبلی مچ گئی ہے جن کے پاس سیاسی اثرورسوخ اور سفارش نہیں ہوتی تھی اور وہ بلا جھجک اس ادارے سے استفادہ حاصل کرسکتے تھے۔ چترال کے تما م علاقوں سے عوام ایس آرایس پی کو دوبارہ فعال بنانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

    مختلف مکاتب فکر کا کہنا ہے کہ اس ملک میں ہر ایک ادارے کو سیاست کی بھینٹ چڑہانے کا رواج عام ہے اور ہر وہ سیاست دان جسے ایک خاص ادارے سے فائدہ حاصل نہ ہو اور ان کی مرضی کے مطابق کام نہ ہوجائے تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسے دوسری سیاسی جماعت کا آلہ کار ٹھہراکر اس پر طرح طرح کی تہمتیں لگائی جاتی ہیں اور این جی اوز کے بارے میں تو یہ اور بھی گھمبیر صورت حال اختیار کرجاتی ہے جوکہ ذیادہ دباؤ برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتے۔ چترال کی ترقی میں اہم اور نمایان عا مل ایس آر ایس پی کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا جسے ایک مخصوص سیاسی خاندان کا ایجنٹ قرار دیا گیا اور اسے نیچا دیکھانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی گئی ۔ الزام تراشی پہ اترنے والے کبھی بھی یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ کسی بھی طرح اور کسی بھی پیمانے پر اس ادارے نے سیاست میں ملوث ہو کر کسی خاص سیاسی پارٹی کے حق میں کام کی ہو جبکہ یہ بات بھی ان ریکارڈ ہے کہ الیکشن شیڈول کے اعلان سے بھی پہلے اس ادارے میں کوئی نئی ترقیاتی پروجیکٹ دینے کا سلسلہ اور پہلے سے چالو منصوبہ جات میں کام روک دئیے جاتے تھے تاکہ کسی کوکوئی بدگمانی یا شک کا موقع بھی نہ مل سکے لیکن اس سب کے باوجود اس ادارے پر سیاست کا چھاپ لگانے کی کوششیں بعض حلقوں کی طرف سے جاری رہے اور بغیر کسی ٹھوس ثبوت اور شواہد کے ایسے ایسے الزامات اس پر لگائے جاتے رہے کہ اس ادارے کے معماروں کومایوسی سے دوچار کردیا کیونکہ ان پر ایسے بے سروپا الزامات تھوپ دئیے گئے جن کے بارے میں انہوں نے سوچا بھی نہ تھا اور نہ ان کے وہم وگمان میں تھا۔ چترال شہر میں بجلی کی شدید قلت سے نجات دلانے کے لئے 35کروڑ روپے کی خطیر رقم سے دو میگاواٹ بجلی گھر تعمیر کرکے شائد اس ادارے نے کوئی فاش غلطی کی تھی کہ اظہار تشکر کے بجائے اس کے خلاف بولنے لگے۔ انہی وجوہات کی بناپر دلبرداشتہ ہونا فطری امرہے کیونکہ کوئی انسان جتنا بھی تحمل سے کام لے اور منکسر المزاج ہو، وہ مسلسل ایسے الزامات برداشت نہیں کرسکتا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہواکہ ایس آرایس پی میں گزشتہ سال سے کوئی نئی پراجیکٹ نہیں لائی گئی اور اس کے نتیجے میں سو سے ذیادہ ملازمین سکڑکر ایک درجن کے قریب رہ گئے ہیں اور کئی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے نہ صرف بے روزگارہوگئے بلکہ دیہی ترقی کا عمل بھی متاثر ہوگئی اور اب بغیر کسی سفارش اور اثرورسوخ کے کسی ادارے سے ترقیاتی منصوبے لینا عوام کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایس آر ایس پی کی بجلی گھر سے چالیس لاکھ یونٹ سے زیادہ بجلی چترال شہر کو سپلائی ہوئی جس کیلئے پیسکو یا دوسرے کسی ادارے کی طرف سے اب تک ایک روپے کی ادائیگی بھی نہیں ہوئی ہے ۔چترال کے سماجی وسیاسی حلقوں نے ایس آر ایس پی کی صوبائی حکام سے اپیل کی ہے کہ چترال میں غربت اور پسماندگی کو مدنظر رکھ کر خالص انسانی ہمدردی کی بنیاد پر چترال میں ایس آر ایس پی کی سرگرمیوں کو پہلے کی طرح دوبارہ چالو کئے جائیں جس سے ہر خاص وعام استفادہ کرسکتے ہیں ۔

     


  • error: Content is protected !!