Chitral Times

Sep 19, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • نہ آنا چاہو۔تو عذر لاکھوں ……….محمد شریف شکیب

    July 8, 2018 at 10:47 pm

    الیکشن کمیشن نے پانچ فیصد ٹکٹیں خواتین کو دینے والی پارٹیوں کی تفصیلات جاری کردی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی 43خواتین کو ٹکٹ دے کر حقوق نسواں کے اس مقابلے میں پہلے نمبر پر رہی۔جبکہ انہوں نے 642مرد امیدواروں کو ٹکٹ دیئے۔ تحریک انصاف 42ٹکٹوں کے ساتھ دوسرے پر رہی اس نے مردوں کی نشستوں پر سب سے زیادہ یعنی 769امیدوارو ں کو ٹکٹ جاری کئے اور مسلم لیگ ن خواتین کے لئے37 ٹکٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔سابق حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے پی ٹی آئی کے مقابلے میں کم حلقوں میں امیدوار کھڑے کئے ہیں ان کے مرد امیدواروں کی تعداد 639رہی۔ متحدہ مجلس عمل نے 33ٹکٹیں خواتین کو دے کر اپنے نکتہ چینوں میں سے بعض کو حیران اور بعض کو پریشان کردیاہے۔ اے این پی نے بھی چودہ ٹکٹ خواتین کو دے کر خواتین دوستی کا ثبوت دیاہے۔قومی وطن پارٹی نے 68مرد اور تین خواتین، مسلم لیگ ق نے 44مرد اور پانچ خواتین، جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی نے 39مرد اور ایک خاتون، عوامی راج پارٹی نے 44مرد اور دو خواتین، پاک سرزمین پارٹی نے 148مرد اور بارہ خواتین، ایم کیو ایم نے 94مرد اور چھ خواتین اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے 114مرد اور آٹھ خواتین کو ٹکٹ جاری کئے ہیں۔ہر پارٹی نے خواتین کے لئے مخصوص نشستوں پر دل کھول کر ٹکٹ جاری کئے ہیں۔لیکن ان نشستوں پر خواتین ارکان کا انتخاب ان کی جنرل نشستوں کی تعداد پر منحصر ہوگا۔ مردوں کی نگرانی میں ہونے والی حالیہ مردم شماری میں تو اس حقیقت کو دانستہ طورپر نظر اندازکیا گیا۔ تاہم باوثوق ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملک کی 51فیصد آبادی خواتین اور 49فیصد مردوں پر مشتمل ہے۔ ان پچاس فیصد سے بھی کم مردوں میں پچاس فیصد بچے شامل ہیں گویابالغ مردوں کی مجموعی آبادی پانچ چھ کروڑ بنتی ہے جو اکیس کروڑ کی مجموعی آبادی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ حالانکہ یہ طے پایاتھا کہ ہر شعبے میں خواتین کو ایک تہائی نمائندگی دی جائے گی۔ تمام مرد یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اور وہ عورت ماں، بیوی،بہن اور بیٹی بھی ہوسکتی ہے۔شادی شدہ حضرات اس عالمگیر صداقت سے سرمنہ انحراف نہیں کرسکتے کہ ان کے گھروں میں اصل حکمرانی خواتین کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ گھر کے باہر کی حکمرانی کو وہ کسی قیمت پر خواتین کے حوالے کرنے کو تیار نہیں۔انہیں یہ خدشہ ہے کہ اگر عورت سیاسی اقتدار پر بھی قابض ہوئی تو ملک میں عورت راج ہوگا۔ خواتین کو اقتدار سے دور رکھنے کی اپنی فطری خواہش کو چھپانے کے لئے وہ کبھی مذہب کا سہارا لے کر کہتے ہیں کہ دین میں عورت کی حکمرانی جائز نہیں۔ لیکن بے نظیر بھٹو کی حکومت میں فتوی جاری کرنے والے لوگوں کو اکثر وزیراعظم ہاوس میں اکثر آتے جاتے دیکھا گیا ہے۔ کچھ لوگ یہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ عورت گھر کی رانی ہے وہ نہیں چاہتے کہ عورت سیاست کے کھیل میں ملوث ہوکر اپنے نرم و نازک ہاتھ گندے کرے۔مردوں کی اکثریت یہ بات بھی جانتی ہے کہ عورت میں صبر، برداشت، رواداری، قناعت ، درگذر اور محبت کا جذبہ مردوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ ایک بار وہ اقتدار کی کرسی سے چمٹ گئی تو اسے ہٹانا مشکل ہوجائے گا۔ مردوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ حکمرانی سمیت ہر کام تو خواتین کے لئے ہی کرتے ہیں۔ جو کما کر لاتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ بہت سے سیاست دانوں نے نہ صرف اپنی بیشتر جائیدادیں بھی بیگمات کے نام کردی ہیں بلکہ ان کے نام پر اکاونٹ کھول کر سارا کالا دھن اسی میں جمع کررکھا ہے۔ تاکہ پکڑے جانے سے محفوظ رہا جاسکے۔ مرد سیاست دانوں کا موقف ہے کہ سیاست بہت محنت طلب اور جان جوکھوں کا کام ہے۔ اور وہ صنف نازک کو اس میں ملوث کرکے خوار کرنے کے روادار نہیں ہوسکتے۔غرض یہ کہ خواتین کو سیاست سے حتی الامکان دور رکھنے کے لئے جتنے جواز تراشے جاسکتے ہیں وہ سب تراشے گئے ہیں۔اس کے باوجود خواتین کے جذبہ سیاست کو سرد نہیں کیا جاسکا۔ بیچاری خواتین کو اسمبلیوں سے دور رکھنے کے لئے جتنے جواز پیش کئے گئے ہیں وہ تحفظ حقوق نسواں کے نیزدیک بلاجواز ہیں۔ان کے بقول مردوں کی اس بدنیتی کو اس شعر کے ذریعے واضح طور پر سمجھا جاسکتا ہے کہ ’’ جو آنا چاہو۔ ہزار رستے، نہ آیا چاہو تو عذر لاکھوں۔ ۔۔مزاج برہم ،طویل راستہ، برستی بارش ، خراب موسم۔

  • error: Content is protected !!