Chitral Times

Dec 11, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • صوبائی کابینہ کا اجلاس، ملازمتوں میں اقلیتوں کا کوٹہ تین سے بڑھاکر پانچ فیصد کرنے کی منظوری

    July 12, 2018 at 10:45 pm

    پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) صوبائی کابینہ نے ملازمتوں میں اقلیتوں کا کوٹہ 3 فیصد سے بڑھا کر 5 فیصد کرنے کی منظوری دیدی ہے جس کا باقاعدہ اعلامیہ جلد جاری کر دیا جائیگا۔نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) دوست محمد خان کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں نگران صوبائی وزراء، چیف سیکرٹری، ضم شدہ اضلاع کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور انتظامی سیکرٹریوں نے شرکت کی۔صوبائی کابینہ نے ضم شدہ 7اضلاع میں تیز تر ترقی یقینی بنانے اور انضمام کے ثمرات قبائلی عوام تک جلد از جلد پہنچانے کیلئے ایک نئے محکمے کے قیام پر تفصیلی غور وخوض کیا اور اس سلسلے میں کابینہ کی ایک سب کمیٹی تشکیل دی جو اپنی رپورٹ ایک ہفتے کے اندر اندر کابینہ کو پیش کرے گی۔اس اقدام کا مقصد نئی منتخب حکومت کیلئے پالیسی گائیڈلا ئنز مرتب کرنا ہے تاکہ قبائلی عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جا سکے اور ضم شدہ علاقوں کیلئے صوبائی ، مرکزی فنڈز کے ذریعے تمام شعبوں میں تیز ترترقی کیلئے راہ ہموار کی جا سکے۔ کابینہ نے اس سلسلے میں ڈونرز کی مالی معاونت حاصل کرنے کیلئے حکمت عملی مرتب کرنے سے بھی اتفاق کیا۔نگران وزیراعلیٰ نے اُن کے صوابدیدی فنڈز کے استعمال میں شفافیت لانے کیلئے رولز میں ضروری ترامیم کرنے اور اس کے لئے ایک صاف شفاف طریقہ کار مرتب کرنے کیلئے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں ۔ صوبائی کابینہ نے موسمیاتی تبدیلی، آبی وسائل میں ممکنہ کمی اور بحران سے نمٹنے کیلئے پانی کے ضیاع کو روکنے، آبی ذخائر میں اضافے کیلئے پالیسی وضع کرنے کی ہدایت بھی کی تاکہ مستقبل میں درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے بر وقت موثر منصوبہ بندی کی جا سکے۔کابینہ کو صوبے میں شامل ہونے والے نئے سات اضلاع کی ترقی اور بحالی کیلئے مجوزہ ترجیحاتی پلان پر بریفنگ دی گئی ۔ دوست محمد خان نے کہاکہ ان نئے اضلاع کو حقیقی معنوں میں ترقی کے دھارے میں لانے کیلئے تیز رفتار اقدامات کرنا ہوں گے تاہم اس سلسلے میں پہلا اور اہم ترین قدم وہاں کے عوام کو فوری ریلیف کی فراہمی ہے تاکہ اُن کا اعتماد بحال کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہاکہ شدت پسندی اور آفات سے متاثرہ نئے اضلا ع کیلئے معمول کی ترقیاتی سرگرمیاں کافی نہیں ہیں یہ ایک نہایت سنجیدہ مسئلہ ہے جسے ہم نظر انداز نہیں کر سکتے ۔ اجلاس میں نیشنل واٹر پالیسی 2018 اور صوبائی حکومت کی ذمہ داریوں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ نگران وزیراعلیٰ نے پانی کے بڑھتے ہوئے بحران کے پیش نظر اپنے پانی کے ذخائر کو مدنظر رکھ کر پالیسی مرتب کرنے کی ہدایت کی تاکہ آنے والی منتخب حکومت کی بھی رہنمائی کی جا سکے ۔ انہوں نے کہاکہ باہر ممالک میں پانی کا استعمال بڑی کفایت شعاری سے کیا جا رہا ہے اور استعمال شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنا کر باربار استعمال میں لایا جاتا ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں کوئی قاعدہ ضابطہ نہیں ہے ۔ اگر ہم نے اس اہم ترین قدرتی نعمت کی قدر نہ کی تو مستقبل قریب میں سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ سرکاری وسائل کا شفاف استعمال یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دوست محمد خان نے کہاکہ غریب سے غریب شہری بھی ٹیکس ادا کرتا ہے اُس ٹیکس سے جمع شدہ وسائل کی ایک پائی بھی غلط استعمال نہیں ہو نی چاہیئے ۔وسائل کے غلط استعمال کو روکنا سب کی ذمہ داری ہے ۔ ہم عوامی وسائل کی ایک ایک پائی کیلئے جوابدہ ہیں ۔ اُنہوں نے کہاکہ جمہوری نظام حکومت میں ریاست کا وزیر اعظم یا وزیراعلیٰ اپنی کابینہ کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے ۔ کابینہ اسمبلی کے سامنے جوابدہ ہے اور اسمبلی براہ راست عوام کو جوابدہ ہے ۔ اگر ہم اپنی ذمہ داریوں اور اختیارات سے وفا کریں تو کبھی بھی بجٹ میں خسارے کی نوبت نہ آئے ۔

  • error: Content is protected !!