Chitral Times

Nov 16, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • صوبے کی اپنی ٹرانسمیشن لائن …….محمد شریف شکیب

    July 16, 2018 at 7:23 pm

    خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں بجلی کی اپنی ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن لائنیں بچھانے پر غور شروع کردیا ہے۔ پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کو بتایا گیا کہ 2015میں سیلاب سے تباہ ہونے والے ریشن ہائیڈل پاور اسٹیشن کی بحالی کا کام فوری طور پر شروع کیا جائے گا۔جبکہ گولین گول بجلی گھر سے بجلی کی پیداوار خریدنے کے لئے واپڈا سے بات چیت جاری ہے۔ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ رواں سال 54میگاواٹ کے درال خوڑ اور رانولیا پاور پراجیکٹس سے بجلی کی پیداوار شروع ہوجائے گی۔صوبے کے دیہی علاقوں میں قائم 252چھوٹے بجلی گھر کمیونٹی کے حوالے کرنے کا طریقہ کار بھی وضع کیا جارہا ہے۔جہاں تک ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن لائنوں کی تبدیلی کا معاملہ ہے۔ یہ بجلی پیدا کرنے والے اداروں کے اولین ترجیح ہونی چاہئے تھی۔ لیکن واپڈا کا موقف ہے کہ مختلف وفاقی و صوبائی محکموں اور خود مختار اداروں کے ذمے اربوں روپے کے بقایاجات ہیں۔ اس لئے وسائل کی کمی کے باعث وہ ٹرانسمیشن لائنیں بچھانے سے قاصر ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو محکمے سالوں سے اپنے ذمے کروڑوں روپے کے واجبات ادا نہیں کررہے۔ ان سے اگر واپڈا ریکوری نہیں کرپاتی۔ تو ان کی بجلی کاٹ کیوں نہیں دی جاتی۔یہی شکوہ واپڈا کو بل نہ دینے والے شہریوں سے بھی ہے۔ جو لوگ ہر مہینے بینکوں کے سامنے دن بھر قطاروں میں لگ کر اپنا بل جمع کراتے ہیں۔ ان کا کنکشن ایک مہینے کا بل جمع نہ کرنے پر کاٹ دیا جاتا ہے۔ جو لوگ میٹر لگانے کے باوجود بل نہیں دیتے۔ یا کنڈے لگا کر بجلی حاصل کرتے ہیں۔ ان کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی جاتی۔ ناانصافی کا اندازہ لگائیں کہ جن علاقوں میں ریکوری کم ہوتی ہے ان علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھادیا جاتا ہے۔ پشاور کا بدقسمت علاقہ لالہ کلے بھی مقہور علاقوں میں شامل ہیں۔ اگرچہ یہاں کے سو فیصد لوگ اپنا بل ہر مہینے باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں لیکن نواحی علاقوں کے لوگ بل نہیں دیتے اور اکثر لوگوں نے کنڈے لگا رکھے ہیں جن کی سزا بل دینے والوں کو دی جارہی ہے۔ اس علاقے میں ہر گھنٹے بعد ایک گھنٹے کے لئے بجلی بند کی جاتی ہے اور گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہر پندرہ منٹ بعد بجلی بند کردی جاتی ہے یا بوسیدہ ٹرانسمیشن لائنیں لوڈ برداشت نہیں کرپاتیں۔کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا ریشن بجلی گھر 24جولائی 2015کے ہولناک سیلاب سے تباہ ہوا تھا۔ قیمتی مشینری اب بھی ملنے میں دھنسی ہوئی نظر آتی ہے۔ تین سال کا عرصہ گذرنے کے باوجود اس کی تعمیر نو شروع نہیں ہوسکی۔ گولین گول بجلی گھر سے دسمبر2017کو پیداوارشروع ہوگئی۔ وفاقی حکومت نے 108میگاواٹ کی بجلی میں سے 30میگاواٹ چترال کو دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ چار میگاواٹ کی صلاحیت والے ریشن بجلی گھر سے جو ٹرانسمیشن لائنیں بچھائی گئی تھیں۔ انہی لائنوں میں 30میگاواٹ کی بجلی چھوڑی جارہی ہے جس کی وجہ سے سسٹم ٹرپ کرنا روز کا معمول بن گیا ہے۔ 30میگاواٹ بجلی دستیاب ہونے کے باوجود چترال کے لوگ گذشتہ دو مہینوں سے بجلی سے محروم ہیں جس کی وجہ سے وہاں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔اگر اپر چترال میں ایک پارو ٹرانسفارمر لگایا جائے توعوام کا ایک بنیادی مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت اگرچہ اپنے ساڑھے تین سو ڈیم نہیں بناسکی تاہم 74میگاواٹ بجلی پیدا کرلی تھی۔ اور گذشتہ دوسالوں سے واپڈا حکام یہ بجلی خریدنے سے گریزاں ہیں اور اسے سیاسی ایشو کے طور پر اچھالا جارہا ہے۔ پیڈو کے اجلاس میں پرانی اور بوسیدہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن لائنیں بچھانے کا جو فیصلہ ہوا ہے۔ اس پر فوری عمل درآمد کی ضرورت ہے تاکہ دستیاب بجلی سے عوام مستفید ہوسکیں۔اور نئے منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی سسٹم میں آسکے۔ سابقہ حکمران جماعت انہی دعووں کے ساتھ عوام سے ووٹ مانگ رہی ہے کہ اس نے دس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی ہے ۔لیکن بوسیدہ تاروں اور ٹرانسفارمروں کی وجہ سے وہ بجلی عوام تک نہیں پہنچ پارہی ۔بجلی کی پیداوار بڑھانے کے دعوے جنگل میں مور ناچاکے مصداق ہے ۔جسے کسی نے نہیں دیکھا۔ قدرت نے ہمیں آبی ذخائر سے نہایت فیاضی سے نوازا ہے۔ صرف چترال میں بیس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ہے۔ مگر تیس میگاواٹ کا بوجھ سہارنے کی ہماری ٹرانسمیشن لائنوں میں سکت نہیں۔ متعلقہ حکام کو دیر سے ہی سہی۔ صوبے کی اپنی ڈسٹری بیوشن اور ٹرانسمیشن لائنیں بچھانے کا ٰخیال تو آگیا۔ اب اس خیال کو فوری طور پر عمل کا جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔

  • error: Content is protected !!