Chitral Times

Nov 12, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • کیا خان سر کار واقعی میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ تحریر: نورالھدیٰ یفتالی

    July 18, 2018 at 9:26 pm

    ………………………………………………………………………………………………………..ادارے کا مراسلہ نگار کی رائےسے متفق ہونا ضروری نہیں‌!
    2018 کے الیکشن میں مرکز میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سازی دکھائی دے رہا ہے۔مختلف ادارو ں کی سروے اور پنجاب کی موجودہ سیاسی نفسانفسی اور پنجاب ہی سے سابق حکمران جماعت کے بڑے بڑے ناموں کا انصاف کے کاروان میں شامل ہوناکیا محص اتفاق ہے یا تبدیلی کی ہوا چلی ہے یا خلائی مخلوق کی دم دعا کا نتیجہ ہے۔ایک طرف پاکستان تحریک انصاف کا مشن ہے کہ تحریک انصاف اپنے نام کے مناسبت سے انصاف کے اہم اصولوں پر استوار ہے۔تحریک انصاف اس بات کا دعوا کرتا ہے کہ برسر اقتدار آ کر ملک میں ناانصافی،بے روزگاری،کرپشن،کا خاتمہ کریں گے۔ملک کے تمام شعبوں میں صحت سے لے کر تعلیم ،سیاحت سے لے کر تجارت تک ہر شہری کے لیے یکساں مواقع میسر ہو نگے۔
    ُپاکستان تحریک انصاف ایک عام پاکستانی کی جماعت ہے۔جو اہلیت اور مطابقت کے اصولوں پر یقین رکھتی ہے۔پی ٹی آئی اس بات پر زور دیتا ہے کہ غیر موثر ریاستی ڈھانچے نے حکمرانی کے بحراں کو جنم دیا ہے۔جس کی وجہ سے امیر طبقہ امیر سے امیر ہوتا آ رہا ہے اور غریب معاشرے میں بوجھ بنتاجا رہا ہے اگر دیکھا جائے توٹکٹوں کی تقسیم سے پی ٹی آئی کو کافی پریشانی کا سامنا کر ناپڑا، نظریاتی اور پرانے کارکنوں کو کسی حد تک نظر انداز رکھا گیا جب کہ پنجاب سیمت ملک کے مختلف صوبوں میں پی ٹی آئی کے ٹکٹوں پر نظریاتی کیلئے کارکنان کا بنی گالہ میں احتجاج بھی ہوا۔۲۲ سال کی انتھک محنت شائد خان صاحب کو تھکا دیاہے۔اپنے اسی جدوجہد میں وہ قوم کے اندر سیاسی شعور پیدا کر نے میں کامیاب بھی ہوا ہے مڈل کلاس اور تعلیم یافتہ لوگوں کو پاکستان کی سیاست میں دوبارہ لے آیا،لوگوں کو اس بات کا احساس دلانے میں کامیابی حاصل کر لی کہ ownership of the “public money پر عوام کو بولنے کا حق حاصل ہے۔
    لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک میں زیادہ تر لوگ خان سرکار کو ایک دفعہ مرکز میں دیکھنا چاہتے ہیں،عوام کو ان کی تقریروں میں وزن نظر آتا ہے۔لیکن کہنے اور کر نے میں زمیں آسمان کا فرق ہوتاہے۔کیا ان سب باتوں کو عملی جامہ پہنانے میں پاکستان تحریک انصاف کامیاب ہو پائے گا،کیا خان صاحب کی ٹیم میں اسلامی دنیا کی واحد سپر پاور کو لیڈ کرنے کی صلاحیت ہے۔کیا خان سرکار اپنے وعدے کے مطابق وزیراعظم ہاوس اور گورنر ہاوس کو لائیبری میں تبدیل کر سکتاہے۔کیا سویز بنکوں میں پڑے ہوئے پاکستان کی خزانے سے چرائے ہو ئے پیسے واپس لا سکتاہے۔کرپشن کا خاتمہ، دہشت گردی فرسودگی کے شکار اس نظام کو ختم کریگا۔ قومی سلامتی ،سماجی و معاشرتی ترقی کے کاموں میں بیرونی دباؤ کو حسب روایت قبول کیا جائے گا، یا ڈٹ کر ان کامقابلہ کرنا ہو گا ،ستر سال سے پاکستانی قوم بلادست طبقے کے استحصال ،بداعنوانی،ناانصافی اور ناقابل عمل پالیسوں کا شکار ہے، اس قوم کو اس شکنجے سے نکال لینا کو ئی آساں کام نہی۔معشیت کوغیر ضروری جکڑ بندیوں سے آزاد اور کھلی معشیت میں ڈھالنے کے لیے ایک قابل ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر پاکستان تحریک انصاف برسر اقتدار بھی آیا تو ایک مضبوط اپوزیشن کا سامنا کر نا پڑے گا شاید پاکستان تحریک کو ٹف ٹائیم دے گا۔کیونکہ پاکستان کے سیاست کے منجھے ہوئے اور پرانے کھلاڑیوں کا سامنا کرنا پٹرے گا۔جس میں آصف زرداری کی شاطر دماغ،میاں بر ادر اور کمپنی کے زیرک سیاسی چال،ہر قدم سوچ سمجھ کر رکھنا ہو گا۔
    پاکستان کی ترقی اور جناح کی پاکستان کے لیے خان سرکار کو مرکز میں ہی مضبوط ہونا ضروری ہے۔تبدیلی اور خوشحال پاکستان کے لیے قوم کے ہر فرد کو ساتھ لے چلنا ہو گا

  • error: Content is protected !!